|
ایم تقی عثمانی
|
اور (اے پیغمبر) لوگ تم سے عورتوں کے بارے میں شریعت کا حکم پوچھتے ہیں۔ کہہ دو کہ اللہ تم کو ان کے بارے میں حکم بتاتا ہے، اور اس کتاب (یعنی قرآن) کی جو آیتیں جو تم کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں وہ بھی ان یتیم عورتوں کے بارے میں (شرعی حکم بتاتی ہیں) جن کو تم ان کا مقرر شدہ حق نہیں دیتے، اور ان سے نکاح کرنا بھی چاہتے ہو نیز کمزور بچوں کے بارے میں بھی (حکم بتاتی ہیں) اور یہ تاکید کرتی ہیں کہ تم یتیموں کی خاطر انصاف قائم کرو۔ اور تم جو بھلائی کا کام کرو گے، اللہ کو اس کا پورا پورا علم ہے۔
|
|
ابو الاعلی مودودی
|
لو گ تم سے عورتوں کے معاملہ میں فتویٰ پوچھتے ہیں کہو اللہ تمہیں اُن کے معاملہ میں فتویٰ دیتا ہے، اور ساتھ ہی وہ احکام بھی یاد دلاتا ہے جو پہلے سے تم کو اس کتاب میں سنائے جا رہے ہیں یعنی وہ احکام جو اُن یتیم لڑکیوں کے متعلق ہیں جن کے حق تم ادا نہیں کرتے اور جن کے نکاح کرنے سے تم باز رہتے ہو (یا لالچ کی بنا پر تم خود ان سے نکاح کر لینا چاہتے ہو)، او ر وہ احکام جو اُن بچوں کے متعلق ہیں جو بیچارے کوئی زور نہیں رکھتے اللہ تمہیں ہدایت کرتا ہے کہ یتیموں کے ساتھ انصاف پر قائم رہو، اور جو بھلائی تم کرو گے وہ اللہ کے علم سے چھپی نہ رہ جائے گی
|
|
احمد رضا خان
|
اور تم سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ پوچھتے ہیں تم فرمادو کہ اللہ تمہیں ان کا فتویٰ دیتا ہے اور وہ جو تم پر قرآن میں پڑھا جاتا ہے ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں تم انہیں نہیں دیتے جو ان کا مقرر ہے اور انہیں نکاح میں بھی لانے سے منہ پھیرتے ہو اور کمزور بچوں کے بارے میں اور یہ کہ یتیموں کے حق میں انصاف پر قائم رہو اور تم جو بھلائی کرو تو اللہ کو اس کی خبر ہے،
|
|
احمد علی
|
اور تجھ سے عورتو ں کے نکاح کی رخصت مانگتے ہیں کہہ دے الله تمہیں ان کی اجازت دیتا ہے اور وہ جو تمہیں قرآن سنایا جاتا ہے سو ان یتیم عورتوں کا حکم ہے جنہیں تم نہیں دیتے جو ان کے لیے مقرر کیا گیا ہے او رچاہتے ہو کہ ان سے نکاح کرو اور کمزور لڑکوں کے بارے میں ہے اور یہ کہ یتیموں کے حق میں انصاف پر قائم رہو اور جو تم نیکی کرو گے پس تحقیق الله اسے جاننے والا ہے
|
|
فتح جالندھری
|
(اے پیغمبر) لوگ تم سے (یتیم) عورتوں کے بارے میں فتویٰ طلب کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا تم کو ان کے (ساتھ نکاح کرنے کے) معاملے میں اجازت دیتا ہے اور جو حکم اس کتاب میں پہلے دیا گیا ہے وہ ان یتیم عورتوں کے بارے میں ہے جن کو تم ان کا حق تو دیتے نہیں اور خواہش رکھتے ہو کہ ان کے ساتھ نکاح کرلو اور (نیز) بیچارے بیکس بچوں کے بارے میں۔ اور یہ (بھی حکم دیتا ہے) کہ یتیموں کے بارے میں انصاف پر قائم رہو۔ اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے
|
|
طاہر القادری
|
اور (اے پیغمبر!) لوگ آپ سے (یتیم) عورتوں کے بارے میں فتویٰ پوچھتے ہیں۔ آپ فرما دیں کہ اللہ تمہیں ان کے بارے میں حکم دیتا ہے اور جو حکم تم کو (پہلے سے) کتابِ مجید میں سنایا جا رہا ہے (وہ بھی) ان یتیم عورتوں ہی کے بارے میں ہے جنہیں تم وہ (حقوق) نہیں دیتے جو ان کے لئے مقرر کئے گئے ہیں اور چاہتے ہو کہ (ان کا مال قبضے میں لینے کی خاطر) ان کے ساتھ خود نکاح کر لو اور نیز بے بس بچوں کے بارے میں (بھی حکم) ہے کہ یتیموں کے معاملے میں انصاف پر قائم رہا کرو، اور تم جو بھلائی بھی کروگے تو بیشک اللہ اسے خوب جاننے والا ہے،
|
|
علامہ جوادی
|
پیغمبر یہ لوگ آپ سے یتیم لڑکیوں کے بارے میں حکهِ خدا دریافت کرتے ہیں تو آپ کہہ دیجئے کہ ان کے بارے میں خدا اجازت دیتا ہے اور جو کتاب میں تمہارے سامنے حکم بیان کیا جاتا ہے وہ ان یتیم عورتوں کے بارے میں ہے جن کو تم ان کا حق میراث نہیں دیتے ہو اور چاہتے ہو کہ ان سے نکاح کرکے سارا مال روک لو اور ان کمزور بّچوں کے بارے میں ہے کہ یتیموں کے بارے میں انصاف کے ساتھ قیام کرو اور جو بھی تم کا»خیر کرو گے خدا اس کا بخوبی جاننے والا ہے
