Chapter No 22-پارہ نمبر    ‹           Saba-34 سورت سبا ›Ayah No-16 ایت نمبر
| فَاَعْرَضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ وَ بَدَّلْنٰهُمْ بِجَنَّتَیْهِمْ جَنَّتَیْنِ ذَوَاتَیْ اُكُلٍ خَمْطٍ وَّ اَثْلٍ وَّ شَیْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِیْلٍ |
| آسان اُردو | پھر وہ (اللہ کا شکر ادا کرنے اور اُس کے احکامات سے) کنارہ کر گے، پس ہم نے اُن پر عرم(ڈیم) کا سیلاب روانہ کیا، اور ہم نے اُن کو بدل دیا اُن کے باغوں سے، دو باغات (کوئی اور دے دئیے)جو کڑوا پھل دیتے، گھاس پھوس (جھاؤ) اور کوئی چیزتھوڑی سے بیری کے درخت سے(ملتی تھی) |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | پھر بھی انہوں نے (ہدایت سے) منہ موڑ لیا، اس لیے ہم نے ان پر بندو الا سیلاب چھوڑ دیا، اور ان کے دونوں طرف کے باغوں کو ایسے دو باغوں میں تبدیل کردیا جو بدمزہ پھلوں، جھاؤ کے درختوں اور تھوڑی سی بیریوں پر مشتمل تھے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | مگر وہ منہ موڑ گئے آخرکار ہم نے اُن پر بند توڑ سیلاب بھیج دیا اور ان کے پچھلے دو باغوں کی جگہ دو اور باغ انہیں دیے جن میں کڑوے کسیلے پھل اور جھاؤ کے درخت تھے اور کچھ تھوڑی سی بیریاں |
| احمد رضا خان | تو انہوں نے منہ پھیرا تو ہم نے ان پر زور کا اہلا (سیلاب) بھیجا اور ان کے باغوں کے عوض دو باغ انہیں بدل دیے جن میں بکٹا (بدمزہ) میوہ اور جھاؤ اور کچھ تھوڑی سی بیریاں |
| احمد علی | پھر انہوں نے نافرمانی کی پھر ہم نے ان پر سخت سیلاب بھیج دیا اور ہم نے ان کے دونوں باغوں کے بدلے میں دو باغ بد مزہ پھل کے اور جھاؤ کے اور کچھ تھوڑی سی بیریوں کے بدل دیے |
| فتح جالندھری | تو انہوں نے (شکرگزاری سے) منہ پھیر لیا پس ہم نے ان پر زور کا سیلاب چھوڑ دیا اور انہیں ان کے باغوں کے بدلے دو ایسے باغ دیئے جن کے میوے بدمزہ تھے اور جن میں کچھ تو جھاؤ تھا اور تھوڑی سی بیریاں |
| طاہر القادری | پھر انہوں نے (طاعت سے) مُنہ پھیر لیا تو ہم نے ان پر زور دار سیلاب بھیج دیا اور ہم نے اُن کے دونوں باغوں کو دو (ایسے) باغوں سے بدل دیا جن میں بدمزہ پھل اور کچھ جھاؤ اور کچھ تھوڑے سے بیری کے درخت رہ گئے تھے، |
| علامہ جوادی | مگر ان لوگوں نے انحراف کیا تو ہم نے ان پر بڑے زوروں کا سیلاب بھیج دیا اور ان کے دونوں باغات کو ایسے دو باغات میں تبدیل کردیا جن کے پھل بے مزہ تھے اور ان میں جھاؤ کے درخت اور کچھ بیریاں بھی تھیں |
| ایم جوناگڑھی | لیکن انہوں نے روگردانی کی تو ہم نے ان پر زور کے سیلاب (کا پانی) بھیج دیا اور ہم نے ان کے (ہرے بھرے) باغوں کے بدلے دو (ایسے) باغ دیئے جو بدمزه میوؤں والے اور (بکثرت) جھاؤ اور کچھ بیری کے درختوں والے تھے |
| حسین نجفی | پس انہوں نے روگردانی کی تو ہم نے ان پر بند توڑ سیلاب چھوڑ دیا اور ان کے ان دو باغوں کو ایسے دو باغوں سے بدل دیا جن کے پھل بدمزہ تھے اور جھاؤ کے کچھ درخت اور کچھ تھوڑی سی بیریاں۔ |
| M.Daryabadi: | But they turned away. Wherefore We sent upon them the inundation of the dam and We exchanged their two gardens for two gardens bearing bitter fruit, and tamarisk. And some few lote-trees. |
| M.M.Pickthall: | But they were froward, so We sent on them the flood of 'Iram, and in exchange for their two gardens gave them two gardens bearing bitter fruit, the tamarisk and here and there a lote-tree. |
| Saheeh International: | But they turned away [refusing], so We sent upon them the flood of the dam, and We replaced their two [fields of] gardens with gardens of bitter fruit, tamarisks and something of sparse lote trees. |
| Shakir: | But they turned aside, so We sent upon them a torrent of which the rush could not be withstood, and in place of their two gardens We gave to them two gardens yielding bitter fruit and (growing) tamarisk and a few lote-trees. |
| Yusuf Ali: | But they turned away (from Allah), and We sent against them the Flood (released) from the dams, and We converted their two garden (rows) into "gardens" producing bitter fruit, and tamarisks, and some few (stunted) Lote-trees. |
آیت کے متعلق اہم نقاط
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
تاریخی ایت