Chapter No 27-پارہ نمبر    ‹                   The Event-56 سورت الواقعۃ ›Ayah No-83 ایت نمبر
| فَلَوْ لَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَۙ |
| آسان اُردو | پھرکیوں، جب (کسی کی روح، جان مرتے وقت) گلے میں آ جاتی ہے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | پھر ایسا کیوں نہیں ہوتا ہے کہ جب (کسی کی) جان گلے تک پہنچ جاتی ہے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | تو جب مرنے والے کی جان حلق تک پہنچ چکی ہوتی ہے |
| احمد رضا خان | پھر کیوں نہ ہو جب جان گلے تک پہنچے |
| احمد علی | پھر کس لیے روح کو روک نہیں لیتے جب کہ وہ گلے تک آ جاتی ہے |
| فتح جالندھری | بھلا جب روح گلے میں آ پہنچتی ہے |
| طاہر القادری | پھر کیوں نہیں (روح کو واپس لوٹا لیتے) جب وہ (پرواز کرنے کے لئے) حلق تک آپہنچتی ہے، |
| علامہ جوادی | پھر ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ جب جان گلے تک پہنچ جائے |
| ایم جوناگڑھی | پس جبکہ روح نرخرے تک پہنچ جائے |
| حسین نجفی | (اگر تم کسی کے محکوم نہیں) تو جب (مرنے والے کی) روح حلق تک پہنچ جاتی ہے۔ |
| M.Daryabadi: | Wherefore then - when the soul cometh up to the wind-pipe - |
| M.M.Pickthall: | Why, then, when (the soul) cometh up to the throat (of the dying) |
| Saheeh International: | Then why, when the soul at death reaches the throat |
| Shakir: | Why is it not then that when it (soul) comes up to the throat, |
| Yusuf Ali: | Then why do ye not (intervene) when (the soul of the dying man) reaches the throat,- |
آیت کے متعلق اہم نقاط
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
قران کی عظمت اور سچائی کے بارے میں