اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 5-پارہ نمبر              Women-4 سورت النساء Ayah No-128 ایت نمبر

وَ اِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ مِنْۢ بَعْلِهَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یُّصْلِحَا بَیْنَهُمَا صُلْحًا١ؕ وَ الصُّلْحُ خَیْرٌ١ؕ وَ اُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ١ؕ وَ اِنْ تُحْسِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا
آسان اُردو اگر ایک بیوی کو اپنے خاوند سے بیوفائی یانظر اندازی کا ڈر ہو تو ان دونوں پرکوئی گناہ نہیں اگر وہ دونوں اپنے درمیان کسی طرح سے صلح کر لیں اور صلح ( ہر صورت میں) بہتر ہے اورلالچ (طمع) کونفسوں (مردوں) میں ڈال دیا گیا ہے (اسلیے) اگر تم اچھائی اور تقوی کرو (برائی سے دور رہو)، تو بے شک! جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اُس کو جانتا ہے
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے زیادتی یا بیزوری کا اندیشہ ہو تو ان میاں بیوی کے لیے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ وہ آپس کے اتفاق سے کسی قسم کی صلح کرلیں۔ اور صلح کرلینا بہتر ہے اور انسانوں کے دل میں (کچھ نہ کچھ) لالچ کا مادہ تو رکھ ہی دیا گیا ہے۔ اور اگر احسان اور تقوی سے کام لو تو جو کچھ تم کرو گے اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔
ابو الاعلی مودودی جب کسی عورت کو اپنے شوہر سے بدسلوکی یا بے رخی کا خطر ہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں اگر میاں اور بیوی (کچھ حقوق کی کمی بیشی پر) آپس میں صلح کر لیں صلح بہر حال بہتر ہے نفس تنگ دلی کے طرف جلدی مائل ہو جاتے ہیں، لیکن اگر تم لوگ احسان سے پیش آؤ اور خدا ترسی سے کام لو تو یقین رکھو کہ اللہ تمہارے اس طرز عمل سے بے خبر نہ ہوگا
احمد رضا خان اور اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی زیادتی یا بے رغبتی کا اندیشہ کرے تو ان پر گناہ نہیں کہ آپس میں صلح کرلیں اور صلح خوب ہے اور دل لالچ کے پھندے میں ہیں اور اگر تم نیکی اور پرہیزگاری کرو تو اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے
احمد علی اور اگر کوئی عورت اپنے خاوند کے لڑنے یا منہ پھیرنے سے ڈرے تو دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ آپس میں کسی طرح صلح کر لیں اور یہ صلح بہتر ہے اور دلوں میں حرص موجود ہے اور اگر تم نیکی کرو او رپرہیزگاری کرو تو الله کو تمہارے اعمال کی پوری خبر ہے
فتح جالندھری اور اگر کسی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے زیادتی یا بےرغبتی کا اندیشہ ہو تم میاں بیوی پر کچھ گناہ نہیں کہ آپس میں کسی قرارداد پر صلح کرلیں۔ اور صلح خوب (چیز) ہے اور طبیعتیں تو بخل کی طرف مائل ہوتی ہیں اور اگر تم نیکوکاری اور پرہیزگاری کرو گے تو خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے
طاہر القادری اور اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی جانب سے زیادتی یا بے رغبتی کا خوف رکھتی ہو تو دونوں (میاں بیوی) پر کوئی حرج نہیں کہ وہ آپس میں کسی مناسب بات پر صلح کر لیں، اور صلح (حقیقت میں) اچھی چیز ہے اور طبیعتوں میں (تھوڑا بہت) بخل (ضرور) رکھ دیا گیا ہے، اور اگر تم احسان کرو اور پرہیزگاری اختیار کرو تو بیشک اللہ ان کاموں سے جو تم کر رہے ہو (اچھی طرح) خبردار ہے،
علامہ جوادی اور اگر کوئی عورت شوہر سے حقوق ادا نہ کرنے یا اس کی کنارہ کشی سے طلاق کا خطرہ محسوس کرے تو دونوں کے لئے کوئی حرج نہیں ہے کہ کسی طرح آپس میں صلح کرلیں کہ صلح میں بہتری ہے اور بخل تو ہر نفس کے ساتھ حاضر رہتا ہے اور اگر تم اچھا برتاؤ کرو گے اور زیادتی سے بچو گے تو خدا تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے
ایم جوناگڑھی اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی بد دماغی اور بے پرواہی کا خوف ہو تو دونوں آپس میں جو صلح کر لیں اس میں کسی پر کوئی گناه نہیں۔ صلح بہت بہتر چیز ہے، طمع ہر ہر نفس میں شامل کر دی گئی ہے۔ اگر تم اچھا سلوک کرو اور پرہیزگاری کرو تو تم جو کر رہے ہو اس پر اللہ تعالیٰ پوری طرح خبردار ہے
حسین نجفی اور اگر کوئی عورت اپنے شوہر سے حق تلفی یا بے توجہی محسوس کرے تو ان دونوں کے لیے کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ (کچھ لو کچھ دو کی بنا پر) آپس میں صلح کر لیں اور صلح بہرحال بہتر ہے اور نفوس میں بخل موجود رہتا ہے (تنگ دلی پر آمادہ رہتے ہیں) اور اگر تم بھلائی کرو۔ اور پرہیزگاری اختیار کرو۔ تو بے شک اللہ تمہارے اس طرزِ عمل سے باخبر ہے۔
=========================================
M.Daryabadi: And if a woman feareth from her husband refractoriness or estrangement, it shall be no blame on the twain if they effect between them a reconciliation; and reconciliation is better. And souls are engrained with greed. And if ye act kindly and fear Him, then verily Allah is ever of that which ye work Aware.
M.M.Pickthall: If a woman feareth ill treatment from her husband, or desertion, it is no sin for them twain if they make terms of peace between themselves. Peace is better. But greed hath been made present in the minds (of men). If ye do good and keep from evil, lo! Allah is ever Informed of what ye do.
Saheeh International: And if a woman fears from her husband contempt or evasion, there is no sin upon them if they make terms of settlement between them - and settlement is best. And present in [human] souls is stinginess. But if you do good and fear Allah - then indeed Allah is ever, with what you do, Acquainted.
Shakir: And if a woman fears ill usage or desertion on the part of her husband, there is no blame on them, if they effect a reconciliation between them, and reconciliation is better, and avarice has been made to be present in the (people's) minds; and if you do good (to others) and guard (against evil), then surely Allah is aware of what you do.
Yusuf Ali: If a wife fears cruelty or desertion on her husband's part, there is no blame on them if they arrange an amicable settlement between themselves; and such settlement is best; even though men's souls are swayed by greed. But if ye do good and practise self-restraint, Allah is well-acquainted with all that ye do.
======================================
 

آیت کے متعلق اہم نقاط

منفرد یا الگ آیت:جس کا پچھلی ایت یا آیات سے کوئی تسلسل نہیں۔ ایک الگ بات یا موضوع کے بارے میں ہے
اگر عورت کو خاوند سے ان نقاط کا مسئلہ ہے تو