Chapter No 29-پارہ نمبر    ‹                    The Pen-68 سورت القلم ›Ayah No-25 ایت نمبر
| وَّ غَدَوْا عَلٰى حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ |
| آسان اُردو | اور صبح سویرے وہ (باغ کی طرف)گے(اپنے) مقصد پر طاقت رکھتے ہوئے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | اور وہ بڑے زوروں میں تیز تیز چلتے ہوئے نکلے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | وہ کچھ نہ دینے کا فیصلہ کیے ہوئے صبح سویرے جلدی جلدی اِس طرح وہاں گئے جیسے کہ وہ (پھل توڑنے پر) قادر ہیں |
| احمد رضا خان | اور تڑکے چلے اپنے اس ارادہ پر قدرت سمجھتے |
| احمد علی | اور وہ سویرے ہی بڑے اہتمام سے پھل توڑنے کی قدرت کا خیال کر کے چل پڑے |
| فتح جالندھری | اور کوشش کے ساتھ سویرے ہی جا پہنچے (گویا کھیتی پر) قادر ہیں |
| طاہر القادری | اور وہ صبح سویرے (پھل کاٹنے اور غریبوں کو اُن کے حصہ سے محروم کرنے کے) منصوبے پر قادِر بنتے ہوئے چل پڑے، |
| علامہ جوادی | اور روک تھام کا بندوبست کرکے صبح سویرے پہنچ گئے |
| ایم جوناگڑھی | اور لپکے ہوئے صبح صبح گئے۔ (سمجھ رہے تھے) کہ ہم قابو پاگئے |
| حسین نجفی | اور وہ اس (مسکین کو کچھ نہ دینے) پر قادر سمجھ کر نکلے۔ |
| M.Daryabadi: | And they went out betimes determined in purpose. |
| M.M.Pickthall: | They went betimes, strong in (this) purpose. |
| Saheeh International: | And they went early in determination, [assuming themselves] able. |
| Shakir: | And in the morning they went, having the power to prevent. |
| Yusuf Ali: | And they opened the morning, strong in an (unjust) resolve. |
آیت کے متعلق اہم نقاط
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
باغات کے مالکان کے بارے میں