Chapter No 22-پارہ نمبر    ‹           Saba-34 سورت سبا ›Ayah No-13 ایت نمبر
| یَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا یَشَآءُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَ تَمَاثِیْلَ وَ جِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَ قُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍ١ؕ اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا١ؕ وَ قَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُ |
| آسان اُردو | وہ(جنات) اُس (سلیمانؑ) کے لیے کرتے،جو وہ چاہتا: عبادت خانے اور مورتیاں (مجسمے)اور لگن جیسے تلاب اور بڑے بڑے برتن، جو ایک جگہ رکھے ہوں (جیسے دیگچے، دیگیں). اے داودؑ کی اولاد! (اللہ کا)شکر کرو. اور میرے بندوں سے کم ہی شکر گزار ہیں |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | وہ جنات سلیمان کے لیے جو وہ چاہتے بنادیا کرتے تھے، اونچی اونچی عمارتیں، تصویریں حوض جیسے بڑے بڑے لگن اور زمین میں جمی ہوئی دیگیں۔ اے داؤد کے خاندان والو ! تم ایسے عمل کیا کرو جن سے شکر ظاہر ہو۔ اور میرے بندوں میں کم لوگ ہیں جو شکر گزار ہوں۔ |
| ابو الاعلی مودودی | وہ اُس کے لیے بناتے تھے جو کچھ وہ چاہتا، اونچی عمارتیں، تصویریں، بڑے بڑے حوض جیسے لگن اور اپنی جگہ سے نہ ہٹنے والی بھاری دیگیں اے آلِ داؤدؑ، عمل کرو شکر کے طریقے پر، میرے بندوں میں کم ہی شکر گزار ہیں |
| احمد رضا خان | اس کے لیے بناتے جو وہ چاہتا اونچے اونچے محل اور تصویریں اور بڑے حوضوں کے برابر لگن اور لنگردار دیگیں اے داؤد والو! شکر کرو اور میرے بندوں میں کم ہیں شکر والے، |
| احمد علی | جو وہ چاہتا اس کے لیے بناتے تھے قلعے اور تصویریں اور حوض جیسے لگن اور جمی رہنے والی دیگیں اے داؤد والو تم شکریہ میں نیک کام کیا کرو اور میرے بندوں میں سے شکر گزار تھوڑے ہیں |
| فتح جالندھری | وہ جو چاہتے یہ ان کے لئے بناتے یعنی قلعے اور مجسمے اور (بڑے بڑے) لگن جیسے تالاب اور دیگیں جو ایک ہی جگہ رکھی رہیں۔ اے داؤد کی اولاد (میرا) شکر کرو اور میرے بندوں میں شکرگزار تھوڑے ہیں |
| طاہر القادری | وہ (جنّات) ان کے لئے جو وہ چاہتے تھے بنا دیتے تھے۔ اُن میں بلند و بالا قلعے اور مجسّمے اور بڑے بڑے لگن تھے جو تالاب اور لنگر انداز دیگوں کی مانند تھے۔ اے آلِ داؤد! (اﷲ کا) شکر بجا لاتے رہو، اور میرے بندوں میں شکرگزار کم ہی ہوئے ہیں، |
| علامہ جوادی | یہ جنات سلیمان کے لئے جو وہ چاہتے تھے بنادیتے تھے جیسے محرابیں, تصویریں اور حوضوں کے برابر پیالے اور بڑی بڑی زمین میں گڑی ہوئی دیگیں آل داؤد شکر ادا کرو اور ہمارے بندوں میں شکر گزار بندے بہت کم ہیں |
| ایم جوناگڑھی | جو کچھ سلیمان چاہتے وه جنات تیار کردیتے مثلا قلعے اور مجسمے اور حوضوں کے برابر لگن اور چولہوں پر جمی ہوئی مضبوط دیگیں، اے آل داؤد اس کے شکریہ میں نیک عمل کرو، میرے بندوں میں سے شکرگزار بندے کم ہی ہوتے ہیں |
| حسین نجفی | وہ ان کیلئے وہ کچھ کرتے تھے جو وہ چاہتے تھے (جیسے) محرابیں (مقدس اونچی عمارتیں) اور مجسمے اور بڑے بڑے پیالے جیسے حوض اور گڑی ہوئی دیگیں۔ اے داؤد(ع) کے خاندان والو! (میرا) شکر ادا کرو اور میرے بندوں میں شکر گزار بہت ہی کم ہیں۔ |
| M.Daryabadi: | They worked for him whatsoever he pleased, of lofty halls and statues and basins like cisterns and cauldrons Standing firm. Work ye, house of Da'ud! with thanksgiving; few of My bondmen are thankful. |
| M.M.Pickthall: | They made for him what he willed: synagogues and statues, basins like wells and boilers built into the ground. Give thanks, O House of David! Few of My bondmen are thankful. |
| Saheeh International: | They made for him what he willed: synagogues and statues, basins like wells and boilers built into the ground. Give thanks, O House of David! Few of My bondmen are thankful. |
| Shakir: | They made for him what he willed of elevated chambers, statues, bowls like reservoirs, and stationary kettles. [We said], "Work, O family of David, in gratitude." And few of My servants are grateful. |
| Yusuf Ali: | They worked for him as he desired, (making) arches, images, basons as large as reservoirs, and (cooking) cauldrons fixed (in their places): "Work ye, sons of David, with thanks! but few of My servants are grateful!" |
آیت کے متعلق اہم نقاط
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
تاریخی ایت