Chapter No 23-پارہ نمبر    ‹           Those who set the Ranks-37 سورت الصفات ›Ayah No-8 ایت نمبر
| لَا یَسَّمَّعُوْنَ اِلَى الْمَلَاِ الْاَعْلٰى وَ یُقْذَفُوْنَ مِنْ كُلِّ جَانِبٍۗۖ |
| آسان اُردو | وہ (شیاطین) اعلی سرداروں (یعنی فرشتوں) کی طرف نہیں سن سکتے اور اُن (شیاطین) کوہر طرف سے نشانہ بنایا جاتا ہے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | وہ اوپر کے جہان کی باتیں نہیں سن سکتے، اور ہر طرف سے ان پر مار پڑتی ہے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | یہ شیاطین ملاء اعلیٰ کی باتیں نہیں سن سکتے، ہر طرف سے مارے اور ہانکے جاتے ہیں |
| احمد رضا خان | عالم بالا کی طرف کان نہیں لگاسکتے اور ان پر ہر طرف سے مار پھینک ہوتی ہے |
| احمد علی | وہ عالم بالا کی باتیں نہیں سن سکتے اور ان پر ہر طرف سے (انگارے) پھینکے جاتے ہیں |
| فتح جالندھری | کہ اوپر کی مجلس کی طرف کان نہ لگاسکیں اور ہر طرف سے (ان پر انگارے) پھینکے جاتے ہیں |
| طاہر القادری | وہ (شیاطین) عالمِ بالا کی طرف کان نہیں لگا سکتے اور اُن پر ہر طرف سے (انگارے) پھینکے جاتے ہیں، |
| علامہ جوادی | کہ اب شیاطین عالم بالا کیباتیں سننے کی کوشش نہیں کرسکتے اور وہ ہر طرف سے مارے جائیں گے |
| ایم جوناگڑھی | عالم باﻻ کے فرشتوں (کی باتوں) کو سننے کے لئے وه کان بھی نہیں لگا سکتے، بلکہ ہر طرف سے وه مارے جاتے ہیں |
| حسین نجفی | (اب) ملاءِ اعلیٰ (عالمِ بالا) کی باتوں کو کان لگا کر نہیں سن سکتے اور وہ ہر طرف سے مارے جاتے ہیں۔ |
| M.Daryabadi: | They cannot listen to the exalted assembly, and they are darted at from every side. |
| M.M.Pickthall: | They cannot listen to the Highest Chiefs for they are pelted from every side, |
| Saheeh International: | [So] they may not listen to the exalted assembly [of angels] and are pelted from every side, |
| Shakir: | They cannot listen to the exalted assembly and they are thrown at from every side, |
| Yusuf Ali: | (So) they should not strain their ears in the direction of the Exalted Assembly but be cast away from every side, |
آیت کے متعلق اہم نقاط
علمی ایت
ایت کا پچھلی ایات سے تسلسل ہے
دنیاوی آسمان جو لوگوں کو نظر آ رہا ہے اس کی حفاظت
اور شیاطین اعلی سرداروں کی باتیں نہیں سن سکتے