Chapter No 19-پارہ نمبر    ‹       The Poets-26 سورت الشعراء ›Ayah No-28 ایت نمبر
| قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ |
| آسان اُردو | اُس (موسی ؑ) نے کہا: اگر تم سمجھتے ہو، تو (اے لوگو) رب ہے مشرق اور مغرب کا اور جو کچھ ان(دونوں)کے درمیان ہے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | موسیٰ نے کہا : وہ مشرق و مغرب کا بھی پروردگار ہے، اور ان کے درمیان ساری چیزوں کا بھی، اگر تم عقل سے کام لو۔ |
| ابو الاعلی مودودی | موسیٰؑ نے کہا "مشرق و مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب، اگر آپ لوگ کچھ عقل رکھتے ہیں" |
| احمد رضا خان | موسیٰ نے فرمایا رب پورب (مشرق) اور پچھم (مغرب) کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اگر تمہیں عقل ہو |
| احمد علی | فرمایا مشر ق مغرب اور جو ان کے درمیان ہے سب کا پروردگار ہے اگر تم عقل رکھتے ہو |
| فتح جالندھری | موسیٰ نے کہا کہ مشرق اور مغرب اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کا مالک، بشرطیکہ تم کو سمجھ ہو |
| طاہر القادری | (موسٰی علیہ السلام نے) کہا: (وہ) مشرق اور مغرب اور اس (ساری کائنات) کا رب ہے جو ان دونوں کے درمیان ہے اگر تم (کچھ) عقل رکھتے ہو، |
| علامہ جوادی | موسیٰ نے کہا وہ مشرق و مغرب اور جو کچھ اس کے درمیان ہے سب کا پرودگار ہے اگر تمہارے پاس عقل ہے |
| ایم جوناگڑھی | حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا! وہی مشرق ومغرب کا اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب ہے، اگر تم عقل رکھتے ہو |
| حسین نجفی | موسیٰ نے کہا کہ وہ مشرق و مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا پروردگار ہے اگر تم عقل سے کام لو۔ |
| M.Daryabadi: | He said: Lord of the east and the west and whatsoever is in-between, if ye understand. |
| M.M.Pickthall: | He said: Lord of the East and the West and all that is between them, if ye did but understand. |
| Saheeh International: | [Moses] said, "Lord of the east and the west and that between them, if you were to reason." |
| Shakir: | He said: The Lord of the east and the west and what is between them, if you understand. |
| Yusuf Ali: | (Moses) said: "Lord of the East and the West, and all between! if ye only had sense!" |
آیت کے متعلق اہم نقاط
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
حضرت موسیؑ اور فرعون کے بارے میں