|
|
ایم جوناگڑھی
|
آپ سے عورتوں کے بارے میں حکم دریافت کرتے ہیں، آپ کہہ دیجئے! کہ خود اللہ ان کے بارے میں حکم دے رہا ہے اور قرآن کی وه آیتیں جو تم پر ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں پڑھی جاتی ہیں جنہیں ان کا مقرر حق تم نہیں دیتے اور انہیں اپنے نکاح میں ﻻنے کی رغبت رکھتے ہو اور کمزور بچوں کے بارے میں اور اس بارے میں کہ یتیموں کی کارگزاری انصاف کے ساتھ کرو۔ تم جو نیک کام کرو، بے شبہ اللہ اسے پوری طرح جاننے واﻻ ہے
|
|
حسین نجفی
|
اے رسول! لوگ عورتوں کے معاملہ میں آپ سے فتویٰ طلب کرتے ہیں کہہ دیجیے! کہ اللہ تمہیں ان کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے اور متوجہ کرتا ہے ان آیات کی طرف جو کلام الٰہی کے اندر ہیں اور تمہیں ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں پڑھ کر سنائی جا رہی ہیں۔ جن کا تم مقررہ حق تو ادا نہیں کرتے مگر چاہتے ہو کہ ان سے نکاح کرلو۔ اور متوجہ کرتا ہے ان (آیات) کی طرف جو ان کمزور و بے بس لڑکوں کے بارے میں ہیں۔ اور جو (آیات) اس بارے میں ہیں کہ یتیم بچوں کے بارے میں انصاف پر قائم رہو۔ اور تم جو بھلائی کروگے تو اللہ اس کا خوب علم رکھتا ہے۔
|
|
M.Daryabadi:
|
And they ask thy decree concerning women. Say thou: Allah decreeth unto you concerning them and so do the revelations that have been rehearsed unto you in the Book concerning the orphan women unto whom yes give not that which is prescribed for them and yet desire that ye shall wed them, and concerning the oppressed children, and concerning this, that ye shall deal with the orphans in equity, and whatsoever of good ye de, then verily thereof Allah is ever Aware.
|
|
M.M.Pickthall:
|
They consult thee concerning women. Say: Allah giveth you decree concerning them, and the Scripture which hath been recited unto you (giveth decree), concerning female orphans and those unto whom ye give not that which is ordained for them though ye desire to marry them, and (concerning) the weak among children, and that ye should deal justly with orphans. Whatever good ye do, lo! Allah is ever Aware of it.
|
|
Saheeh International:
|
And they request from you, [O Muhammad], a [legal] ruling concerning women. Say, "Allah gives you a ruling about them and [about] what has been recited to you in the Book concerning the orphan girls to whom you do not give what is decreed for them - and [yet] you desire to marry them - and concerning the oppressed among children and that you maintain for orphans [their rights] in justice." And whatever you do of good - indeed, Allah is ever Knowing of it.
|
|
Shakir:
|
And they ask you a decision about women. Say: Allah makes known to you His decision concerning them, and that which is recited to you in the Book concerning female orphans whom you do not give what is appointed for them while you desire to marry them, and concerning the weak among children, and that you should deal towards orphans with equity; and whatever good you do, Allah surely knows it.
|
|
Yusuf Ali:
|
They ask thy instruction concerning the women say: Allah doth instruct you about them: And (remember) what hath been rehearsed unto you in the Book, concerning the orphans of women to whom ye give not the portions prescribed, and yet whom ye desire to marry, as also concerning the children who are weak and oppressed: that ye stand firm for justice to orphans. There is not a good deed which ye do, but Allah is well-acquainted therewith.
|