اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 26-پارہ نمبر          The Private Apartments-49 سورت الحجرات Ayah No-9 ایت نمبر

وَ اِنْ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا١ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰى تَفِیْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ
آسان اُردو اگر مومنین کے دو فریق (جماعتیں) آپس میں لڑ پڑئیں، تو پس اُن (دونوں) کے درمیان صلح کرواؤ. پھر اگر اُن میں سے ایک دوسری پر زیادتی کرے، تو پھر تم بھی اُس سے لڑو جو زیادتی کر رہی ہو حتی کہ یہ (جماعت) بھی اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے (یعنی اللہ کے حکم کی تابع ہو جائے))؛ پھر اگر وہ (جماعت اللہ کے حکم کی طرف) آ جائے، تو اُن دونوں کے درمیان مساوات (عدل) سے صلح کرواؤ. اور تم (اس میں) انصاف کرو. بے شک! اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ۔ پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے کے ساتھ زیادتی کرے تو اس گروہ سے لڑو جو زیادتی کر رہا ہو، یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔ چنانچہ اگر وہ لوٹ آئے، تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ صلح کرادو، اور (ہر معاملے میں) انصاف سے کام لیا کرو، بیشک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
ابو الاعلی مودودی اور اگر اہل ایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑ جائیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے گروہ سے زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے پھر اگر وہ پلٹ آئے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف کرو کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے
احمد رضا خان اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں تو ان میں صلح کراؤ پھر اگر ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو اس زیادتی والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے، پھر اگر پلٹ آئے تو انصاف کے ساتھ ان میں اصلاح کردو اور عدل کرو، بیشک عدل والے اللہ کو پیارے ہیں،
احمد علی اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دو پس اگر ایک ان میں دوسرے پر ظلم کرے تو اس سے لڑو جو زیادتی کرتا ہے یہاں تک کہ وہ الله کے حکم کی طرف رجوع کرے پھر اگر وہ رجوع کرے تو ان دونوں میں انصاف سے صلح کرادو اورانصاف کرو بے شک الله انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے
فتح جالندھری اور اگر مومنوں میں سے کوئی دو فریق آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرا دو۔ اور اگر ایک فریق دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ خدا کے حکم کی طرف رجوع لائے۔ پس جب وہ رجوع لائے تو وہ دونوں فریق میں مساوات کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف سے کام لو۔ کہ خدا انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے
طاہر القادری اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں جنگ کریں تو اُن کے درمیان صلح کرا دیا کرو، پھر اگر ان میں سے ایک (گروہ) دوسرے پر زیادتی اور سرکشی کرے تو اس (گروہ) سے لڑو جو زیادتی کا مرتکب ہو رہا ہے یہاں تک کہ وہ اﷲ کے حکم کی طرف لوٹ آئے، پھر اگر وہ رجوع کر لے تو دونوں کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف سے کام لو، بیشک اﷲ انصاف کرنے والوں کو بہت پسند فرماتا ہے،
علامہ جوادی اور اگر مومنین کے دو گروہ آپس میں جھگڑا کریں تو تم سب ان کے درمیان صلح کراؤ اس کے بعد اگر ایک دوسرے پر ظلم کرے تو سب مل کر اس سے جنگ کرو جو زیادتی کرنے والا گروہ ہے یہاں تک کہ وہ بھی حکم خدا کی طرف واپس آجائے پھر اگر پلٹ آئے تو عدل کے ساتھ اصلاح کردو اور انصاف سے کام لو کہ خدا انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے
ایم جوناگڑھی اور اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں میل ملاپ کرا دیا کرو۔ پھر اگر ان دونوں میں سے ایک جماعت دوسری جماعت پر زیادتی کرے تو تم (سب) اس گروه سے جو زیادتی کرتا ہے لڑو۔ یہاں تک کہ وه اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے، اگر لوٹ آئے تو پھر انصاف کے ساتھ صلح کرا دو اور عدل کرو بیشک اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے
حسین نجفی اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو تم ان کے درمیان صلح کراؤ پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے پر تعدی و زیادتی کرے تو تم سب ظلم وزیادتی کرنے والے سے لڑو۔ یہاں تک کہ وہ حکمِ الٰہی کی طرف لوٹ آئے پس اگر وہ لوٹ آئے تو پھر تم ان دونوں کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف کرو۔ بےشک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
=========================================
M.Daryabadi: And if two parties of the believers fall to mutual fighting, then make reconciliation between the twain. Then if one of them rebelleth against the other, fight that Party which rebelleth till it returneth Unto the affair of Allah; then if it returneth, make reconciliation between the twain with justice and be equitable; verily Allah loveth the equitable.
M.M.Pickthall: And if two parties of believers fall to fighting, then make peace between them. And if one party of them doeth wrong to the other, fight ye that which doeth wrong till it return unto the ordinance of Allah; then, if it return, make peace between them justly, and act equitably. Lo! Allah loveth the equitable.
Saheeh International: And if two factions among the believers should fight, then make settlement between the two. But if one of them oppresses the other, then fight against the one that oppresses until it returns to the ordinance of Allah. And if it returns, then make settlement between them in justice and act justly. Indeed, Allah loves those who act justly.
Shakir: And if two parties of the believers quarrel, make peace between them; but if one of them acts wrongfully towards the other, fight that which acts wrongfully until it returns to Allah's command; then if it returns, make peace between them with justice and act equitably; surely Allah loves those who act equitably.
Yusuf Ali: If two parties among the Believers fall into a quarrel, make ye peace between them: but if one of them transgresses beyond bounds against the other, then fight ye (all) against the one that transgresses until it complies with the command of Allah; but if it complies, then make peace between them with justice, and be fair: for Allah loves those who are fair (and just).
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

منفرد ایت
محکم ایت
مومنین میں سے اگر دو پارٹیاں قتل و غارت یعنی مسلح لڑائی شروع کر دیں تو کیا کرنا ہے
٭لفظ مومنین ہے. مومن کو کسی مومن کے ساتھ لڑائی کرنے کی اجازت نہیں ہے. لیکن اگر انسان پر، جو کہ غلطی کا پتلا ہے، ایسی نبوت آ جاتی ہے تو دونوں کے درمیان صلح کروانی چاہیے. دشمنی اور کدورت دور کرنے کے لیے ان دونوں پارٹیوں کے درمیان عدل اور انصاف سے صلح کروانے کا حکم ہے. کیوں کہ اگر عدل اور انصاف نہیں ہوگا تو پھر آپس میں لڑائی ہو گی.