Chapter No 29-پارہ نمبر    ‹                    The Reality-69 سورت الحاقۃ ›Ayah No-4 ایت نمبر
| كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَ عَادٌۢ بِالْقَارِعَةِ |
| آسان اُردو | ثمود اور عاد (قبیلوں) نے اچانک ٹوٹ پڑنے والی آفت کو جھٹلایا |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | ثمود اور عاد کی قوموں نے اسی جھنجوڑ ڈالنے والی حقیقت کو جھٹلایا تھا۔ |
| ابو الاعلی مودودی | ثمود اور عاد نے اُس اچانک ٹوٹ پڑنے والی آفت کو جھٹلایا |
| احمد رضا خان | ثمود اور عاد نے اس سخت صدمہ دینے والی کو جھٹلایا، |
| احمد علی | ثمود اور عاد نے قیامت کو جھٹلایا تھا |
| فتح جالندھری | کھڑکھڑانے والی (جس) کو ثمود اور عاد (دونوں) نے جھٹلایا |
| طاہر القادری | ثمود اور عاد نے (جملہ موجودات کو) باہمی ٹکراؤ سے پاش پاش کر دینے والی (قیامت) کو جھٹلایا تھا، |
| علامہ جوادی | قوم ثمود و عاد نے اس کھڑ کھڑانے والی کا انکار کیا تھا |
| ایم جوناگڑھی | اس کھڑکا دینے والی کو ﺛمود اور عاد نے جھٹلا دیا تھا |
| حسین نجفی | قبیلۂ ثمود اور عاد نے کھڑکھڑانے والی (قیامت) کو جھٹلایا۔ |
| M.Daryabadi: | The tribes of Thamud and 'Aad belied the Striking Day. |
| M.M.Pickthall: | (The tribes of) Thamud and A'ad disbelieved in the judgment to come. |
| Saheeh International: | Thamud and 'Aad denied the Striking Calamity. |
| Shakir: | Samood and Ad called the striking calamity a lie. |
| Yusuf Ali: | The Thamud and the 'Ad People (branded) as false the Stunning Calamity! |
آیت کے متعلق اہم نقاط
منفرد ایت
تاریخی ایت