Chapter No 17-پارہ نمبر   ‹             The Pilgrimage-22 سورت الحج  ›Ayah No-30 ایت نمبر
| ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ وَ اُحِلَّتْ لَكُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِۙ |
| آسان اُردو | یہ (تو ایسا) ہے، اور جو (شخص) اللہ کی حرمت والی چیزوں کی تعظیم (احترام)کرے گا، پھر وہ اُس کے رب کے ہاں اُس (انسان) کے لئے بہتر ہو گا. اور چوپائے تمہارے لئے حلال کیے گئے ہیں ماسوائے(اُن کے) جو تم پر پڑھے گئے ہیں. چنانچہ بتوں کی گندگی سے بچو اور جھوٹی بات سے بھی بچو |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | یہ ساری باتیں یاد رکھو، اور جو شخص ان چیزوں کی تعظیم کرے گا جن کو اللہ نے حرمت دی ہے تو اس کے حق میں یہ عمل اس کے پروردگار کے نزدیک بہت بہتر ہے۔ سارے مویشی تمہارے لیے حلال کردیے گئے ہیں، سوائے ان جانوروں کے جن کی تفصیل تمہیں پڑھ کر سنا دی گئی ہے۔ لہذا بتوں کی گندگی اور جھوٹٰ بات سے اس طرح بچ کر رہو۔ |
| ابو الاعلی مودودی | یہ تھا (تعمیر کعبہ کا مقصد) اور جو کوئی اللہ کی قائم کردہ حرمتوں کا احترام کرے تو یہ اس کے رب کے نزدیک خود اسی کے لیے بہتر ہے اور تمہارے لیے مویشی جانور حلال کیے گئے، ما سوا اُن چیزوں کے جو تمہیں بتائی جا چکی ہیں پس بتوں کی گندگی سے بچو، جھوٹی باتوں سے پرہیز کرو |
| احمد رضا خان | بات یہ ہے اور جو اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرے تو وہ اس کے لیے اس کے رب کے یہاں بھلا ہے، اور تمہارے لیے حلال کیے گئے بے زبان چوپائے سوا ان کے جن کی ممانعت تم پر پڑھی جاتی ہے تو دور ہو بتوں کی گندگی سے اور بچو جھوٹی بات سے، |
| احمد علی | یہی حکم ہے اور جو الله کی معزز چیزوں کی تعظیم کرے گا سو یہ اس کے لیے اس کے رب کے ہاں بہتر ہے اور تمہارے لیے مویشی حلال کر دیئے گئے ہیں مگر وہ جو تمہیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں پھر بتوں کی ناپاکی سے بچو اور جھوٹی بات سے بھی پرہیز کرو |
| فتح جالندھری | یہ (ہمارا حکم ہے) جو شخص ادب کی چیزوں کی جو خدا نے مقرر کی ہیں عظمت رکھے تو یہ پروردگار کے نزدیک اس کے حق میں بہتر ہے۔ اور تمہارے لئے مویشی حلال کردیئے گئے ہیں۔ سوا ان کے جو تمہیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں تو بتوں کی پلیدی سے بچو اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو |
| طاہر القادری | یہی (حکم) ہے، اور جو شخص اﷲ (کی بارگاہ) سے عزت یافتہ چیزوں کی تعظیم کرتا ہے تو وہ اس کے رب کے ہاں اس کے لئے بہتر ہے، اور تمہارے لئے (سب) مویشی (چوپائے) حلال کر دیئے گئے ہیں سوائے ان کے جن کی ممانعت تمہیں پڑھ کر سنائی گئی ہے سو تم بتوں کی پلیدی سے بچا کرو اور جھوٹی بات سے پرہیز کیا کرو، |
| علامہ جوادی | یہ ایک حکم خدا ہے اور جو شخص بھی خدا کی محترم چیزوں کی تعظیم کرے گا وہ اس کے حق میں پیش پروردگار بہتری کا سبب ہوگی اور تمہارے لئے تمام جانور حلال کردیئے گئے ہیں علاوہ ان کے جن کے بارے میں تم سے بیان کیا جائے گا لہذا تم ناپاک بتوں سے پرہیز کرتے رہو اور لغو اور مہمل باتوں سے اجتناب کرتے رہو |
| ایم جوناگڑھی | یہ ہے اور جو کوئی اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرے اس کے اپنے لئے اس کے رب کے پاس بہتری ہے۔ اور تمہارے لئے چوپائے جانور حلال کر دیئے گئے بجز ان کے جو تمہارے سامنے بیان کیے گئے ہیں پس تمہیں بتوں کی گندگی سے بچتے رہنا چاہئے اور جھوٹی بات سے بھی پرہیز کرنا چاہئے |
| حسین نجفی | یہ ہے حج اور اس کے مناسک کی بات! جو اللہ کی محترم چیزوں کی تعظیم کرتا ہے۔ تو یہ اس کے پروردگار کے ہاں بہتر ہے اور تمہارے لئے چوپائے حلال ہیں۔ بجز ان کے جو تم سے بیان کئے جاتے رہتے ہیں۔ پس تم بتوں کی گندگی سے پرہیز کرو۔ اور راگ گانے کی مجلس سے اجتناب کرو۔ |
| M.Daryabadi: | Thus it is. And whosoever suspecteth the sacred ordinances of Allah, it shall be better for him with his Lord. And allowed unto you are the cattle, save that which hath been rehearsed unto you; so avoid the pollution of the idols, and avoid the word of falsehood. |
| M.M.Pickthall: | That [has been commanded], and whoever honors the sacred ordinances of Allah - it is best for him in the sight of his Lord. And permitted to you are the grazing livestock, except what is recited to you. So avoid the uncleanliness of idols and avoid false statement, |
| Saheeh International: | That (shall be so); and whoever respects the sacred ordinances of Allah, it is better for him with his Lord; and the cattle are made lawful for you, except that which is recited to you, therefore avoid the uncleanness of the idols and avoid false words, |
| Shakir: | That (is the command). And whoso magnifieth the sacred things of Allah, it will be well for him in the sight of his Lord. The cattle are lawful unto you save that which hath been told you. So shun the filth of idols, and shun lying speech: |
| Yusuf Ali: | Such (is the Pilgrimage): whoever honours the sacred rites of Allah, for him it is good in the Sight of his Lord. Lawful to you (for food in Pilgrimage) are cattle, except those mentioned to you (as exception): but shun the abomination of idols, and shun the word that is false,- |
آیت کے متعلق اہم نقاط
ایت کا کچھ حصہ محکم ہے کیوں کہ احکامات دیے گے ہیں