Chapter No 23-پارہ نمبر    ‹                   Sad-38 سورت ص ›Ayah No-32 ایت نمبر
| فَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِٙ |
| آسان اُردو | اور اُس نے کہا: بے شک! میں نے پسند کیا ہے مال کی محبت کو اللہ کی یاد سے(غافل ہو کر)؛ حتی کہ وہ (گھوڑے)ایک پردے کے پیچھے چھپا دئیے گے(یا سورج غروب ہو گیا) |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | تو انہوں نے کہا : میں نے اس دولت کی محبت اپنے پروردگار کی یاد ہی کی وجہ سے اختیار کی ہے۔ یہاں تک کہ وہ اوٹ میں چھپ گئے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | تو اس نے کہا "میں نے اس مال کی محبت اپنے رب کی یاد کی وجہ سے اختیار کی ہے" یہاں تک کہ جب وہ گھوڑے نگاہ سے اوجھل ہو گئے |
| احمد رضا خان | تو سلیمان نے کہا مجھے ان گھوڑوں کی محبت پسند آئی ہے اپنے رب کی یاد کے لیے پھر انہیں چلانے کا حکم دیا یہاں تک کہ نگاہ سے پردے میں چھپ گئے |
| احمد علی | تو کہا میں نے مال کی محبت کو یاد الہیٰ سے عزیز سمجھا یہاں تک کہ آفتاب غروب ہو گیا |
| فتح جالندھری | تو کہنے لگے کہ میں نے اپنے پروردگار کی یاد سے (غافل ہو کر) مال کی محبت اختیار کی۔ یہاں تک کہ (آفتاب) پردے میں چھپ گیا |
| طاہر القادری | تو انہوں نے (اِنابۃً) کہا: میں مال (یعنی گھوڑوں) کی محبت کو اپنے رب کے ذکر سے بھی (زیادہ) پسند کر بیٹھا ہوں یہاں تک کہ (سورج رات کے) پردے میں چھپ گیا، |
| علامہ جوادی | تو انہوں نے کہا کہ میں ذکر خدا کی بنا پر خیر کو دوست رکھتا ہوں یہاں تک کہ وہ گھوڑے دوڑتے دوڑتے نگاہوں سے اوجھل ہوگئے |
| ایم جوناگڑھی | تو کہنے لگے میں نے اپنے پروردگار کی یاد پر ان گھوڑوں کی محبت کو ترجیح دی، یہاں تک کہ (آفتاب) چھﭗ گیا |
| حسین نجفی | تو انہوں نے کہا کہ میں مال (گھوڑوں) کی محبت میں اپنے پروردگار کی یاد سے غافل ہوگیا یہاں تک کہ وہ (آفتاب) پردہ میں چھپ گیا۔ |
| M.Daryabadi: | He said: verily I have loved the love of earthly good above the remembrance of my Lord until the sun hath disappeared behind the veil. |
| M.M.Pickthall: | And he said: Lo! I have preferred the good things (of the world) to the remembrance of my Lord; till they were taken out of sight behind the curtain. |
| Saheeh International: | And he said, "Indeed, I gave preference to the love of good [things] over the remembrance of my Lord until the sun disappeared into the curtain [of darkness]." |
| Shakir: | Then he said: Surely I preferred the good things to the remembrance of my Lord-- until the sun set and time for Asr prayer was over, (he said): |
| Yusuf Ali: | And he said, "Truly do I love the love of good, with a view to the glory of my Lord,"- until (the sun) was hidden in the veil (of night): |
آیت کے متعلق اہم نقاط
علمی ایت
تاریخی ایت
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے