Chapter No 22-پارہ نمبر    ‹           Saba-34 سورت سبا ›Ayah No-14 ایت نمبر
| فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلٰى مَوْتِهٖۤ اِلَّا دَآبَّةُ الْاَرْضِ تَاْكُلُ مِنْسَاَتَهٗ١ۚ فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الْغَیْبَ مَا لَبِثُوْا فِی الْعَذَابِ الْمُهِیْنِؕ |
| آسان اُردو | پھر جب ہم نے اُس پر موت کا فیصلہ کر دیا، کسی نے بھی اُن (جنات) کو اُس کی موت پرخبر نہ دی ماسوائے ایک زمینی کیڑے(دیمک) کے جو اُس کے ڈنڈے کو کھاتا رہا. پھرجب وہ (سلیمانؑ) گر پڑا، تو جنوں کو واضح ہوا کہ اگر وہ غیب کو جانتے ہوتے، تو وہ ذلت (یعنی کام کرنے) کے عذاب میں مبتلا نہ رہتے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | پھر جب ہم نے سلیمان کی موت کا فیصلہ کیا تو ان جنات کو ان کی موت کا پتہ کسی اور نے نہیں بلکہ زمین کے کیڑے نے دیا جو ان کے عصا کو کھا رہا تھا۔ چنانچہ جب وہ گرپڑے تو جنات کو معلوم ہوا کہ اگر وہ غیب کا علم جانتے ہوتے تو اس ذلت والی تکلیف میں مبتلا نہ رہتے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | پھر جب سلیمانؑ پر ہم نے موت کا فیصلہ نافذ کیا تو جنوں کو اس کی موت کا پتہ دینے والی کوئی چیز اُس گھن کے سوا نہ تھی جو اس کے عصا کو کھا رہا تھا اس طرح جب سلیمانؑ گر پڑا تو جنوں پر یہ بات کھل گئی کہ اگر وہ غیب کے جاننے والے ہوتے تو اس ذلت کے عذاب میں مبتلا نہ رہتے |
| احمد رضا خان | پھر جب ہم نے اس پر موت کا حکم بھیجا جنوں کو اس کی موت نہ بتائی مگر زمین کی دیمک نے کہ اس کا عصا کھاتی تھی، پھر جب سلیمان زمین پر آیا جِنوں کی حقیقت کھل گئی اگر غیب جانتے ہوتے تو اس خواری کے عذاب میں نہ ہوتے |
| احمد علی | پھر جب ہم نے اس پر موت کا حکم کیا تو انہیں ا سکی موت کا پتہ نہ دیا مگر گھن کے کیڑے نے جو اس کے عصا کو کھا رہا تھا پھر جب گر پڑا تو جنوں نے معلوم کیا کہ اگر وہ غیب کو جانتے ہوتے تو اس ذلت کے عذاب میں نہ پڑے رہتے |
| فتح جالندھری | پھر جب ہم نے ان کے لئے موت کا حکم صادر کیا تو کسی چیز سے ان کا مرنا معلوم نہ ہوا مگر گھن کے کیڑے سے جو ان کے عصا کو کھاتا رہا۔ جب عصا گر پڑا تب جنوں کو معلوم ہوا (اور کہنے لگے) کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو ذلت کی تکلیف میں نہ رہتے |
| طاہر القادری | پھر جب ہم نے سلیمان (علیہ السلام) پر موت کا حکم صادر فرما دیا تو اُن (جنّات) کو ان کی موت پر کسی نے آگاہی نہ کی سوائے زمین کی دیمک کے جو اُن کے عصا کو کھاتی رہی، پھر جب آپ کا جسم زمین پر آگیا تو جنّات پر ظاہر ہوگیا کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اس ذلّت انگیز عذاب میں نہ پڑے رہتے، |
| علامہ جوادی | پھر جب ہم نے ان کی موت کا فیصلہ کردیا تو ان کی موت کی خبر بھی جنات کو کسی نے نہ بتائی سوائے دیمک کے جو ان کے عصا کو کھارہی تھی اور وہ خاک پر گرے تو جنات کو معلوم ہوا کہ اگر وہ غیب کے جاننے والے ہوتے تو اس ذلیل کرنے والے عذاب میں مبتلا نہ رہتے |
| ایم جوناگڑھی | پھر جب ہم نے ان پر موت کا حکم بھیج دیا تو ان کی خبر جنات کو کسی نے نہ دی سوائے گھن کے کیڑے کے جو ان کی عصا کو کھا رہا تھا۔ پس جب (سلیمان) گر پڑے اس وقت جنوں نے جان لیا کہ اگر وه غیب دان ہوتے تو اس کے ذلت کے عذاب میں مبتلا نہ رہتے |
| حسین نجفی | اور جب ہم نے سلیمان(ع) پر موت کا فیصلہ نافذ کیا (اور وہ فوت ہوگئے) تو ان کی موت کا پتہ ان (جنات) کو نہیں دیا مگر اس دیمک نے جو ان کے عصا کو کھا رہی تھی تو جب (عصا کھوکھلا ہوگیا اور) آپ زمین پر گرے تو جنات پر اصلی حالت کھل گئی کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو (اتنے عرصے تک) اس رسوا کن عذاب میں مبتلا نہ رہتے۔ |
| M.Daryabadi: | Then when We decreed death for him, naught discovered his death to them' save a moving creature of the earth which gnawed away his staff. Then when he fell, the Jinn clearly perceived that, if they had known the unseen they would not have tarried in the ignominious torment. |
| M.M.Pickthall: | And when We decreed death for him, nothing showed his death to them save a creeping creature of the earth which gnawed away his staff. And when he fell the jinn saw clearly how, if they had known the Unseen, they would not have continued in despised toil. |
| Saheeh International: | And when We decreed for Solomon death, nothing indicated to the jinn his death except a creature of the earth eating his staff. But when he fell, it became clear to the jinn that if they had known the unseen, they would not have remained in humiliating punishment. |
| Shakir: | But when We decreed death for him, naught showed them his death but a creature of the earth that ate away his staff; and when it fell down, the jinn came to know plainly that if they had known the unseen, they would not have tarried in abasing torment. |
| Yusuf Ali: | Then, when We decreed (Solomon's) death, nothing showed them his death except a little worm of the earth, which kept (slowly) gnawing away at his staff: so when he fell down, the Jinns saw plainly that if they had known the unseen, they would not have tarried in the humiliating Penalty (of their Task). |
آیت کے متعلق اہم نقاط
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
تاریخی ایت