Chapter No 21-پارہ نمبر    ‹           The Romans-30 سورت الروم ›Ayah No-33 ایت نمبر
| وَ اِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمْ مِّنْهُ رَحْمَةً اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ |
| آسان اُردو | اور جب لوگوں کوکوئی تکلیف لگتی ہے تو وہ اپنے رب کو ہی پکارتے ہیں اُسی کی طرف رجوع کرتے ہیں؛ پھرجب وہ(لوگ) اُس (اللہ)سے رحمت (نعمت) چکھتے ہیں، تب اُن میں ایک گروہ (فریق) اپنے رب سے شرک کرتا ہے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف چھو جاتی ہے تو وہ اپنے پروردگار سے لو لگا کر اسی کو پکارتے ہیں، پھر جب وہ اپنی طرف سے انہیں کسی رحمت کا ذائقہ چکھا دیتا ہے تو ان میں سے کچھ لوگ یکایک اپنے پروردگار کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں۔ |
| ابو الاعلی مودودی | لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب انہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کی طرف رجوع کر کے اُسے پکارتے ہیں، پھر جب وہ کچھ اپنی رحمت کا ذائقہ انہیں چکھا دیتا ہے تو یکایک ان میں سے کچھ لوگ شرک کرنے لگتے ہیں |
| احمد رضا خان | اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی طرف رجوع لاتے ہوئے پھر جب وہ انہیں اپنے پاس سے رحمت کا مزہ دیتا ہے جبھی ان میں سے ایک گروہ اپنے رب کا شریک ٹھہرانے لگتا ہے، |
| احمد علی | اور ولوگوں کو جب کوئی دکھ پہنچتا ہے تو اپنے رب کی طرف رجوع ہو کر اسے پکارتے ہیں پھر جب وہ انہیں اپنی رحمت کا مزہ چکھاتا ہے توایک گروہ ان میں سے اپنے رب سے شرک کرنے لگتا ہے |
| فتح جالندھری | اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار کو پکارتے اور اسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔ پھر جب وہ ان کو اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے تو ایک فرقہ اُن میں سے اپنے پروردگار سے شرک کرنے لگتا ہے |
| طاہر القادری | اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے پکارتے ہیں، پھر جب وہ ان کو اپنی جانب سے رحمت سے لطف اندوز فرماتا ہے تو پھر فوراً ان میں سے کچھ لوگ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں، |
| علامہ جوادی | اور لوگوں کو جب بھی کوئی مصیبت چھوجاتی ہے تو وہ پروردگار کو پوری توجہ کے ساتھ پکارتے ہیں اس کے بعد جب وہ رحمت کا مزہ چکھا دیتا ہے تو ان میں سے ایک گروہ شرک کرنے لگتا ہے |
| ایم جوناگڑھی | لوگوں کو جب کبھی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اپنے رب کی طرف (پوری طرح) رجوع ہو کر دعائیں کرتے ہیں، پھر جب وه اپنی طرف سے رحمت کاذائقہ چکھاتا ہے تو ان میں سے ایک جماعت اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتی ہے |
| حسین نجفی | اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرتے ہوئے اسے پکارتے ہیں پھر جب وہ انہیں اپنی طرف سے رحمت کا مزہ چکھاتا ہے تو یکایک ان میں سے ایک گروہ پروردگار کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے۔ |
| M.Daryabadi: | And when hurt toucheth mankind they cry unto their Lord, turning penitently unto Him; then when He causeth them to taste of His mercy, lo! a part of them with their Lord associate others. |
| M.M.Pickthall: | And when harm toucheth men they cry unto their Lord, turning to Him in repentance; then, when they have tasted of His mercy, behold! some of them attribute partners to their Lord |
| Saheeh International: | And when adversity touches the people, they call upon their Lord, turning in repentance to Him. Then when He lets them taste mercy from Him, at once a party of them associate others with their Lord, |
| Shakir: | And when harm afflicts men, they call upon their Lord, turning to Him, then when He makes them taste of mercy from Him, lo! some of them begin to associate (others) with their Lord, |
| Yusuf Ali: | When trouble touches men, they cry to their Lord, turning back to Him in repentance: but when He gives them a taste of Mercy as from Himself, behold, some of them pay part-worship to other god's besides their Lord,- |
آیت کے متعلق اہم نقاط
منفرد ایت
علمی ایت
انسان کی فطرت بیان کی گئی ہے کہ مصیبت میں یا تکلیف میں تو صرف اور صرف اللہ کو پکارتے ہیں لیکن جب اُس کی طرف سے رحمت ملتی ہے تو پھر اُس کے ساتھ شرک کرتے ہیں