اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 27-پارہ نمبر           The Winnowing Winds-51 سورت الذریٰت Ayah No-38 ایت نمبر

وَ فِیْ مُوْسٰۤى اِذْ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى فِرْعَوْنَ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ
آسان اُردو اور موسی ؑ میں (بھی ایک نشانی ہے) جب ہم نے اُس کو فرعون کی طرف ایک واضح سند (ثبوت) سے روانہ کیا
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی اور موسیٰ (کے واقعے) میں بھی (ہم نے ایسی ہی نشانی چھوڑی تھی) جب ہم نے انہیں ایک کھلی ہوئی دلیل کے ساتھ فرعون کے پاس بھیجا تھا۔
ابو الاعلی مودودی اور (تمہارے لیے نشانی ہے) موسیٰؑ کے قصے میں جب ہم نے اُسے صریح سند کے ساتھ فرعون کے پاس بھیجا
احمد رضا خان اور موسیٰ میں جب ہم نے اسے روشن سند لے کر فرعون کے پاس بھیجا
احمد علی اور موسیٰ کے قصہ میں بھی عبرت ہے جب کہ ہم نے فرعون کے پا س ایک کھلی دلیل دے کر بھیجا
فتح جالندھری اور موسیٰ (کے حال) میں (بھی نشانی ہے) جب ہم نے ان کو فرعون کی طرف کھلا ہوا معجزہ دے کر بھیجا
طاہر القادری اور موسٰی (علیہ السلام کے واقعہ) میں (بھی نشانیاں ہیں) جب ہم نے انہیں فرعون کی طرف واضح دلیل دے کر بھیجا،
علامہ جوادی اور موسٰی علیھ السّلام کے واقعہ میں بھی ہماری نشانیاں ہیں جب ہم نے ان کو فرعون کی طرف کھلی ہوئی دلیل دے کر بھیجا
ایم جوناگڑھی موسیٰ (علیہ السلام کے قصے) میں (بھی ہماری طرف سے تنبیہ ہے) کہ ہم نے اسے فرعون کی طرف کھلی دلیل دے کر بھیجا
حسین نجفی اور جنابِ موسیٰ (ع) کے قصہ میں بھی (ایک نشانی ہے) جبکہ ہم نے ان کو فرعون کے پاس ایک واضح سند کے ساتھ بھیجا۔
=========================================
M.Daryabadi: And in Musa also was a lesson, when We sent him Unto Fir'awn with authority manifest.
M.M.Pickthall: And in Moses (too, there is a portent) when We sent him unto Pharaoh with clear warrant,
Saheeh International: And in Moses [was a sign], when We sent him to Pharaoh with clear authority.
Shakir: And in Musa: When We sent him to Firon with clear authority.
Yusuf Ali: And in Moses (was another Sign): Behold, We sent him to Pharaoh, with authority manifest.
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

منفرد ایت
حضرت موسی ؑ کے بارے میں