Chapter No 22-پارہ نمبر    ‹           Saba-34 سورت سبا ›Ayah No-15 ایت نمبر
| لَقَدْ كَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْكَنِهِمْ اٰیَةٌ١ۚ جَنَّتٰنِ عَنْ یَّمِیْنٍ وَّ شِمَالٍ١ؕ۬ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ بَلْدَةٌ طَیِّبَةٌ وَّ رَبٌّ غَفُوْرٌ |
| آسان اُردو | واقعی سبا کے لیے اُن کی رہائشوں میں (اللہ کی حاکمیت کی) ایک نشانی تھی. دو باغ، دائیں اور بائیں سے تھے.(ان سے کہا گیا تھا کہ) اپنے رب کے رزق سے کھاؤ اور اُسی کاشکر کرو. پاکیزہ شہر (زمین)ہے اور معاف کرنے والا رب ہے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | حقیقت یہ ہے کہ قوم سبا کے لیے خود اس جگہ ایک نشانی موجود تھی جہاں وہ رہا کرتے تھے۔ دائیں اور بائیں دونوں طرف باغوں کے دو سلسلے تھے۔ اپنے پروردگار کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور اس کا شکر بجا لاؤ، ایک تو شہر بہترین، دوسرے پروردگار بخشنے والا۔ |
| ابو الاعلی مودودی | سبا کے لیے اُن کے اپنے مسکن ہی میں ایک نشانی موجود تھی، دو باغ دائیں اور بائیں کھاؤ اپنے رب کا دیا ہوا رزق اور شکر بجا لاؤ اُس کا، ملک ہے عمدہ و پاکیزہ اور پروردگار ہے بخشش فرمانے والا |
| احمد رضا خان | بیشک سبا کے لیے ان کی آبادی میں نشانی تھی دو باغ دہنے اور بائیں اپنے رب کا رزق کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو پاکیزہ شہر اور بخشنے والا رب |
| احمد علی | بے شک قوم سبا کے لیے ان کی بستی میں ایک نشان تھا دائیں اور بائیں دو باغ اپنے رب کی روزی کھاؤ اور اس کا شکر کرو عمدہ شہر رہنے کو اور بخشنے والا رب |
| فتح جالندھری | (اہل) سبا کے لئے ان کے مقام بودوباش میں ایک نشانی تھی (یعنی) دو باغ (ایک) داہنی طرف اور (ایک) بائیں طرف۔ اپنے پروردگار کا رزق کھاؤ اور اس کا شکر کرو۔ (یہاں تمہارے رہنے کو یہ) پاکیزہ شہر ہے اور (وہاں بخشنے کو) خدائے غفار |
| طاہر القادری | درحقیقت (قومِ) سبا کے لئے ان کے وطن ہی میں نشانی موجود تھی۔ (وہ) دو باغ تھے، دائیں طرف اور بائیں طرف۔ (اُن سے ارشاد ہوا:) تم اپنے رب کے رزق سے کھایا کرو اور اس کا شکر بجا لایا کرو۔ (تمہارا) شہر (کتنا) پاکیزہ ہے اور رب بڑا بخشنے والا ہے، |
| علامہ جوادی | اور قوم سبا کے لئے ان کے وطن ہی میں ہماری نشانی تھی کہ داہنے بائیں دونوں طرف باغات تھے. تم لوگ اپنے پروردگار کا دیا رزق کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو تمہارے لئے پاکیزہ شہر اور بخشنے والا پروردگار ہے |
| ایم جوناگڑھی | قوم سبا کے لئے اپنی بستیوں میں (قدرت الٰہی کی) نشانی تھی ان کے دائیں بائیں دو باغ تھے (ہم نے ان کو حکم دیا تھا کہ) اپنے رب کی دی ہوئی روزی کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو، یہ عمده شہر اور وه بخشنے واﻻ رب ہے |
| حسین نجفی | قبیلہ سباء والوں کیلئے ان کی آبادی میں (قدرتِ خدا کی) ایک نشانی موجود تھی (یعنی) دو باغ تھے دائیں اور بائیں (اور ان سے کہہ دیا گیا) کہ اپنے پروردگار کے رزق سے کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو شہر ہے پاک و پاکیزہ اور پروردگار ہے بخشنے والا۔ |
| M.Daryabadi: | Assuredly there was for Saba a sign in their own dwelling- place: two gardens on the right hand and on the left. And it was said Unto them: eat ye of the provision of your Lord and give thanks Unto Him: a fair land' and a forgiving Lord. |
| M.M.Pickthall: | There was indeed a sign for Sheba in their dwelling-place: Two gardens on the right hand and the left (as who should say): Eat of the provision of your Lord and render thanks to Him. A fair land and an indulgent Lord! |
| Saheeh International: | There was for [the tribe of] Saba' in their dwelling place a sign: two [fields of] gardens on the right and on the left. [They were told], "Eat from the provisions of your Lord and be grateful to Him. A good land [have you], and a forgiving Lord." |
| Shakir: | Certainly there was a sign for Saba in their abode; two gardens on the right and the left; eat of the sustenance of your Lord and give thanks to Him: a good land and a Forgiving Lord! |
| Yusuf Ali: | There was, for Saba, aforetime, a Sign in their home-land - two Gardens to the right and to the left. "Eat of the Sustenance (provided) by your Lord, and be grateful to Him: a territory fair and happy, and a Lord Oft-Forgiving! |
آیت کے متعلق اہم نقاط
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
تاریخی ایت