Chapter No 19-پارہ نمبر    ‹       The Poets-26 سورت الشعراء ›Ayah No-61 ایت نمبر
| فَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰۤى اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَۚ |
| آسان اُردو | پھر جب دونوں فوجوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو موسی ؑ کے ساتھیوں نے کہا: بے شک! ہم تو واقعی پکڑے (مارے) گے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | پھر جب دونوں جتھے ایک دوسرے کو نظر آنے لگے تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا کہ : اب تو پکی بات ہے کہ ہم پکڑ ہی لیے گئے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | جب دونوں گروہوں کا آمنا سامنا ہوا تو موسیٰؑ کے ساتھی چیخ اٹھے کہ "ہم تو پکڑے گئے" |
| احمد رضا خان | پھر جب آمنا سامنا ہوا دونوں گروہوں کا موسیٰ والوں نے کہا ہم کو انہوں نے آلیا |
| احمد علی | پھر جب دونوں جماعتوں نےایک دوسرے کو دیکھا تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا ہم تو پکڑے گئے |
| فتح جالندھری | جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے ساتھی کہنے لگے کہ ہم تو پکڑ لئے گئے |
| طاہر القادری | پھر جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں (تو) موسٰی (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے کہا: (اب) ہم ضرور پکڑے گئے، |
| علامہ جوادی | پھر جب دونوں ایک دوسرے کو نظر آنے لگے تو اصحاب موسیٰ نے کہا کہ اب تو ہم گرفت میںآجائیں گے |
| ایم جوناگڑھی | پس جب دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا، تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا، ہم تو یقیناً پکڑ لیے گئے |
| حسین نجفی | پس جب دونوں جماعتیں ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں (آمنے سامنے ہوئیں) تو موسیٰ کے ساتھیوں نے (گھبرا کر) کہا کہ بس ہم تو پکڑے گئے۔ |
| M.Daryabadi: | And when the two parties saw each other, the companions of Musa said: verily we are overtaken. |
| M.M.Pickthall: | And when the two hosts saw each other, those with Moses said: Lo! we are indeed caught. |
| Saheeh International: | And when the two companies saw one another, the companions of Moses said, "Indeed, we are to be overtaken!" |
| Shakir: | So when the two hosts saw each other, the companions of Musa cried out: Most surely we are being overtaken. |
| Yusuf Ali: | And when the two bodies saw each other, the people of Moses said: "We are sure to be overtaken." |
آیت کے متعلق اہم نقاط
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
حضرت موسیؑ اور فرعون کے بارے میں