Chapter No 8-پارہ نمبر    ‹       The Heights-7 سورت الاعراف ›Ayah No-50 ایت نمبر
| وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ النَّارِ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ اَفِیْضُوْا عَلَیْنَا مِنَ الْمَآءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ |
| آسان اُردو | اور آگ کے ساتھی جنت کے ساتھیوں کوپکاریں گے کہ ہم پر بھی پانی سے بہا دویا جو( رزق) اللہ نے تمہیں دیا ہے وہ (جنتی ) کہتے ہیں: بے شک! اللہ نے ان دونوں (چیزوں) کوکافروں(نہ ماننے والوں) پر حرام کر دیا ہے، |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | اور دوزخ والے جنت والوں سے کہیں گے کہ : ہم پر تھوڑا سا پانی ہی ڈال دو ، یا اللہ نے تمہیں جو نعمتیں دی ہیں، ان کا کوئی حصہ (ہم تک بھی پہنچا دو) وہ جواب دیں گے کہ : اللہ نے یہ دونوں چیزیں ان کافروں پر حرام کردی ہیں۔ |
| ابو الاعلی مودودی | اور دوزخ کے لوگ جنت والوں کو پکاریں گے کہ کچھ تھوڑا سا پانی ہم پر ڈال دو یا جو رزق اللہ نے تمہیں دیا ہے اُسی میں سے کچھ پھینک دو وہ جواب دیں گے کہ "اللہ نے یہ دونوں چیزیں اُن منکرین حق پر حرام کر دی ہیں |
| احمد رضا خان | اور دوزخی بہشتیوں کو پکاریں گے کہ ہمیں اپنے پانی کا فیض دو یا اس کھانے کا جو اللہ نے تمہیں دیا کہیں گے بیشک اللہ نے ان دونوں کو کافروں پر حرام کیا ہے |
| احمد علی | اور دوزخ والے بہشت والوں کو پکاریں گے کہ ہم پر تھوڑا سا پانی بہا دو یا کچھ اس چیز میں سے دو جو تمہیں الله نے رزق دیا ہے کہیں گے بے شک الله نے انہیں دونوں چیزوں کو کافروں پر حرام کیا ہے |
| فتح جالندھری | اور وہ دوزخی بہشتیوں سے (گڑگڑا کر) کہیں گے کہ کسی قدر ہم پر پانی بہاؤ یا جو رزق خدا نے تمہیں عنایت فرمایا ہے ان میں سے (کچھ ہمیں بھی دو) وہ جواب دیں گے کہ خدا نے بہشت کا پانی اور رزق کافروں پر حرام کر دیا ہے |
| طاہر القادری | اور دوزخ والے اہلِ جنت کو پکار کر کہیں گے کہ ہمیں (جنّتی) پانی سے کچھ فیض یاب کر دو یا اس (رزق) میں سے جو اﷲ نے تمہیں بخشا ہے۔ وہ کہیں گے: بیشک اﷲ نے یہ دونوں (نعمتیں) کافروں پر حرام کر دی ہیں، |
| علامہ جوادی | اور جہّنم والے جنّت والوں سے پکار کر کہیں گے کہ ذرا ٹھنڈا پانی یا خدا نے جو رزق تمہیں دیا ہے اس میں سے ہمیں بھی پہنچاؤ تو وہ لوگ جواب دیں گے کہ ان چیزوں کو اللہ نے کافروں پر حرام کردیا ہے |
| ایم جوناگڑھی | اور دوزخ والے جنت والوں کو پکاریں گے، کہ ہمارےاوپر تھوڑا پانی ہی ڈال دو یا اور ہی کچھ دے دو، جو اللہ نے تم کو دے رکھا ہے۔ جنت والے کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں چیزوں کی کافروں کے لئے بندش کردی ہے |
| حسین نجفی | اور دوزخ والے بہشت والوں کو پکاریں گے کہ تھوڑا سا پانی یا جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تمہیں کھانے کو عطا فرمایا ہے اس میں سے کچھ ہماری طرف انڈیل دو وہ (جواب میں) کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں چیزیں کافروں پر حرام کر دی ہیں۔ |
| M.Daryabadi: | And the fellows of the Fire will cry unto the fellows of the Garden: pour out on us water or aught wherewith Allah hath provided you. They will say verily Allah hath forbidden it unto infidels. |
| M.M.Pickthall: | And the dwellers of the Fire cry out unto the dwellers of the Garden: Pour on us some water or some wherewith Allah hath provided you. They say: Lo! Allah hath forbidden both to disbelievers (in His guidance), |
| Saheeh International: | And the companions of the Fire will call to the companions of Paradise, "Pour upon us some water or from whatever Allah has provided you." They will say, "Indeed, Allah has forbidden them both to the disbelievers." |
| Shakir: | And the inmates of the fire shall call out to the dwellers of the garden, saying: Pour on us some water or of that which Allah has given you. They shall say: Surely Allah has prohibited them both to the unbelievers. |
| Yusuf Ali: | The Companions of the Fire will call to the Companions of the Garden: "Pour down to us water or anything that Allah doth provide for your sustenance." They will say: "Both these things hath Allah forbidden to those who rejected Him." |
آیت کے متعلق اہم نقاط
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
اہل جنت اور دوزخی لوگوں کے بارے میں ہے جو وہ وہاں باتیں کریں گے
مستقبل کی بات یعنی مرنے کے بعد دوسری زندگی کے بارے میں بتایا گیا ہے