اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 8-پارہ نمبر          The Heights-7 سورت الاعراف Ayah No-51 ایت نمبر

الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَهْوًا وَّ لَعِبًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ نَنْسٰهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَآءَ یَوْمِهِمْ هٰذَا١ۙ وَ مَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ
آسان اُردو جو اپنے دین (مذہب) کو مذاق اور کھیل تماشا بناتے تھے، اور ان کو دنیاوی زندگی نے دھوکہ دیا ہوا تھا پھر آج ہم اُن کو بھول گے ہیں جیسے وہ اس اپنے دن کی ملاقات کو (اپنی دنیاوی زندگی میں) بھول چکے تھے اور جووہ ہماری آیات سے انکار کیا کرتے تھے
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا رکھا تھا، اور جن کو دنیوی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا تھا۔ چنانچہ آج ہم بھی ان کو اسی طرح بھلا دیں گے جیسے وہ اس بات کو بھلائے بیٹھے تھے کہ انہیں اس دن کا سامنا کرنا ہے اور جیسے وہ ہماری آیتوں کا کھلم کھلا انکار کیا کرتے تھے۔
ابو الاعلی مودودی جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تفریح بنا لیا تھا اور جنہیں دنیا کی زندگی نے فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اللہ فرماتا ہے کہ آج ہم بھی انہیں اسی طرح بھلا دیں گے جس طرح وہ اِس دن کی ملاقات کو بھولے رہے اور ہماری آیتوں کا انکار کرتے رہے"
احمد رضا خان جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنایا اور دنیا کی زیست نے انہیں فریب دیا تو آج ہم انہیں چھوڑ دیں گے جیسا انہوں نے اس دن کے ملنے کا خیال چھوڑا تھا اور جیسا ہماری آیتوں سے انکار کرتے تھے،
احمد علی جنہوں نے اپنا دین تماشا اور کھیل بنایا اور انہیں دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا ہے سو آج ہم انہیں بھلا دیں گے جس طرح انہوں نے اس دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا اور جیسا وہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے تھے
فتح جالندھری جنہوں نے اپنے دین کو تماشا اور کھیل بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ تو جس طرح یہ لوگ اس دن کے آنے کو بھولے ہوئے اور ہماری آیتوں سے منکر ہو رہے تھے۔ اسی طرح آج ہم بھی انہیں بھلا دیں گے
طاہر القادری جنہوں نے اپنے دین کو تماشا اور کھیل بنا لیا اور جنہیں دنیوی زندگی نے فریب دے رکھا تھا، آج ہم انہیں اسی طرح بھلا دیں گے جیسے وہ (ہم سے) اپنے اس دن کی ملاقات کو بھولے ہوئے تھے اور جیسے وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے،
علامہ جوادی جن لوگوں نے اپنے دین کو کھیل تماشہ بنالیا تھا اور انہیں زندگانی دنیا نے دھوکہ دے دیا تھا تو آج ہم انہیں اسی طرح بھلادیں گے جس طرح انہوں نے آج کے دن کی ملاقات کو بھلادیا تھا اور ہماری آیات کا دیدہ و دانستہ انکار کررہے تھے
ایم جوناگڑھی جنہوں نے دنیا میں اپنے دین کو لہو ولعب بنا رکھا تھا اور جن کو دنیاوی زندگی نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا۔ سو ہم (بھی) آج کے روز ان کا نام بھول جائیں گے جیسا کہ وه اس دن کو بھول گئے اور جیسا یہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے
حسین نجفی جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشہ بنا لیا تھا اور جنہیں زندگانئ دنیا نے دھوکہ دیا تھا آج ہم بھی انہیں اسی طرح بھلا دیں گے جس طرح انہوں نے آج کے اس دن کی حاضری کو بھلا دیا تھا۔ اور جیسے وہ ہماری آیتوں کو برابر جھٹلاتے رہے تھے۔
=========================================
M.Daryabadi: Who took their religion as a sport and a play and whom the life of the world beguiled. So today We will forget them even as they forget the meeting of this their Day and as they were ever gainsaying Our signs.
M.M.Pickthall: Who took their religion for a sport and pastime, and whom the life of the world beguiled. So this day We have forgotten them even as they forgot the meeting of this their Day and as they used to deny Our tokens.
Saheeh International: Who took their religion as distraction and amusement and whom the worldly life deluded." So today We will forget them just as they forgot the meeting of this Day of theirs and for having rejected Our verses.
Shakir: Who take their religion for an idle sport and a play and this life's world deceives them; so today We forsake them, as they neglected the meeting of this day of theirs and as they denied Our communications.
Yusuf Ali: "Such as took their religion to be mere amusement and play, and were deceived by the life of the world." That day shall We forget them as they forgot the meeting of this day of theirs, and as they were wont to reject Our signs.
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
کافرین کی تعریف کی گئی ہے جو دنیاوی زندگی میں دین کو کھیل و تماشہ بناتے ہیں اور دنیاوی زندگی کے دھوکے میں ہی رہتے ہیں