Chapter No 15-پارہ نمبر   ‹                  The Cave-18 سورت الکھف  ›Ayah No-74 ایت نمبر
| فَانْطَلَقَاٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَهٗۙ قَالَ اَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِیَّةًۢ بِغَیْرِ نَفْسٍؕ لَقَدْ جِئْتَ شَیْــٴًـا نُّكْرًا |
| آسان اُردو | پھر وہ دونوں آگے چل پڑے حتی کہ جب وہ ایک لڑکے سے ملے، پھراُس (اللہ کے بندے) نے اُس (لڑکے) کو قتل کر دیا.اُس (موسٰیؐ)نے کہا: کیا! آپ نے ایک معصوم جان کا قتل کیا ہے بغیر کسی جاندار کے(قتل کے)؟ واقعی! آپ ایک بُری چیز لائے (یعنی کر چکے) ہیں |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | وہ دونوں پھر روانہ ہوگئے، یہاں تک کہ ان کی ملاقات ایک لڑکے سے ہوئی تو ان صاحب نے اسے قتل کر ڈالا۔ موسیٰ بول اٹھے : ارے کیا آپ نے ایک پاکیزہ جان کو ہلاک کردیا، جبکہ اس نے کسی کی جان نہیں لی تھی، جس کا بدلہ اس سے لیا جائے ؟ یہ تو آپ نے بہت ہی برا کام کیا۔ |
| ابو الاعلی مودودی | پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ان کو ایک لڑکا ملا اور اس شخص نے اسے قتل کر دیا موسیٰؑ نے کہا "آپ نے ایک بے گناہ کی جان لے لی حالانکہ اُس نے کسی کا خون نہ کیا تھا؟ یہ کام تو آپ نے بہت ہی برا کیا" |
| احمد رضا خان | پھر دونوں چلے یہاں تک کہ جب ایک لڑکا ملا اس بندہ نے اسے قتل کردیا، موسیٰ نے کہا کیا تم نے ایک ستھری جان بے کسی جان کے بدلے قتل کردی، بیشک تم نے بہت بری بات کی، |
| احمد علی | پھر دونوں چلے یہاں تک کہ انہیں ایک لڑکا ملا تو اسے مار ڈالا کہا تو نے ایک بے گناہ کو ناحق مار ڈالا البتہ تو نے بڑی بات کی |
| فتح جالندھری | پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ (رستے میں) ایک لڑکا ملا تو (خضر نے) اُسے مار ڈالا۔ (موسیٰ نے) کہا کہ آپ نے ایک بےگناہ شخص کو ناحق بغیر قصاص کے مار ڈالا۔ (یہ تو) آپ نے بری بات کی |
| طاہر القادری | پھر وہ دونوں چل دیئے یہاں تک کہ دونوں ایک لڑکے سے ملے تو (خضر علیہ السلام نے) اسے قتل کر ڈالا، موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: کیا آپ نے بے گناہ جان کو بغیر کسی جان (کے بدلہ) کے قتل کر دیا ہے، بیشک آپ نے بڑا ہی سخت کام کیا ہے، |
| علامہ جوادی | پھر دونوں آگے بڑھے یہاں تک کہ ایک نوجوان نظر آیا اور اس بندہ خدا نے اسے قتل کردیا موسٰی نے کہا کہ کیا آپ نے ایک پاکیزہ نفس کو بغیر کسی نفس کے قتل کردیا ہے یہ تو بڑی عجیب سی بات ہے |
| ایم جوناگڑھی | پھر دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک لڑکے کو پایا، اس نے اسے مار ڈاﻻ، موسیٰ نے کہا کہ کیا آپ نے ایک پاک جان کو بغیر کسی جان کے عوض مار ڈاﻻ؟ بےشک آپ نے تو بڑی ناپسندیده حرکت کی |
| حسین نجفی | چنانچہ پھر دونوں چل پڑے یہاں تک کہ ایک لڑکے سے ملے تو اس بندہ نے اسے قتل کر دیا۔ موسیٰ نے کہا آپ نے ایک پاکیزہ نفس (بے گناہ) کو قصاص کے بغیر قتل کر دیا۔ یہ تو آپ نے سخت برا کام کیا۔ |
| M.Daryabadi: | Then the twain journeyed until when they met a boy, and he killed him. Musa said: hast thou slain a person innocent not in return for a Person Assuredly thou hast committed a thing formidable. |
| M.M.Pickthall: | So the twain journeyed on till, when they met a lad, he slew him. (Moses) said: What! Hast thou slain an innocent soul who hath slain no man? Verily thou hast done a horrid thing! |
| Saheeh International: | So they set out, until when they met a boy, al-Khidh r killed him. [Moses] said, "Have you killed a pure soul for other than [having killed] a soul? You have certainly done a deplorable thing." |
| Shakir: | So they went on until, when they met a boy, he slew him. (Musa) said: Have you slain an innocent person otherwise than for manslaughter? Certainly you have done an evil thing. |
| Yusuf Ali: | Then they proceeded: until, when they met a young man, he slew him. Moses said: "Hast thou slain an innocent person who had slain none? Truly a foul (unheard of) thing hast thou done!" |
آیت کے متعلق اہم نقاط
آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے یعنی ایک عنوان یا بات ہے جو کہ تسلسل سے ہو رہی ہے
موسی ؑ اور اللہ کے بندے کی بات چیت