Chapter No 23-پارہ نمبر    ‹                   Sad-38 سورت ص ›Ayah No-39 ایت نمبر
| هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَیْرِ حِسَابٍ |
| آسان اُردو | (یہ کہتے ہوئے): کہ یہ ہمارا تحفہ ہے،پس (اے سلیمانؑ) احسان کر یا رکھ لے،بغیر حساب کے (کہ تُو نے کسطرح استعمال کیا) |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | (اور ان سے کہا تھا کہ) یہ ہمارا عطیہ ہے، اب تمہیں اختیار ہے کہ احسان کر کے کسی کو کچھ دو ، یا اپنے پاس رکھو، تم پر کسی حساب کی ذمہ داری نہیں ہے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | (ہم نے اُس سے کہا) "یہ ہماری بخشش ہے، تجھے اختیار ہے جسے چاہے دے اور جس سے چاہے روک لے، کوئی حساب نہیں" |
| احمد رضا خان | یہ ہماری عطا ہے اب تو چاہے تو احسان کر یا روک رکھ تجھ پر کچھ حساب نہیں، |
| احمد علی | یہ ہماری بخشش ہے پس احسان کر یا اپنے پاس رکھ کوئی حساب نہیں |
| فتح جالندھری | (ہم نے کہا) یہ ہماری بخشش ہے (چاہو) تو احسان کرو یا (چاہو تو) رکھ چھوڑو (تم سے) کچھ حساب نہیں ہے |
| طاہر القادری | (ارشاد ہوا:) یہ ہماری عطا ہے (خواہ دوسروں پر) احسان کرو یا (اپنے تک) روکے رکھو (دونوں حالتوں میں) کوئی حساب نہیں، |
| علامہ جوادی | یہ سب میری عطا ہے اب چاہے لوگوں کو دیدو یا اپنے پاس رکھو تم سے حساب نہ ہوگا اور ان کے لئے ہمارے یہاں تقرب کا درجہ ہے اور بہترین بازگشت ہے |
| ایم جوناگڑھی | یہ ہے ہمارا عطیہ اب تو احسان کر یا روک رکھ، کچھ حساب نہیں |
| حسین نجفی | یہ ہماری عطا ہے (آپ(ع) کو اختیار ہے) جسے چاہے عطا کر اور جس سے چاہے روک رکھ۔ |
| M.Daryabadi: | This is Our gift, SO bestow thou or withhold, without rendering an account. |
| M.M.Pickthall: | (Saying): This is Our gift, so bestow thou, or withhold, without reckoning. |
| Saheeh International: | [We said], "This is Our gift, so grant or withhold without account." |
| Shakir: | This is Our free gift, therefore give freely or withhold, without reckoning. |
| Yusuf Ali: | "Such are Our Bounties: whether thou bestow them (on others) or withhold them, no account will be asked." |
آیت کے متعلق اہم نقاط
علمی ایت
تاریخی ایت
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے