اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 23-پارہ نمبر              Those who set the Ranks-37 سورت الصفات Ayah No-103 ایت نمبر

فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّهٗ لِلْجَبِیْنِۚ
آسان اُردو پھر جب دونوں نے (اللہ کی رضا کے آگے) سر تسلیم کر دئیے، اور اُس (ابراہیم ؑ) نے اُس (بیٹے) کو ماتھے کے بل لٹا لیا
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی چنانچہ (وہ عجیب منظر تھا) جب دونوں نے سر جھکا دیا، اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل گرایا۔
ابو الاعلی مودودی آخر کو جب اِن دونوں نے سر تسلیم خم کر دیا اور ابراہیمؑ نے بیٹے کو ماتھے کے بل گرا دیا
احمد رضا خان تو جب ان دونوں نے ہمارے حکم پر گردن رکھی اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹایا اس وقت کا حال نہ پوچھ
احمد علی پس جب دونوں نے قبول کر لیا اور اس نے پیشانی کے بل ڈال دیا
فتح جالندھری جب دونوں نے حکم مان لیا اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹا دیا
طاہر القادری پھر جب دونوں (رضائے الٰہی کے سامنے) جھک گئے (یعنی دونوں نے مولا کے حکم کو تسلیم کرلیا) اور ابراہیم (علیہ السلام) نے اسے پیشانی کے بل لِٹا دیا (اگلا منظر بیان نہیں فرمایا)،
علامہ جوادی پھر جب دونوں نے سر تسلیم خم کردیا اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹادیا
ایم جوناگڑھی غرض جب دونوں مطیع ہوگئے اور اس نے (باپ نے) اس کو (بیٹے کو) پیشانی کے بل گرا دیا
حسین نجفی پس جب دونوں (باپ بیٹے) نے سرِ تسلیم خم کر دیا اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا۔
=========================================
M.Daryabadi: Then when the twain had submitted themselves and he had prostrated him upon his temple.
M.M.Pickthall: Then, when they had both surrendered (to Allah), and he had flung him down upon his face,
Saheeh International: And when they had both submitted and he put him down upon his forehead,
Shakir: So when they both submitted and he threw him down upon his forehead,
Yusuf Ali: So when they had both submitted their wills (to Allah), and he had laid him prostrate on his forehead (for sacrifice),
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

تاریخی ایت
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
عنوان حضرت ابراہیم ؑ کا ہے