Chapter No 16-پارہ نمبر   ‹                            Ta Ha-20 سورت طٰهٰ  ›Ayah No-111 ایت نمبر
| وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِؕ وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا |
| آسان اُردو | اور چہرے زندہ اور ہمیشہ قائم رہنے والے (باری تعالی) کے لیے جھک جائیں گے.اور واقعی ناکام(برباد) ہو جائے گا جس نے ظلم(نافرمانی) کا بوجھ اُ ٹھایا ہوا ہو گا |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | اور سارے کے سارے چہرے حی وقیوم کے آگے جھکے ہوں گے، اور جو کوئی ظلم کا بوجھ لاد کر لایا ہوگا نامراد ہوگا۔ |
| ابو الاعلی مودودی | لوگوں کے سر اُس حیّ و قیّوم کے آگے جھک جائیں گے نامراد ہوگا جو اُس وقت کسی ظلم کا بار گناہ اٹھائے ہوئے ہو |
| احمد رضا خان | اور سب منہ جھک جائیں گے اس زندہ قائم رکھنے والے کے حضور اور بیشک نامراد رہا جس نے ظلم کا بوجھ لیا |
| احمد علی | اور سب منہ حّی و قیوم کے سامنے جھک جائیں گے اور تحقیق نامراد ہوا جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا |
| فتح جالندھری | اور اس زندہ و قائم کے رو برو منہ نیچے ہوجائیں گے۔ اور جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا وہ نامراد رہا |
| طاہر القادری | اور (سب) چہرے اس ہمیشہ زندہ (اور) قائم رہنے والے (رب) کے حضور جھک جائیں گے، اور بیشک وہ شخص نامراد ہوگا جس نے ظلم کا بوجھ اٹھا لیا، |
| علامہ جوادی | اس دن سارے چہرے خدائے حی و قیوم کے سامنے جھکے ہوں گے اور ظلم کا بوجھ اٹھانے والا ناکام اور رسوا ہوگا |
| ایم جوناگڑھی | تمام چہرے اس زنده اور قائم دائم مدبر، اللہ کے سامنے کمال عاجزی سے جھکے ہوئے ہونگے، یقیناً وه برباد ہوا جس نے ﻇلم ﻻد لیا |
| حسین نجفی | سب کے چہرے حی و قیوم کے سامنے جھکے ہوئے ہوں گے اور جو شخص ظلم کا بوجھ اٹھائے گا وہ ناکام و نامراد ہو جائے گا۔ |
| M.Daryabadi: | And downcast will be faces before the Living, the Self- subsisting, and disappointed will be he who beareth a wrong. |
| M.M.Pickthall: | And faces humble themselves before the Living, the Eternal. And he who beareth (a burden of) wrongdoing is indeed a failure (on that Day). |
| Saheeh International: | And [all] faces will be humbled before the Ever-Living, the Sustainer of existence. And he will have failed who carries injustice. |
| Shakir: | And the faces shall be humbled before the Living, the Self-subsistent Allah, and he who bears iniquity is indeed a failure. |
| Yusuf Ali: | (All) faces shall be humbled before (Him) - the Living, the Self-Subsisting, Eternal: hopeless indeed will be the man that carries iniquity (on his back). |
آیت کے متعلق اہم نقاط
آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے یعنی ایک عنوان یا بات ہے جو کہ تسلسل سے ہو رہی ہے
قیامت کے دن کی بات ہے