Chapter No 24-پارہ نمبر    ‹                   The Believer-40 سورت المومن ›Ayah No-50 ایت نمبر
| قَالُوْۤا اَوَ لَمْ تَكُ تَاْتِیْكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ؕ قَالُوْا فَادْعُوْا١ۚ وَ مَا دُعٰٓؤُا الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ |
| آسان اُردو | وہ (سنتری) کہیں گے: کیا تمہارے رسول تمہارے پاس واضح ثبوتوں سے نہیں آئے تھے؟ وہ کہتے ہیں: ہاں. وہ (جہنم کے سنتری)کہتے ہیں: پھر تم ہی پکارو؟ اور کافرین کی دعا(پکارنا) کچھ نہیں ماسوائے گمراہی میں |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | وہ کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہارے پیغمبر کھلی کھلی نشانیاں لے کر آتے نہیں رہے تھے ؟۔ دوزخی جواب دیں گے۔ کہ بیشک (آتے تو رہے تھے) وہ کہیں گے۔ پھر تو تم ہی دعا کرو، اور کافروں کی دعا کا کوئی انجام اکارت جانے کے سوا نہیں ہے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | وہ پوچھیں گے "کیا تمہارے پاس تمہارے رسول بینات لے کر نہیں آتے رہے تھے؟" وہ کہیں گے "ہاں"جہنم کے اہل کار بولیں گے: "پھر تو تم ہی دعا کرو، اور کافروں کی دعا اکارت ہی جانے والی ہے" |
| احمد رضا خان | انہوں نے کہا کیا تمہارے پاس تمہارے رسول نشانیاں نہ لاتے تھے بولے کیوں نہیں بولے تو تمہیں دعا کرو اور کافروں کی دعا نہیں، مگر بھٹکتے پھرنے کو، |
| احمد علی | وہ کہیں گے کیا تمہارے پاس تمہارے رسول نشانیاں لے کر نہ آئے تھے کہیں گے ہاں (آئے تھے) کہیں گے پس پکارو اور کافروں کا پکارنا محض بے سود ہو گا |
| فتح جالندھری | وہ کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہارے پیغمبر نشانیاں لے کر نہیں آئے تھے۔ وہ کہیں گے کیوں نہیں تو وہ کہیں گے کہ تم ہی دعا کرو۔ اور کافروں کی دعا (اس روز) بےکار ہوگی |
| طاہر القادری | وہ کہیں گے: کیا تمہارے پاس تمہارے پیغمبر واضح نشانیاں لے کر نہیں آئے تھے، وہ کہیں گے: کیوں نہیں، (پھر داروغے) کہیں گے: تم خود ہی دعا کرو اور کافروں کی دعا (ہمیشہ) رائیگاں ہی ہوگی، |
| علامہ جوادی | وہ جواب دیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہارے رسول کھلی ہوئی نشانیاں لے کر نہیں آئے تھے وہ لوگ کہیں گے کہ بیشک آئے تھے تو جواب ملے گا پھر تم خود ہی آواز دو حالانکہ کافروں کی آواز اور فریاد بیکار ہی ثابت ہوگی |
| ایم جوناگڑھی | وه جواب دیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہارے رسول معجزے لے کر نہیں آئے تھے؟ وه کہیں گے کیوں نہیں، وه کہیں گے کہ پھر تم ہی دعا کرو اور کافروں کی دعا محض بے اﺛر اور بےراه ہے |
| حسین نجفی | وہ (جواب میں کہیں گے) کیا تمہارے پاس کھلی ہوئی دلیلیں لے کر تمہارے رسول(ع) نہیں آتے رہے تھے؟ وہ کہیں گے کہ ہاں اس پر داروغے کہیں گے کہ تم خود ہی دعا مانگو اور کافروں کی دعا و پکار بالکل گم شدہ ہے (اکارت جانے والی ہے)۔ |
| M.Daryabadi: | They will say: came there not your apostles Unto you with evidences? They will say: Yea? They will say: supplicate then yourselves. And supplication of the infidels will be but in wandering. |
| M.M.Pickthall: | They say: Came not your messengers unto you with clear proofs? They say: Yea, verily. They say: Then do ye pray, although the prayer of disbelievers is in vain. |
| Saheeh International: | They will say, "Did there not come to you your messengers with clear proofs?" They will say, "Yes." They will reply, "Then supplicate [yourselves], but the supplication of the disbelievers is not except in error." |
| Shakir: | They shall say: Did not your apostles come to you with clear arguments? They shall say: Yea. They shall say: Then call. And the call of the unbelievers is only in error. |
| Yusuf Ali: | They will say: "Did there not come to you your messengers with Clear Signs?" They will say, "Yes". They will reply, "Then pray (as ye like)! But the prayer of those without Faith is nothing but (futile wandering) in (mazes of) error!" |
آیت کے متعلق اہم نقاط
ایت کا ایت 47سے تسلسل ہے
اگ میں لوگوں کا جھگڑنا