Chapter No 29-پارہ نمبر    ‹           The Cloaked One-74 سورت المدثر ›Ayah No-31 ایت نمبر
| وَ مَا جَعَلْنَاۤ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓئِكَةً١۪ وَّ مَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ اِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۙ لِیَسْتَیْقِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ یَزْدَادَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِیْمَانًا وَّ لَا یَرْتَابَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ۙ وَ لِیَقُوْلَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْكٰفِرُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ مَا هِیَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْبَشَرِ |
| آسان اُردو | اور ہم نے نہیں بنایا ماسوائے فرشتوں کو ہی آگ کے ساتھیوں کے لیے اور ہم نے نہیں بنائی ان (فرشتوں) کی تعداد ماسوائے ایک آزمائش ان کے لئے جو کفر کرتے ہیں؛ تاکہ جن (لوگوں) کو کتاب دی گی ہے یقین کر لیں، اور تاکہ مومنین ایمان زیادہ کر لیں؛ اور جن کو کتاب دی گی ہے اور ایمان والے شک نہ کریں؛ اور تاکہ وہ جن کے دلوں میں بیماری ہے، اور کافرین،کہیں: (کہ) اللہ کا اس مثال سے کیا ارادہ ہے؟ اسطرح وہ گمراہ کر دیتا ہے جس کو چاہتا ہے،اور وہ ہدایت دے دیتا ہے جس کو چاہتا ہے. اور آپﷺ کے رب کے لشکروں کو کوئی نہیں جانتا ماسوائے اُسی کے. اور یہ(قرآن یا بیان) نہیں ہے ماسوائے فانی انسانوں کے لئے نصیحت کے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | اور ہم نے دوزخ کے یہ کارندے کوئی اور نہیں، فرشتے مقرر کیے ہیں۔ اور ان کی جو تعداد مقرر کی ہے وہ صرف اس لیئے کہ اس کے ذریعے کافروں کی آزمائش ہو، تاکہ اہل کتاب کو یقین آجائے اور جو لوگ ایمان لاچکے ہیں ان کے ایمان میں اور اضافہ ہو، اور اہل کتاب اور مومن لوگ کسی شک میں نہ پڑیں، اور تاکہ وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے اور جو لوگ کافر ہیں، وہ یہ کہیں کہ بھلا اس عجیب سی بات سے اللہ کی کیا مراد ہے ؟ اسی طرح اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے، اور تمہارے پروردگار کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور یہ ساری بات تو نوع بشر کے لیے ایک یاد دہانی کرانے والی نصیحت ہے اور بس۔ |
| ابو الاعلی مودودی | ہم نے دوزخ کے یہ کارکن فرشتے بنائے ہیں، اور ان کی تعداد کو کافروں کے لیے فتنہ بنا دیا ہے، تاکہ اہل کتاب کو یقین آ جائے اور ایمان لانے والوں کا ایمان بڑھے، اور اہل کتاب اور مومنین کسی شک میں نہ رہیں، اور دل کے بیمار اور کفار یہ کہیں کہ بھلا اللہ کا اِس عجیب بات سے کیا مطلب ہو سکتا ہے اِس طرح اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت بخش دیتا ہے اور تیرے رب کے لشکروں کو خود اُس کے سوا کوئی نہیں جانتا اور اس دوزخ کا ذکر اِس کے سوا کسی غرض کے لیے نہیں کیا گیا ہے کہ لوگوں کو اس سے نصیحت ہو |
| احمد رضا خان | اور ہم نے دوزخ کے داروغہ نہ کیے مگر فرشتے، اور ہم نے ان کی یہ گنتی نہ رکھی مگر کافروں کی جانچ کو اس لیے کہ کتاب والوں کو یقین آئے اور ایمان والوں کا ایمان بڑھے اور کتاب والوں اور مسلمانوں کو کوئی شک نہ رہے اور دل کے روگی (مریض) اور کافر کہیں اس اچنبھے کی بات میں اللہ کا کیا مطلب ہے، یونہی اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہے اور ہدایت فرماتا ہے جسے چاہے، اور تمہارے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور وہ تو نہیں مگر آدمی کے لیے نصیحت، |
