Chapter No 27-پارہ نمبر    ‹                   The Event-56 سورت الواقعۃ ›Ayah No-75 ایت نمبر
| فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِۙ |
| آسان اُردو | پھرنہیں، میں ستاروں کی جگہ کی قسم کھاتا ہوں۔۔ |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | اب میں ان جگہوں کی قسم کھا کر کہتا ہوں جہاں ستارے گرتے ہیں۔ |
| ابو الاعلی مودودی | پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں تاروں کے مواقع کی |
| احمد رضا خان | تو مجھے قسم ہے ان جگہوں کی جہاں تارے ڈوبتے ہیں |
| احمد علی | پھر میں تاروں کے ڈوبنے کی قسم کھاتا ہوں |
| فتح جالندھری | ہمیں تاروں کی منزلوں کی قسم |
| طاہر القادری | پس میں اُن جگہوں کی قَسم کھاتا ہوں جہاں جہاں قرآن کے مختلف حصے (رسولِ عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر) اترتے ہیں٭، ٭ یہ ترجمہ حضرت عبد اللہ بن عباس کے بیان کردہ معنی پر کیا گیا ہے، مزید حضرت عکرمہ، حضرت مجاہد، حضرت عبد اللہ بن جبیر، حضرت سدی، حضرت فراء اور حضرت زجاج رضی اللہ عنھم اور دیگر ائمہ تفسیر کا قول بھی یہی ہے؛ اور سیاقِ کلام بھی اسی کا تقاضا کرتا ہے۔ پیچھے سورۃ النجم میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نجم کہا گیا ہے، یہاں قرآن کی سورتوں کو نجوم کہا گیا ہے۔ حوالہ جات کے لئے ملاحظہ کریں: تفسیر بغوی، خازن، طبری، الدر المنثور، الکشاف، تفسیر ابن ابی حاتم، روح المعانی، ابن کثیر، اللباب، البحر المحیط، جمل، زاد المسیر، فتح القدیر، المظہری، البیضاوی، تفسیر ابی سعود اور مجمع البیان۔ |
| علامہ جوادی | اور میں تو تاروں کے منازل کی قسم کھاکر کہتا ہوں |
| ایم جوناگڑھی | پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کی |
| حسین نجفی | پس میں ستاروں کے (ڈو بنے کے) مقامات کی قَسم کھاتا ہوں۔ |
| M.Daryabadi: | I swear by the setting of the stars - |
| M.M.Pickthall: | Nay, I swear by the places of the stars - |
| Saheeh International: | Then I swear by the setting of the stars, |
| Shakir: | But nay! I swear by the falling of stars; |
| Yusuf Ali: | Furthermore I call to witness the setting of the Stars,- |
آیت کے متعلق اہم نقاط
منفرد ایت