اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 16-پارہ نمبر                       Mariam-19 سورت مریم  Ayah No-35 ایت نمبر

مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍۙ سُبْحٰنَهٗؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُؕ
آسان اُردو یہ اللہ کے لیے نہیں ہے کہ وہ ایک بیٹا بنا لے. پاک ہے وہ! جب وہ ایک حکم(یا معاملہ) پورا کرتا ہے پھرصرف اُسکو اتنا ہی کہتا ہے: " ہو جا " اور وہ "ہو جاتا ہے"
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی اللہ کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ کوئی بیٹا بنائے، اس کی ذات پاک ہے۔ جب وہ کسی بات کا فیصلہ کرلیتا ہے تو بس اس سے یہ کہتا ہے کہ ہوجا۔ چنانچہ وہ ہو جاتی ہے۔
ابو الاعلی مودودی اللہ کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے وہ پاک ذات ہے وہ جب کسی بات کا فیصلہ کرتا ہے تو کہتا ہے کہ ہو جا، اور بس وہ ہو جاتی ہے
احمد رضا خان اللہ کو لائق نہیں کہ کسی کو اپنا بچہ ٹھہرائے پاکی ہے اس کو جب کسی کام کا حکم فرماتا ہے تو یونہی کہ اس سے فرماتا ہے ہوجاؤ وہ فوراًٰ ہوجاتا ہے،
احمد علی الله کی شان نہیں کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے وہ پاک ہے جب کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے توصرف اسے کن کہتا ہے پھر وہ ہو جاتا ہے
فتح جالندھری خدا کو سزاوار نہیں کہ کسی کو بیٹا بنائے۔ وہ پاک ہے جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو یہی کہتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے
طاہر القادری یہ اللہ کی شان نہیں کہ وہ (کسی کو اپنا) بیٹا بنائے، وہ (اس سے) پاک ہے، جب وہ کسی کام کا فیصلہ فرماتا ہے تو اسے صرف یہی حکم دیتا ہے: ”ہوجا“ بس وہ ہوجاتا ہے،
علامہ جوادی اللہ کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ کسی کو اپنا فرزند بنائے وہ پاک و بے نیاز ہے جس کسی بات کا فیصلہ کرلیتا ہے تو اس سے کہتا ہے کہ ہوجا اور وہ چیز ہوجاتی ہے
ایم جوناگڑھی اللہ تعالیٰ کے لئے اوﻻد کا ہونا ﻻئق نہیں، وه تو بالکل پاک ذات ہے، وه تو جب کسی کام کے سر انجام دینے کا اراده کرتا ہے تو اسے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا، وه اسی وقت ہو جاتا ہے
حسین نجفی یہ بات اللہ کے شایانِ شان نہیں ہے کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے۔ پاک ہے اس کی ذات جب وہ کسی کام کا فیصلہ کر لیتا ہے تو اسے کہتا ہے ہو جا تو وہ (کام) ہو جاتا ہے۔
=========================================
M.Daryabadi: Allah is not one to take to Himself a son. Hallowed be He! whensoever He decreeth an affair he only Saith to it: be, and it becometh.
M.M.Pickthall: It befitteth not (the Majesty of) Allah that He should take unto Himself a son. Glory be to Him! When He decreeth a thing, He saith unto it only: Be! and it is.
Saheeh International: It is not [befitting] for Allah to take a son; exalted is He! When He decrees an affair, He only says to it, "Be," and it is.
Shakir: It beseems not Allah that He should take to Himself a son, glory to be Him; when He has decreed a matter He only says to it "Be," and it is.
Yusuf Ali: It is not befitting to (the majesty of) Allah that He should beget a son. Glory be to Him! when He determines a matter, He only says to it, "Be", and it is.
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

منفرد یا الگ آیت: ایک الگ بات یا موضوع کے بارے میں ہے
درمیانی ایت: جو کہ کسی موضوع کے درمیان آ جاتی ہے اور بات پھر اصلی عنوان پر شروع ہو جاتی ہے