| احمد علی | اور ہم نے دوزخ پر فرشتے ہی رکھے ہیں اور ان کی تعداد کافروں کے لیے آزمائش بنائی ہے تاکہ جن کو کتاب دی گئی ہے وہ یقین کر لیں اور ایمان داروں کا ایمان بڑھے اورتاکہ اہلِ کتاب اور ایمان دار شک نہ کریں اور تاکہ جن کے دلوں میں (نفاق کی) بیماری ہے اورکافر یہ کہیں کہ الله کی اس بیان سے کیاغرض ہے اور الله اس طرح سے جسے چاہتاہے گمراہ کر تا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے اور آپ کے رب کے لشکروں کو اس کے سوا اور کوئی نہیں جانتا اور دوزخ (کا حال بیان کرنا) صرف آدمیوں کی نصیحت کے لیے ہے |
| فتح جالندھری | اور ہم نے دوزخ کے داروغہ فرشتے بنائے ہیں۔ اور ان کا شمار کافروں کی آزمائش کے لئے مقرر کیا ہے (اور) اس لئے کہ اہل کتاب یقین کریں اور مومنوں کا ایمان اور زیادہ ہو اور اہل کتاب اور مومن شک نہ لائیں۔ اور اس لئے کہ جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے اور (جو) کافر (ہیں) کہیں کہ اس مثال (کے بیان کرنے) سے خدا کا مقصد کیا ہے؟ اسی طرح خدا جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے اور تمہارے پروردگار کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور یہ تو بنی آدم کے لئے نصیحت ہے |
| طاہر القادری | اور ہم نے دوزخ کے داروغے صرف فرشتے ہی مقرر کئے ہیں اور ہم نے ان کی گنتی کافروں کے لئے محض آزمائش کے طور پر مقرر کی ہے تاکہ اہلِ کتاب یقین کر لیں (کہ قرآن اور نبوتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حق ہے کیونکہ ان کی کتب میں بھی یہی تعداد بیان کی گئی تھی) اور اہلِ ایمان کا ایمان (اس تصدیق سے) مزید بڑھ جائے، اور اہلِ کتاب اور مومنین (اس کی حقانیت میں) شک نہ کر سکیں، اور تاکہ وہ لوگ جن کے دلوں میں (نفاق کی) بیماری ہے اور کفار یہ کہیں کہ اس (تعداد کی) مثال سے اللہ کی مراد کیا ہے؟ اسی طرح اللہ (ایک ہی بات سے) جسے چاہتا ہے گمراہ ٹھہراتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت فرماتا ہے، اور آپ کے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور یہ (دوزخ کا بیان) اِنسان کی نصیحت کے لئے ہی ہے، |
| علامہ جوادی | اور ہم نے جہنمّ کا نگہبان صرف فرشتوں کو قرار دیا ہے اور ان کی تعداد کو کفار کی آزمائش کا ذریعہ بنادیا ہے کہ اہل کتاب کو یقین حاصل ہوجائے اور ایمان والوں کے ایمان میں اضافہ ہوجائے اور اہل کتاب یا صاحبانِ ایمان اس کے بارے میں کسی طرح کا شک نہ کریں اور جن کے دلوں میں مرض ہے اور کفار یہ کہنے لگیں کہ آخر اس مثال کا مقصد کیا ہے اللہ اسی طرح جس کو چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے اور اس کے لشکروں کو اس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ہے یہ تو صرف لوگوں کی نصیحت کا ایک ذریعہ ہے |
| ایم جوناگڑھی | ہم نے دوزخ کے داروغے صرف فرشتے رکھے ہیں۔ اور ہم نے ان کی تعداد صرف کافروں کی آزمائش کے لیے مقرر کی ہے تاکہ اہل کتاب یقین کرلیں، اوراہل ایمان کے ایمان میں اضافہ ہو جائے اور اہل کتاب اور اہل ایمان شک نہ کریں اور جن کے دلوں میں بیماری ہے وه اور کافر کہیں کہ اس بیان سے اللہ تعالیٰ کی کیا مراد ہے؟ اسی طرح اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراه کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، یہ تو کل بنی آدم کے لیے سراسر پند ونصیحت ہے |
| حسین نجفی | اور ہم نے دوزخ کے داروغے صرف فرشتے بنائے ہیں اور ہم نے ان کی تعداد کو کافروں کیلئے آزمائش کا ذریعہ بنایا ہے تاکہ اہلِ کتاب یقین کریں اور اہلِ ایمان کے ایمان میں اضافہ ہو جائے اور اہلِ کتاب اور اہلِ ایمان شک و شبہ نہ کریں اور جن کے دلوں میں بیماری ہے اور کافر لوگ کہیں گے کہ اس بیان سے اللہ کی کیا مراد ہے؟ اسی طرح اللہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور یہ (دوزخ کا) بیان نہیں ہے مگر انسانوں کے لئے نصیحت۔ |
