Chapter No 8-پارہ نمبر    ‹       The Heights-7 سورت الاعراف ›Ayah No-77 ایت نمبر
| فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَ عَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ وَ قَالُوْا یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ |
| آسان اُردو | پھر اُنہوں نے اونٹنی کو معذور کر دیا اور اپنے رب کے حکم سے نافرمانی کی، اور اُنہوں نے کہا: اے صالح ؑ ! اگر تم رسولوں میں سے ہو تو لے آﺅ اب ہم پر وہ (عذاب) جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | چنانچہ انہوں نے اونٹنی کو مارڈالا اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی، اور کہا : صالح ! اگر تم واقعی ایک پیغمبر ہو تو لے آؤ وہ (عذاب) جس کی ہمیں دھمکی دیتے ہو۔ |
| ابو الاعلی مودودی | پھر انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈالا اور پورے تمرد کے ساتھ اپنے رب کے حکم کی خلاف ورزی کر گزرے، اور صالحؑ سے کہہ دیا کہ لے آ وہ عذاب جس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے اگر تو واقعی پیغمبروں میں سے ہے |
| احمد رضا خان | پس ناقہ کی کُوچیں کاٹ دیں اور اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی اور بولے اے صالح! ہم پر لے آؤ جس کا تم سے وعد دے رہے ہو اگر تم رسول ہو، |
| احمد علی | پھر اونٹنی کے پاؤں کاٹ ڈالے اور اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی اور کہا اے صالح لے آ ہم پر جس سے تو ہمیں ڈراتا تھا اگر تو رسول ہے |
| فتح جالندھری | آخر انہوں نے اونٹی (کی کونچوں) کو کاٹ ڈالا اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی اور کہنے لگے کہ صالح! جس چیز سے تم ہمیں ڈراتے تھے اگر تم (خدا کے) پیغمبر ہو تو اسے ہم پر لے آؤ |
| طاہر القادری | پس انہوں نے اونٹنی کو (کاٹ کر) مار ڈالا اور اپنے ربّ کے حکم سے سرکشی کی اور کہنے لگے: اے صالح! تم وہ (عذاب) ہمارے پاس لے آؤ جس کی تم ہمیں وعید سناتے تھے اگر تم (واقعی) رسولوں میں سے ہو، |
| علامہ جوادی | پھر یہ کہہ کر ناقہ کے پاؤں کاٹ دئیے اور حکم خدا سے سرتابی کی اور کہا کہ صالح علیھ السّلاماگر تم خدا کے رسول ہو تو جس عذاب کی دھمکی دے رہے تھے اسے لے آؤ |
| ایم جوناگڑھی | پس انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈاﻻ اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی اور کہنے لگے کہ اے صالح! جس کی آپ ہم کو دھمکی دیتے تھے اس کو منگوائیے اگر آپ پیغمبر ہیں |
| حسین نجفی | پھر انہوں نے اس اونٹنی کو پئے کر دیا (اس کی کونچیں کاٹ دیں) اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی و سرتابی کی اور کہا اے صالح! اگر تم رسولوں میں سے ہو تو پھر ہمارے پاس لاؤ وہ (عذاب) جس کی ہمیں دھمکی دیتے ہو۔ |
| M.Daryabadi: | Then they hamstrung the she camel and disdained the commandment of their Lord, and said: Salih! bring upon us that wherewith thou hast threatened us if thou art in sooth of the sent ones. |
| M.M.Pickthall: | So they hamstrung the she-camel, and they flouted the commandment of their Lord, and they said: O Salih! Bring upon us that thou threatenest if thou art indeed of those sent (from Allah). |
| Saheeh International: | So they hamstrung the she-camel and were insolent toward the command of their Lord and said, "O Salih, bring us what you promise us, if you should be of the messengers." |
| Shakir: | So they slew the she-camel and revolted against their Lord's commandment, and they said: O Salih! bring us what you threatened us with, if you are one of the apostles. |
| Yusuf Ali: | Then they ham-strung the she-camel, and insolently defied the order of their Lord, saying: "O Salih! bring about thy threats, if thou art a messenger (of Allah)!" |
آیت کے متعلق اہم نقاط
ایت کا پچھلی ایت یا ایات سے تسلسل ہے
تاریخی ایت
صالح ؐ اور ان کی قوم ثمود