اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 23-پارہ نمبر              Those who set the Ranks-37 سورت الصفات Ayah No-102 ایت نمبر

فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْۤ اَرٰى فِی الْمَنَامِ اَنِّیْۤ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰى١ؕ قَالَ یٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ
آسان اُردو پھر جب وہ(بیٹا) اُس کے ساتھ دوڑنے (کی عمر)کو پہنچا تو اُس(ابراہیم ؑ) نے کہا: اے میرے بیٹے، بے شک میں نے ایک خواب میں دیکھا کہ میں تمہیں ذبح کروں. چنانچہ دیکھو، تمہارا کیا خیال ہے؟ اُس نے کہا: اے میرے باپ! کر ڈالو جو آپ کو حکم دیا گیا ہے. اگر اللہ نے چاہاتو آپ مجھے صابرین میں سے پائیں گے
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی پھر جب وہ لڑکا ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوگیا تو انہوں نے کہا : بیٹے ! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تمہیں ذبح کر رہا ہوں، اب سوچ کر بتاؤ، تمہاری کیا رائے ہے ؟ بیٹے نے کہا : ابا جان ! آپ وہی کیجیے جس کا آپ کو حکم دیا جارہا ہے۔ انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔
ابو الاعلی مودودی وہ لڑکا جب اس کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے کی عمر کو پہنچ گیا تو (ایک روز) ابراہیمؑ نے اس سے کہا، "بیٹا، میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، اب تو بتا، تیرا کیا خیال ہے؟" اُس نے کہا، "ابا جان، جو کچھ آپ کو حکم دیا جا رہا ہے اسے کر ڈالیے، آپ انشاءاللہ مجھے صابروں میں سے پائیں گے"
احمد رضا خان پھر جب وہ اس کے ساتھ کام کے قابل ہوگیا کہا اے میرے بیٹے میں نے خواب دیکھا میں تجھے ذبح کرتا ہوں اب تو دیکھ تیری کیا رائے ہے کہا اے میرے باپ کی جیئے جس بات کا آپ کو حکم ہوتا ہے، خدا نے چاہتا تو قریب ہے کہ آپ مجھے صابر پائیں گے،
احمد علی پھر جب وہ اس کے ہمراہ چلنے پھرنے لگا کہا اے بیٹے! بے شک میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر کر رہا ہوں پس دیکھ تیری کیا رائےہے کہا اے ابا! جو حکم آپ کو ہوا ہے کر دیجیئے آپ مجھے انشاالله صبر کرنے والوں میں پائیں گے
فتح جالندھری جب وہ ان کے ساتھ دوڑنے (کی عمر) کو پہنچا تو ابراہیم نے کہا کہ بیٹا میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ (گویا) تم کو ذبح کر رہا ہوں تو تم سوچو کہ تمہارا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا کہ ابا جو آپ کو حکم ہوا ہے وہی کیجیئے خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابروں میں پایئے گا
طاہر القادری پھر جب وہ (اسماعیل علیہ السلام) ان کے ساتھ دوڑ کر چل سکنے (کی عمر) کو پہنچ گیا تو (ابراہیم علیہ السلام نے) فرمایا: اے میرے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کررہا ہوں سو غور کرو کہ تمہاری کیا رائے ہے۔ (اسماعیل علیہ السلام نے) کہا: ابّاجان! وہ کام (فوراً) کر ڈالیے جس کا آپ کو حکم دیا جا رہا ہے۔ اگر اﷲ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے،
علامہ جوادی پھر جب وہ فرزند ان کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے کے قابل ہوگیا تو انہوں نے کہا کہ بیٹا میں خواب میں دیکھ رہا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں اب تم بتاؤ کہ تمہارا کیا خیال ہے فرزند نے جواب دیا کہ بابا جو آپ کو حکم دیا جارہا ہے اس پر عمل کریں انشائ اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے
ایم جوناگڑھی پھر جب وه (بچہ) اتنی عمر کو پہنچا کہ اس کے ساتھ چلے پھرے، تو اس (ابراہیم علیہ السلام) نے کہا میرے پیارے بچے! میں خواب میں اپنے آپ کو تجھے ذبح کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ اب تو بتا کہ تیری کیا رائے ہے؟ بیٹے نے جواب دیا کہ ابا! جو حکم ہوا ہے اسے بجا ﻻئیے انشاءاللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے
حسین نجفی پس جب وہ لڑکا آپ کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوا تو آپ(ع) نے فرمایا (اے بیٹا) میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں تم غور کرکے بتاؤ کہ تمہاری رائے کیا ہے؟ عرض کیا بابا جان! آپ کو جو حکم دیا گیا ہے وہ بجا لائیے اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔
=========================================
M.Daryabadi: And when he attained the age of, running with him, he said: O my son! verily I have seen in a dream that I am slaughtering thee; so look, what considerest thou? He said: O my father! do that which thou art commanded; thou shalt find me, Allah willing, of the patients.
M.M.Pickthall: And when (his son) was old enough to walk with him, (Abraham) said: O my dear son, I have seen in a dream that I must sacrifice thee. So look, what thinkest thou? He said: O my father! Do that which thou art commanded. Allah willing, thou shalt find me of the steadfast.
Saheeh International: And when he reached with him [the age of] exertion, he said, "O my son, indeed I have seen in a dream that I [must] sacrifice you, so see what you think." He said, "O my father, do as you are commanded. You will find me, if Allah wills, of the steadfast."
Shakir: And when he attained to working with him, he said: O my son! surely I have seen in a dream that I should sacrifice you; consider then what you see. He said: O my father! do what you are commanded; if Allah please, you will find me of the patient ones.
Yusuf Ali: Then, when (the son) reached (the age of) (serious) work with him, he said: "O my son! I see in vision that I offer thee in sacrifice: Now see what is thy view!" (The son) said: "O my father! Do as thou art commanded: thou will find me, if Allah so wills one practising Patience and Constancy!"
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

تاریخی ایت
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
عنوان حضرت ابراہیم ؑ کا ہے