| M.Daryabadi: | And We have appointed none but the angels to be wardens of the Fire. And their number we have made only a trial for those who disbelieve, so that those who are vouchsafed the Book may be convinced, and that those who believe may increase in faith, and that those who are vouchsafed the Book and the believers may not doubt, and that those in whose hearts is a disease and the infidels may say: what meaneth Allah by this description! In this wise Allah sendeth astray whomsoever He will, and guideth whomsoever He will. And none knoweth the hosts of thy Lord but He. And it is naught but an admonition Unto man. |
| M.M.Pickthall: | We have appointed only angels to be wardens of the Fire, and their number have We made to be a stumbling-block for those who disbelieve; that those to whom the Scripture hath been given may have certainty, and that believers may increase in faith; and that those to whom the Scripture hath been given and believers may not doubt; and that those in whose hearts there is disease, and disbelievers, may say: What meaneth Allah by this similitude? Thus Allah sendeth astray whom He will, and whom He will He guideth. None knoweth the hosts of thy Lord save Him. This is naught else than a Reminder unto mortals. |
| Saheeh International: | And We have not made the keepers of the Fire except angels. And We have not made their number except as a trial for those who disbelieve - that those who were given the Scripture will be convinced and those who have believed will increase in faith and those who were given the Scripture and the believers will not doubt and that those in whose hearts is hypocrisy and the disbelievers will say, "What does Allah intend by this as an example?" Thus does Allah leave astray whom He wills and guides whom He wills. And none knows the soldiers of your Lord except Him. And mention of the Fire is not but a reminder to humanity. |
| Shakir: | And We have not made the wardens of the fire others than angels, and We have not made their number but as a trial for those who disbelieve, that those who have been given the book may be certain and those who believe may increase in faith, and those who have been given the book and the believers may not doubt, and that those in whose hearts is a disease and the unbelievers may say: What does Allah mean by this parable? Thus does Allah make err whom He pleases, and He guides whom He pleases, and none knows the hosts of your Lord but He Himself; and this is naught but a reminder to the mortals. |
| Yusuf Ali: | And We have set none but angels as Guardians of the Fire; and We have fixed their number only as a trial for Unbelievers,- in order that the People of the Book may arrive at certainty, and the Believers may increase in Faith,- and that no doubts may be left for the People of the Book and the Believers, and that those in whose hearts is a disease and the Unbelievers may say, "What symbol doth Allah intend by this?" Thus doth Allah leave to stray whom He pleaseth, and guide whom He pleaseth: and none can know the forces of thy Lord, except He and this is no other than a warning to mankind. |
آیت کے متعلق اہم نقاط
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
علمی ایت