Chapter No 17-پارہ نمبر   ‹             The Prophets-21 سورت الانبیاء  ›Ayah No-104 ایت نمبر
| یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ كَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِؕ كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُهٗؕ وَعْدًا عَلَیْنَاؕ اِنَّا كُنَّا فٰعِلِیْنَ |
| آسان اُردو | (اُس) دن ہم آسمانوں کو لپیٹ دیں گے جیسے کوئی کاتب لکھے ہوئے کاغذات لپیٹتا ہے. جیسے ہم نے پہلی تخلیق شروع کی تھی، ہم اُس کودوبارہ کریں گے.(یہ) ایک وعدہ ہم پر(لازم)ہے. بے شک! ہم(اس کو پورا) کریں گے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | اس دن (کا دھیان رکھو) جب ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ دیں گے جیسے کاغذوں کے طومار میں تحریریں لپیٹ دی جاتی ہیں۔ جس طرح ہم نے پہلے بار تخلیق کی ابتدا کی تھی، اسی طرح ہم اسے دوبارہ پیدا کردیں گے۔ یہ ایک وعدہ ہے جسے پورا کرنے کا ہم نے ذمہ لیا ہے۔ ہمیں یقینا یہ کام کرنا ہے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | وہ دن جبکہ آسمان کو ہم یوں لپیٹ کر رکھ دیں گے جیسے طومار میں اوراق لپیٹ دیے جاتے ہیں جس طرح پہلے ہم نے تخلیق کی ابتدا کی تھی اُسی طرح ہم پھر اُس کا اعادہ کریں گے یہ ایک وعدہ ہے ہمارے ذمے، اور یہ کام ہمیں بہرحال کرنا ہے |
| احمد رضا خان | جس دن ہم آسمان کو لپیٹیں گے جیسے سجل فرشتہ نامہٴ اعمال کو لپیٹتا ہے، جیسے پہلے اسے بنایا تھا ویسے ہی پھر کردیں گے یہ وعدہ ہے ہمارے ذمہ، ہم کو اس کا ضرور کرنا، |
| احمد علی | جس دن ہم آسمان کو اس طرح لپیٹیں گے جیسے خطوں کا طومار لپیٹا جاتا ہے جس طرح ہم نے پہلی بار پیدا کیا تھا دوبارہ بھی پیدا کریں گے یہ ہمارے ذمہ وعدہ ہے بے شک ہم پورا کرنے والے ہیں |
| فتح جالندھری | جس دن ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ لیں گے جیسے خطوں کا طومار لپیٹ لیتے ہیں۔ جس طرح ہم نے (کائنات کو) پہلے پیدا کیا اسی طرح دوبارہ پیدا کردیں گے۔ (یہ) وعدہ (جس کا پورا کرنا لازم) ہے۔ ہم (ایسا) ضرور کرنے والے ہیں |
| طاہر القادری | اس دن ہم (ساری) سماوی کائنات کو اس طرح لپیٹ دیں گے جیسے لکھے ہوئے کاغذات کو لپیٹ دیا جاتا ہے، جس طرح ہم نے (کائنات کو) پہلی بار پیدا کیا تھا ہم (اس کے ختم ہو جانے کے بعد) اسی عملِ تخلیق کو دہرائیں گے۔ یہ وعدہ پورا کرنا ہم نے لازم کر لیا ہے۔ ہم (یہ اعادہ) ضرور کرنے والے ہیں، |
| علامہ جوادی | اس دن ہم تمام آسمانوں کو اس طرح لپیٹ دیں گے جس طرح خطوں کا طومار لپیٹا جاتا ہے اور جس طرح ہم نے تخلیق کی ابتدائ کی ہے اسی طرح انہیں واپس بھی لے آئیں گے یہ ہمارے ذمہ ایک وعدہ ہے جس پر ہم بہرحال عمل کرنے والے ہیں |
| ایم جوناگڑھی | جس دن ہم آسمان کو یوں لپیٹ لیں گے جیسے طومار میں اوراق لپیٹ دیئے جاتے ہیں، جیسے کہ ہم نے اول دفعہ پیدائش کی تھی اسی طرح دوباره کریں گے۔ یہ ہمارے ذمے وعده ہے اور ہم اسے ضرور کر کے (ہی) رہیں گے |
| حسین نجفی | جس دن ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ دیں گے جس طرح طومار میں خطوط لپیٹے جاتے ہیں جس طرح ہم نے پہلے تخلیق کی ابتداء کی تھی اسی طرح ہم اس کا اعادہ کریں گے۔ یہ ہمارے ذمہ وعدہ ہے یقیناً ہم اسے (پورا) کرکے رہیں گے۔ |
| M.Daryabadi: | The Day whereon We shall roll up the heaven like as the rolling up of a scroll for books. Even as We began the first creation, We shall restore it: a promise binding upon Us; verily We have been the Doers. |
| M.M.Pickthall: | The Day when We shall roll up the heavens as a recorder rolleth up a written scroll. As We began the first creation, We shall repeat it. (It is) a promise (binding) upon Us. Lo! We are to perform it. |
| Saheeh International: | The Day when We will fold the heaven like the folding of a [written] sheet for the records. As We began the first creation, We will repeat it. [That is] a promise binding upon Us. Indeed, We will do it. |
| Shakir: | On the day when We will roll up heaven like the rolling up of the scroll for writings, as We originated the first creation, (so) We shall reproduce it; a promise (binding on Us); surely We will bring it about. |
| Yusuf Ali: | The Day that We roll up the heavens like a scroll rolled up for books (completed),- even as We produced the first creation, so shall We produce a new one: a promise We have undertaken: truly shall We fulfil it. |
آیت کے متعلق اہم نقاط
مستقبل کی بات ہے