Chapter No 24-پارہ نمبر    ‹                   Fusilat-41 سورت حم السجدۃ ›Ayah No-34 ایت نمبر
| وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُ١ؕ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ |
| آسان اُردو | اور نہیں برابر ہوتی نیکی اور نہ ہی برائی.(بُرائی کو) دور کرو اُس سے جو کہ اچھائی ہو، پھر بے شک! وہ جس کے درمیان اور تمہارے درمیان دشمنی تھی جیسے کہ وہ ایک بہت گرم جوش(گہرا)دوست ہو(جائے گا) |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی، تم بدی کا دفاع ایسے طریقے سے کرو جو بہترین ہو نتیجہ یہ ہوگا کہ جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی تھی، وہ دیکھتے ہی دیکھتے ایسا ہوجائے گا جیسے وہ (تمہارا) جگری دوست ہو |
| ابو الاعلی مودودی | اور اے نبیؐ، نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں تم بدی کو اُس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے |
| احمد رضا خان | اور نیکی اور بدی برابر نہ ہوجائیں گی، اے سننے والے برائی کو بھلائی سے ٹال جبھی وہ کہ تجھ میں اور اس میں دشمنی تھی ایسا ہوجائے گا جیسا کہ گہرا دوست |
| احمد علی | اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہو تی (برائی کا) دفعیہ اس بات سے کیجیئے جو اچھی ہو پھر ناگہاں وہ شخص جو تیرے اور اس کے درمیان دشمنی تھی ایسا ہوگا گویاکہ وہ مخلص دوست ہے |
| فتح جالندھری | اور بھلائی اور برائی برابر نہیں ہوسکتی۔ تو (سخت کلامی کا) ایسے طریق سے جواب دو جو بہت اچھا ہو (ایسا کرنے سے تم دیکھو گے) کہ جس میں اور تم میں دشمنی تھی گویا وہ تمہارا گرم جوش دوست ہے |
| طاہر القادری | اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہو سکتے، اور برائی کو بہتر (طریقے) سے دور کیا کرو سو نتیجتاً وہ شخص کہ تمہارے اور جس کے درمیان دشمنی تھی گویا وہ گرم جوش دوست ہو جائے گا، |
| علامہ جوادی | نیکی اور برائی برابر نہیں ہوسکتی لہٰذا تم برائی کا جواب بہترین طریقہ سے دو کہ اس طرح جس کے اور تمہارے درمیان عداوت ہے وہ بھی ایسا ہوجائے گا جیسے گہرا دوست ہوتا ہے |
| ایم جوناگڑھی | نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی۔ برائی کو بھلائی سے دفع کرو پھر وہی جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی ہے ایسا ہو جائے گا جیسے دلی دوست |
| حسین نجفی | اور بھلائی اور برائی برابر نہیں ہیں آپ(ص) (بدی کا) احسن طریقہ سے دفعیہ کریں تو آپ دیکھیں گے کہ آپ میں اور جس میں دشمنی تھی وہ گویا آپ کا جگری دوست بن گیا۔ |
| M.Daryabadi: | Nor can good and evil be equal. Repel thou evil with that which is goodly then behold he between whom and thee there was enmity, will be as though he was a warm friend. |
| M.M.Pickthall: | The good deed and the evil deed are not alike. Repel the evil deed with one which is better, then lo! he, between whom and thee there was enmity (will become) as though he was a bosom friend. |
| Saheeh International: | And not equal are the good deed and the bad. Repel [evil] by that [deed] which is better; and thereupon the one whom between you and him is enmity [will become] as though he was a devoted friend. |
| Shakir: | And not alike are the good and the evil. Repel (evil) with what is best, when lo! he between whom and you was enmity would be as if he were a warm friend. |
| Yusuf Ali: | Nor can goodness and Evil be equal. Repel (Evil) with what is better: Then will he between whom and thee was hatred become as it were thy friend and intimate! |
آیت کے متعلق اہم نقاط
علمی ایت
ایک عالمگیر اصول بتا دیا گیا ہے کہ دشمنی اور عدوات کس طرح سے ختم ہو سکتی ہے