اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 22-پارہ نمبر              Ya Sin-36 سورت یٰس Ayah No-18 ایت نمبر

قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ
آسان اُردو اُنہوں (یعنی بستی کے لوگوں) نے کہا: بے شک ہم تم(رسولوں) سے بدقسمتی سمجھتے ہیں. اگر تم (رسول) باز نہ آئے تو ہم واقعی تمہیں پتھر ماریں گے اور تمہیں واقعی ہم سے ایک درد ناک عذاب لگے گا
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی بستی والوں نے کہا : ہم نے تو تمہارے اندر نحوست محسوس کی ہے۔ یقین جانو اگر تم باز نہ آئے تو ہم تم پر پتھر برسائیں گے، اور ہمارے ہاتھوں تمہیں بڑی دردناک سزا ملے گی۔
ابو الاعلی مودودی بستی والے کہنے لگے "ہم تو تمہیں اپنے لیے فال بد سمجھتے ہیں اگر تم باز نہ آئے تو ہم تم کو سنگسار کر دیں گے اور ہم سے تم بڑی دردناک سزا پاؤ گے"
احمد رضا خان بولے ہم تمہیں منحوس سمجھتے ہیں بیشک اگر تم باز نہ آئے تو ضرور ہم تمہیں سنگسار کریں گے بیشک ہمارے ہاتھوں تم پر دکھ کی مار پڑے گی،
احمد علی انہوں نے کہا ہم نے تو تمہیں منحوس سمجھا ہے اگر تم باز نہ آؤ گے توہم تمہیں سنگسار کر دیں گے اور تمہیں ہمارے ہاتھ سے ضرور دردناک عذاب پہنچے گا
فتح جالندھری وہ بولے کہ ہم تم کو نامبارک سمجھتے ہیں۔ اگر تم باز نہ آؤ گے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے اور تم کو ہم سے دکھ دینے والا عذاب پہنچے گا
طاہر القادری (بستی والوں نے) کہا: ہمیں تم سے نحوست پہنچی ہے اگر تم واقعی باز نہ آئے تو ہم تمہیں یقیناً سنگ سار کر دیں گے اور ہماری طرف سے تمہیں ضرور دردناک عذاب پہنچے گا،
علامہ جوادی ان لوگوں نے کہا کہ ہمیں تم منحوس معلوم ہوتے ہو اگر اپنی باتوں سے باز نہ آؤ گے تو ہم سنگسار کردیں گے اور ہماری طرف سے تمہیں سخت سزا دی جائے گی
ایم جوناگڑھی انہوں نے کہا کہ ہم تو تم کو منحوس سمجھتے ہیں۔ اگر تم باز نہ آئے تو ہم پتھروں سے تمہارا کام تمام کردیں گے اور تم کو ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی
حسین نجفی تو بستی والوں نے کہا کہ ہم تو تمہیں اپنے لئے فالِ بد سمجھتے ہیں (کہ تمہارے آنے سے قحط پڑ گیا ہے) اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمہیں سنگسار کر دیں گے اور ہماری طرف سے تمہیں دردناک سزا ملے گی۔
=========================================
M.Daryabadi: They said: verily we augur ill of you; if ye desist not, we shall surely stone you, and there will befall you from us a torment afflictive.
M.M.Pickthall: (The people of the city) said: We augur ill of you. If ye desist not, we shall surely stone you, and grievous torture will befall you at our hands.
Saheeh International: They said, "Indeed, we consider you a bad omen. If you do not desist, we will surely stone you, and there will surely touch you, from us, a painful punishment."
Shakir: They said: Surely we augur evil from you; if you do not desist, we will certainly stone you, and there shall certainly afflict you a painful chastisement from us.
Yusuf Ali: The (people) said: "for us, we augur an evil omen from you: if ye desist not, we will certainly stone you. And a grievous punishment indeed will be inflicted on you by us."
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

تاریخی ایت
علمی ایت
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے