اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 25-پارہ نمبر                 Smoke-44 سورت الدخان Ayah No-18 ایت نمبر

اَنْ اَدُّوْۤا اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ
آسان اُردو کہ اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو. بے شک! میں تمہارے لیے ایک معتبر رسول ہوں
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی (اور انہوں نے کہا تھا کہ) اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کردو۔ میں تمہاری طرف ایک امانت دار پیغمبر بن کر آیا ہوں۔
ابو الاعلی مودودی اور اس نے کہا "اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کرو، میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں
احمد رضا خان کہ اللہ کے بندوں کو مجھے سپرد کردو بیشک میں تمہارے لیے امانت والا رسول ہوں،
احمد علی کہ الله کے بندوں کو میرے حوالہ کر دو بے شک میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں
فتح جالندھری (جنہوں نے) یہ (کہا) کہ خدا کے بندوں (یعنی بنی اسرائیل) کو میرے حوالے کردو میں تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں
طاہر القادری (انہوں نے کہا تھا) کہ تم بندگانِ خدا (یعنی بنی اسرائیل) کو میرے حوالے کر دو، بیشک میں تمہاری قیادت و رہبری کے لئے امانت دار رسول ہوں،
علامہ جوادی کہ اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کردو میں تمہارے لئے ایک امانت دار پیغمبر ہوں
ایم جوناگڑھی کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو، یقین مانو کہ میں تمہارے لیے امانت دار رسول ہوں
حسین نجفی (اوران سے کہاتھا کہ) اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کرو میں ایک امانت دار رسول(ع) ہوں۔
=========================================
M.Daryabadi: Saying: restore to me the bondmen of Allah, verily I am Unto you an apostle trusted.
M.M.Pickthall: Saying: Give up to me the slaves of Allah. Lo! I am a faithful messenger unto you.
Saheeh International: [Saying], "Render to me the servants of Allah. Indeed, I am to you a trustworthy messenger,"
Shakir: Saying: Deliver to me the servants of Allah, surely I am a faithful apostle to you,
Yusuf Ali: Saying: "Restore to me the Servants of Allah: I am to you an messenger worthy of all trust;
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
حضرت موسی ؑ اور فرعون کے بارے میں