Chapter No 19-پارہ نمبر    ‹           The Ant-27 سورت النمل ›Ayah No-32 ایت نمبر
| قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِیْ فِیْۤ اَمْرِیْ١ۚ مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ |
| آسان اُردو | اُس (ملکہ) نے کہا: اے سردارو! میرے معاملے میں مجھے رائے دو. میں ایک حکم کافیصلہ نہیں کرتی حتی کہ تم میرے گواہ ہوتے ہو.(یعنی تمہاری موجودگی میں فیصلہ کرتی ہوں) |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | ملکہ نے کہا : قوم کے سردارو ! جو مسئلہ میرے سامنے آیا ہے اس میں مجھے فیصلہ کن مشورہ دو۔ میں کسی مسئلے کا حتمی فیصلہ اس وقت تک نہیں کرتی جب تک تم میرے پاس موجود نہ ہو۔ |
| ابو الاعلی مودودی | (خط سُنا کر) ملکہ نے کہا "“اے سردارانِ قوم میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو، میں کسی معاملہ کا فیصلہ تمہارے بغیر نہیں کرتی ہوں" |
| احمد رضا خان | بولی اے سردارو! میرے اس معاملے میں مجھے رائے دو میں کسی معاملے میں کوئی قطعی فیصلہ نہیں کرتی جب تک تم میرے پاس حاضر نہ ہو، |
| احمد علی | کہنے لگی اے دربار والو مجھے میرے کام میں مشورہ دو میں کوئی بات تمہارے حاضر ہوئے بغیر طے نہیں کر تی |
| فتح جالندھری | (خط سنا کر) وہ کہنے لگی کہ اے اہل دربار میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو، جب تک تم حاضر نہ ہو (اور صلاح نہ دو) میں کسی کام کو فیصل کرنے والی نہیں |
| طاہر القادری | (ملکہ نے) کہا: اے دربار والو! تم مجھے میرے (اس) معاملہ میں مشورہ دو، میں کسی کام کا قطعی فیصلہ کرنے والی نہیں ہوں یہاں تک کہ تم میرے پاس حاضر ہو کر (اس اَمر کے موافق یا مخالف) گواہی دو، |
| علامہ جوادی | زعمائ مملکت! میرے مسئلہ میں رائے دو کہ میں تمہاری رائے کے بغیر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کرسکتی |
| ایم جوناگڑھی | اس نے کہا اے میرے سردارو! تم میرے اس معاملہ میں مجھے مشوره دو۔ میں کسی امر کا قطعی فیصلہ جب تک تمہاری موجودگی اور رائے نہ ہو نہیں کیا کرتی |
| حسین نجفی | چنانچہ ملکہ نے کہا: اے سردارانِ قوم! تم مجھے میرے اس معاملہ میں رائے دو (کیونکہ) میں کبھی کسی معاملہ کا کوئی قطعی فیصلہ نہیں کرتی جب تک تم لوگ میرے پاس موجود نہ ہو۔ |
| M.Daryabadi: | She said: O chiefs! counsel me in my affair. I am wont not to resolve on any affair until ye are present with me. |
| M.M.Pickthall: | She said: O chieftains! Pronounce for me in my case. I decide no case till ye are present with me. |
| Saheeh International: | She said, "O eminent ones, advise me in my affair. I would not decide a matter until you witness [for] me." |
| Shakir: | She said: O chiefs! give me advice respecting my affair: I never decide an affair until you are in my presence. |
| Yusuf Ali: | She said: "Ye chiefs! advise me in (this) my affair: no affair have I decided except in your presence." |
آیت کے متعلق اہم نقاط
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
تاریخی ایت
حضرت سلیمان ؑ اور ملکہ شیبا کے بارے میں