Chapter No 17-پارہ نمبر   ‹             The Pilgrimage-22 سورت الحج  ›Ayah No-31 ایت نمبر
| حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَیْرَ مُشْرِكِیْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّیْرُ اَوْ تَهْوِیْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ مَكَانٍ سَحِیْقٍ |
| آسان اُردو | اُس کے ساتھ شریک نہ بنا کراللہ کے ہی ہوکر رہو؛ اور جو اللہ سے شرک کرتا ہے، پھر وہ جیسے کہ آسمان سے گر پڑا ہو پھر پرندے اُس کو چھین لے جائیں یا تیز آندھی اُس کو کسی دور مقام میں لے اُڑے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | کہ تم یکسوئی کے ساتھ اللہ کی طرف رخ کیے ہوئے ہو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ مانتے ہو۔ اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے تو گویا وہ آسمان سے گرپڑا۔ پھر یا تو پرندے اسے اچک لے جائیں، یا ہوا اسے کہیں دور دراز کی جگہ لا پھینکے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | یکسُو ہو کر اللہ کے بندے بنو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے تو گویا وہ آسمان سے گر گیا، اب یا تو اسے پرندے اُچک لے جائیں گے یا ہوا اُس کو ایسی جگہ لے جا کر پھینک دے گی جہاں اُس کے چیتھڑے اڑ جائیں گے |
| احمد رضا خان | ایک اللہ کے ہوکر کہ اس کا ساجھی کسی کو نہ کرو، اور جو اللہ کا شریک کرے وہ گویا گرا آسمان سے کہ پرندے اسے اچک لے جاتے ہیں یا ہوا اسے کسی دور جگہ پھینکتی ہے |
| احمد علی | خاص الله کے ہو کر رہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور جو الله کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا پھر اسے پرندے اچک لیتے ہیں یا اسے ہوا اڑا کر کسی دور جگہ پھینک دیتی ہے |
| فتح جالندھری | صرف ایک خدا کے ہو کر اس کے ساتھ شریک نہ ٹھیرا کر۔ اور جو شخص (کسی کو) خدا کے ساتھ شریک مقرر کرے تو وہ گویا ایسا ہے جیسے آسمان سے گر پڑے پھر اس کو پرندے اُچک لے جائیں یا ہوا کسی دور جگہ اُڑا کر پھینک دے |
| طاہر القادری | صرف اﷲ کے ہوکر رہو اس کے ساتھ (کسی کو) شریک نہ ٹھہراتے ہوئے، اور جو کوئی اﷲ کے ساتھ شرک کرتاہے تو گویا وہ (ایسے ہے جیسے) آسمان سے گر پڑے پھر اس کو پرندے اچک لے جائیں یا ہوا اس کو کسی دور کی جگہ میں نیچے جا پھینکے، |
| علامہ جوادی | اللہ کے لئے مخلص اور باطل سے کترا کر رہو اور کسی طرح کا شرک اختیار نہ کرو کہ جو کسی کو اس کا شریک بناتا ہے وہ گویا آسمان سے گر پڑتا ہے اور اسے پرندہ اچک لیتا ہے یا ہوا کسی دور دراز جگہ پر لے جاکر پھینک دیتی ہے |
| ایم جوناگڑھی | اللہ کی توحید کو مانتے ہوئے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتے ہوئے۔ سنو! اللہ کے ساتھ شریک کرنے واﻻ گویا آسمان سے گر پڑا، اب یا تو اسے پرندے اچک لے جائیں گے یا ہوا کسی دور دراز کی جگہ پھینک دے گی |
| حسین نجفی | صرف اللہ ہی کیلئے ہو کر رہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہوئے۔ اور جو کوئی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے تو گویا وہ آسمان سے گرا تو اسے کسی پرندہ نے اچک لیا یا ہوا نے اسے کسی دور دراز جگہ پر پھینک دیا۔ |
| M.Daryabadi: | Reclining unto Allah, not associating aught with Him. And whosoever associateth aught with Allah, it is as though he had fallen from the heaven and the birds had snatched him, or the wind had blown him to a place remote. |
| M.M.Pickthall: | Turning unto Allah (only), not ascribing partners unto Him; for whoso ascribeth partners unto Allah, it is as if he had fallen from the sky and the birds had snatched him or the wind had blown him to a far off place. |
| Saheeh International: | Inclining [only] to Allah, not associating [anything] with Him. And he who associates with Allah - it is as though he had fallen from the sky and was snatched by the birds or the wind carried him down into a remote place. |
| Shakir: | Being upright for Allah, not associating aught with Him and whoever associates (others) with Allah, it is as though he had fallen from on high, then the birds snatch him away or the wind carries him off to a far-distant place. |
| Yusuf Ali: | Being true in faith to Allah, and never assigning partners to Him: if anyone assigns partners to Allah, is as if he had fallen from heaven and been snatched up by birds, or the wind had swooped (like a bird on its prey) and thrown him into a far-distant place. |
آیت کے متعلق اہم نقاط
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے