Chapter No 23-پارہ نمبر    ‹           Ya Sin-36 سورت یٰس ›Ayah No-30 ایت نمبر
| یٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ١ۣۚ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ |
| آسان اُردو | اے افسوس بندوں پر! نہیں آیا اُن کے پاس کوئی رسول ماسوائے کہ وہ اُس(رسول) سے مذاق ہی کرتے تھے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | افسوس ہے ایسے بندوں کے حال پر۔ ان کے پاس کوئی رسول ایسا نہیں آیا جس کا وہ مذاق نہ اڑاتے رہے ہوں۔ |
| ابو الاعلی مودودی | افسوس بندوں کے حال پر، جو رسول بھی ان کے پاس آیا اُس کا وہ مذاق ہی اڑاتے رہے |
| احمد رضا خان | اور کہا گیا کہ ہائے افسوس ان بندوں پر جب ان کے پاس کوئی رسول آتا ہے تو اس سے ٹھٹھا ہی کرتے ہیں، |
| احمد علی | کیا افسوس ہے بندوں پر ان کے پاس ایساکوئی بھی رسول نہیں آیا جس سے انہوں نے ہنسی نہ کی ہو |
| فتح جالندھری | بندوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آتا مگر اس سے تمسخر کرتے ہیں |
| طاہر القادری | ہائے (اُن) بندوں پر افسوس! اُن کے پاس کوئی رسول نہ آتا تھا مگر یہ کہ وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے، |
| علامہ جوادی | کس قدر حسرتناک ہے ان بندوں کا حال کہ جب ان کے پاس کوئی رسول آتا ہے تو اس کا مذاق اُڑانے لگتے ہیں |
| ایم جوناگڑھی | (ایسے) بندوں پر افسوس! کبھی بھی کوئی رسول ان کے پاس نہیں آیا جس کی ہنسی انہوں نے نہ اڑائی ہو |
| حسین نجفی | افسوس ہے (ایسے) بندوں پر کہ جب بھی ان کے پاس کوئی رسول آتا ہے تو یہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ |
| M.Daryabadi: | Ah the misery of the bondmen! there cometh not: Unto them an apostle but him they have been mocking. |
| M.M.Pickthall: | Ah, the anguish for the bondmen! Never came there unto them a messenger but they did mock him! |
| Saheeh International: | How regretful for the servants. There did not come to them any messenger except that they used to ridicule him. |
| Shakir: | Alas for the servants! there comes not to them an apostle but they mock at him. |
| Yusuf Ali: | Ah! Alas for (My) Servants! There comes not a messenger to them but they mock him! |
آیت کے متعلق اہم نقاط
تاریخی ایت
علمی ایت
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے