Chapter No 14-پارہ نمبر    ‹           The Bee-16 سورت النحل         ›Ayah No-21 ایت نمبر
| اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍ١ۚ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ١ۙ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ |
| آسان اُردو | وہ (یعنی جن کو لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں) مرے ہوئے ہیں،زندہ نہیں ہیں. اور وہ نہیں جانتے ہیں کہ وہ کب (دوبارہ) اُٹھائیں جائیں گے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | وہ بےجان ہیں، ان میں زندگی نہیں، اور ان کو اس بات کا بھی احساس نہیں ہے کہ ان لوگوں کو کب زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔ |
| ابو الاعلی مودودی | مردہ ہیں نہ کہ زندہ اور ان کو کچھ معلوم نہیں ہے کہ انہیں کب (دوبارہ زندہ کر کے) اٹھایا جائے گا |
| احمد رضا خان | مُردے ہیں زندہ نہیں اور انہیں خبر نہیں لوگ کب اٹھائے جایں گے |
| احمد علی | وہ تو مردے ہیں جن میں جان نہیں اور وہ نہیں جانتے کہ لوگ کب اٹھائے جائیں گے |
| فتح جالندھری | لاشیں ہیں بےجان۔ ان کو یہ بھی تو معلوم نہیں کہ اٹھائے کب جائیں گے |
| طاہر القادری | (وہ) مُردے ہیں زندہ نہیں، اور (انہیں اتنا بھی) شعور نہیں کہ (لوگ) کب اٹھائے جائیں گے، |
| علامہ جوادی | وہ تو مفِدہ ہیں ان میں زندگی بھی نہیں ہے اور نہ انہیں یہ خبر ہے کہ مفِدے کب اٹھائے جائیں گے |
| ایم جوناگڑھی | مردے ہیں زنده نہیں، انہیں تو یہ بھی شعور نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے |
| حسین نجفی | وہ مردہ ہیں زندہ نہیں ہیں۔ انہیں تو یہ بھی خبر نہیں ہے کہ انہیں یا ان کے پجاریوں کو (دوبارہ) کب اٹھایا جائے گا؟ |
| M.Daryabadi: | Dead are they, not alive; and they perceive not when they will be raised up. |
| M.M.Pickthall: | (They are) dead, not living. And they know not when they will be raised. |
| Saheeh International: | They are, [in fact], dead, not alive, and they do not perceive when they will be resurrected. |
| Shakir: | Dead (are they), not living, and they know not when they shall be raised. |
| Yusuf Ali: | (They are things) dead, lifeless: nor do they know when they will be raised up. |
آیت کے متعلق اہم نقاط
آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے یعنی ایک عنوان یا بات ہے جو کہ تسلسل سے ہو رہی ہے
اللہ کے سوا کسی اور کو پکارنا
جو اس دنیا سے گذر چکا ہوتا ہے یعنی اُس کو موت آ چکی ہوتی ہے