Chapter No 19-پارہ نمبر    ‹       The Poets-26 سورت الشعراء ›Ayah No-15 ایت نمبر
| قَالَ كَلَّا١ۚ فَاذْهَبَا بِاٰیٰتِنَاۤ اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ |
| آسان اُردو | اُس (اللہ) نے کہا: ہر گز نہیں. چنانچہ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ. بے شک! ہم،(ہر چیز کو) سنتے ہوئے تمہارے ساتھ ہوں گے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | اللہ نے فرمایا کہ : ہرگز نہیں۔ تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ۔ یقین رکھو کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں، ساری باتیں سنتے رہیں گے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | فرمایا "ہرگز نہیں، تم دونوں جاؤ ہماری نشانیاں لے کر، ہم تمہارے ساتھ سب کچھ سنتے رہیں گے |
| احمد رضا خان | فرما یا یوں نہیں تم دو نوں میری آئتیں لے کر جا ؤ ہم تمھا رے ساتھ سنتے ہیں |
| احمد علی | فرمایا ہر گز نہیں تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ ہم تمہارے ساتھ سننے والے ہیں |
| فتح جالندھری | فرمایا ہرگز نہیں۔ تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ ہم تمہارے ساتھ سننے والے ہیں |
| طاہر القادری | ارشاد ہوا: ہرگز نہیں، پس تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ بیشک ہم تمہارے ساتھ (ہر بات) سننے والے ہیں، |
| علامہ جوادی | ارشاد ہوا کہ ہرگز نہیںتم دونوں ہی ہماری نشانیوں کو لے کر جاؤ اور ہم بھی تمہارے ساتھ سب سن رہے ہیں |
| ایم جوناگڑھی | جناب باری نے فرمایا! ہرگز ایسا نہ ہوگا، تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ ہم خود سننے والے تمہارے ساتھ ہیں |
| حسین نجفی | ارشاد ہوا ہرگز نہیں! تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ ہم تمہارے ساتھ (سب کچھ) سن رہے ہیں۔ |
| M.Daryabadi: | He said: by no means. so go ye twain with Our signs; verily We shall be with you listening. |
| M.M.Pickthall: | He said: Nay, verily. So go ye twain with Our tokens. Lo! We shall be with you, Hearing. |
| Saheeh International: | [Allah] said, "No. Go both of you with Our signs; indeed, We are with you, listening. |
| Shakir: | He said: By no means, so go you both with Our signs; surely We are with you, hearing; |
| Yusuf Ali: | Allah said: "By no means! proceed then, both of you, with Our Signs; We are with you, and will listen (to your call). |
آیت کے متعلق اہم نقاط
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
حضرت موسیؑ اور فرعون کے بارے میں