Chapter No 24-پارہ نمبر    ‹                   The Troops-39 سورت الزمر ›Ayah No-49 ایت نمبر
| فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا ثُمَّ اِذَا خَوَّلْنٰهُ نِعْمَةً مِّنَّا١ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ١ؕ بَلْ هِیَ فِتْنَةٌ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ |
| آسان اُردو | پھر جب انسان کو تکلیف لگتی ہے تو وہ ہمیں پکارتا ہے، پھر جب ہم اُس کو اپنی طرف سے ایک نعمت عطا کرتے ہیں، تو وہ کہتا ہے: بے شک جو اُس کو دیا گیا ہے صرف (اُس کے) علم (کی بنا) پر ہے. نہیں، یہ تو ایک آزمائش ہوتی ہے لیکن اُن میں سے اکثر (اس حقیقت کو) نہیں جانتے ہیں |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | پھر انسان (کا حال یہ ہے کہ جب اس) کو کوئی تکلیف چھو جاتی ہے تو وہ ہمیں پکارتا ہے، اس کے بعد جب ہم اسے اپنی طرف سے کسی نعمت سے نوازتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ : ”یہ تو مجھے (اپنے) ہنر کی وجہ سے ملی ہے“۔ نہیں ! بلکہ یہ آزمائش ہے، لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے |
| ابو الاعلی مودودی | یہی انسان جب ذرا سی مصیبت اِسے چھو جاتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے، اور جب ہم اسے اپنی طرف سے نعمت دے کر اپھار دیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے علم کی بنا پر دیا گیا ہے! نہیں، بلکہ یہ آزمائش ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں |
| احمد رضا خان | پھر جب آدمی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں بلاتا ہے پھر جب اسے ہم اپنے پاس سے کوئی نعمت عطا فرمائیں کہتا ہے یہ تو مجھے ایک علم کی بدولت ملی ہے بلکہ وہ تو آزمائش ہے مگر ان میں بہتوں کو علم نہیں |
| احمد علی | پھر جب آدمی پر کوئی مصیبت آتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے پھر جب ہم اسے اپنی نعمت عطا کرتے ہیں تو کہتا ہے یہ تومجھے میری عقل سے ملی ہے بلکہ یہ نعمت آزمائش ہے ولیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے |
| فتح جالندھری | جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارنے لگتا ہے۔ پھر جب ہم اس کو اپنی طرف سے نعمت بخشتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے (میرے) علم (ودانش) کے سبب ملی ہے۔ (نہیں) بلکہ وہ آزمائش ہے مگر ان میں سے اکثر نہیں جانتے |
| طاہر القادری | پھر جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے پھر جب ہم اسے اپنی طرف سے کوئی نعمت بخش دیتے ہیں تو کہنے لگتا ہے کہ یہ نعمت تو مجھے (میرے) علم و تدبیر (کی بنا) پر ملی ہے، بلکہ یہ آزمائش ہے مگر ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے، |
| علامہ جوادی | پھر جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے اور اس کے بعد جب ہم کوئی نعمت دیدیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے میرے علم کے زور پر دی گئی ہے حالانکہ یہ ایک آزمائش ہے اور اکثر لوگ اس کا علم نہیں رکھتے ہیں |
| ایم جوناگڑھی | انسان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارنے لگتا ہے، پھر جب ہم اسے اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا فرمادیں تو کہنے لگتا ہے کہ اسے تو میں محض اپنے علم کی وجہ سے دیا گیا ہوں، بلکہ یہ آزمائش ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ بے علم ہیں |
| حسین نجفی | اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہمیں پکارتا ہے اور پھر جب ہم اسے اپنی جانب سے کوئی نعمت عطا کرتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ یہ تو مجھے اپنے علم و ہنر کی بنا پر دی گئی ہے بلکہ وہ ایک آزمائش ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ |
| M.Daryabadi: | When hurt toucheth a man he calleth on us, and thereafter, when We have changed it Unto a favour from Us, he saith: have been given itso only by force of my knowledge. Aye! it is a trial, but most of them know not. |
| M.M.Pickthall: | Now when hurt toucheth a man he crieth unto Us, and afterward when We have granted him a boon from Us, he saith: Only by force of knowledge I obtained it. Nay, but it is a test. But most of them know not. |
| Saheeh International: | And when adversity touches man, he calls upon Us; then when We bestow on him a favor from Us, he says, "I have only been given it because of [my] knowledge." Rather, it is a trial, but most of them do not know. |
| Shakir: | So when harm afflicts a man he calls upon Us; then, when We give him a favor from Us, he says: I have been given it only by means of knowledge. Nay, it is a trial, but most of them do not know. |
| Yusuf Ali: | Now, when trouble touches man, he cries to Us: But when We bestow a favour upon him as from Ourselves, he says, "This has been given to me because of a certain knowledge (I have)!" Nay, but this is but a trial, but most of them understand not! |
آیت کے متعلق اہم نقاط
منفرد ایت
علمی ایت
٭یعنی یہ نعمت تو میں نے صرف اپنے علم کے زور پر حاصل کی ہے.علم کا تکبر نہ کریں اور ہمیشہ اللہ کے سامنے عاجزی رکھیں