Chapter No 19-پارہ نمبر    ‹       The Poets-26 سورت الشعراء ›Ayah No-36 ایت نمبر
| قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ ابْعَثْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ |
| آسان اُردو | اُنہوں نے کہا: اُسے(موسی ؑ) اور اُس کے بھائی (ہارونؑ) کو (کچھ عرصے کے لیے) پرے کر دے. اور شہروں میں (لوگوں کو) اکھٹا کرنے والے مقرر کر دے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | انہوں نے کہا : ان کو اور ان کے بھائی کو کچھ مہلت دیجیے، اور تمام شہروں میں ہر کارے بھیج دیجیے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | انہوں نے کہا "اسے اور اس کے بھائی کو روک لیجیے اور شہروں میں ہرکارے بھیج دیجیے |
| احمد رضا خان | وہ بولے انہیں ان کے بھائی کو ٹھہرائے رہو اور شہروں میں جمع کرنے والے بھیجو، |
| احمد علی | کہا اسےاور اس کے بھائی کو مہلت دو اور شہروں میں چپڑاسیوں کو بھیج دیجیئے |
| فتح جالندھری | انہوں نے کہا کہ اسے اور اس کے بھائی (کے بارے) میں کچھ توقف کیجیئے اور شہروں میں ہرکارے بھیج دیجیئے |
| طاہر القادری | وہ بولے کہ تو اسے اور اس کے بھائی (ہارون کے حکمِ سزا سنانے) کو مؤخر کر دے اور (تمام) شہروں میں (جادوگروں کو بلانے کے لئے) ہرکارے بھیج دے، |
| علامہ جوادی | لوگوں نے کہا کہ انہیں اور ان کے بھائی کو روک لیجئے اور شہروں میں جادوگروں کو اکٹھاکرنے والوں کو روانہ کردیجئے |
| ایم جوناگڑھی | ان سب نے کہا آپ اسے اور اس کے بھائی کو مہلت دیجئے اور تمام شہروں میں ہرکارے بھیج دیجئے |
| حسین نجفی | انہوں نے کہا اسے اور اس کے بھائی کو روک لیجئے اور تمام شہروں میں جمع کرنے والے آدمی (ہرکارے) بھیجئے۔ |
| M.Daryabadi: | They said: put off him and his brother, and send unto the cities callers. |
| M.M.Pickthall: | They said: Put him off, (him) and his brother, and send into the cities summoners |
| Saheeh International: | They said, "Postpone [the matter of] him and his brother and send among the cities gatherers |
| Shakir: | They said: Give him and his brother respite and send heralds into the cities |
| Yusuf Ali: | They said: "Keep him and his brother in suspense (for a while), and dispatch to the Cities heralds to collect- |
آیت کے متعلق اہم نقاط
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
حضرت موسیؑ اور فرعون کے بارے میں