Chapter No 13-پارہ نمبر    ‹           Joseph-12 سورت یوسف         ›Ayah No-96 ایت نمبر
| فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا١ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ١ۙۚ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ |
| آسان اُردو | پھرجب خوشخبری دینے والا آ یا تو اُس نے اس (قمیص) کو اُس(یعقوب ؑ) کے چہرے پر ڈالا پھر وہ دوبارہ ایک دیکھنے والا بن گیا (یعنی آنکھوں کی بینائی لوٹ آئی) اُس (یعقوب ؑ)نے کہا: کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ بےشک میں اللہ سے جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ہو؟ |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | پھر جب خوشخبری دینے والا پہنچ گیا تو اس نے (یوسف کی) قمیص ان کے منہ پر ڈال دی، اور فورا ان کی بینائی واپس آگئی۔ انہوں نے (اپنے بیٹوں سے) کہا : کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ اللہ کے بارے میں جتنا میں جانتا ہوں، تم نہیں جانتے ؟ |
| ابو الاعلی مودودی | > پھر جب خو ش خبری لانے والا آیا تو اس نے یوسفؑ کا قمیص یعقوبؑ کے منہ پر ڈال دیا اور یکا یک اس کی بینائی عود کر آئی تب اس نے کہا "میں تم سے کہتا نہ تھا؟ میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے" |
| احمد رضا خان | پھر جب خوشی سنانے والا آیا اس نے وہ کرتا یعقوب کے منہ پر ڈالا اسی وقت اس کی آنکھیں پھر آئیں (دیکھنے لگیں) کہ میں نہ کہتا تھا کہ مجھے اللہ کی وہ شانیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے |
| احمد علی | پھر جب خوشخبری دینے والا آیا اس نے وہ کرتہ اس کے منہ پر ڈال دیا تو بینا ہو گیا کہا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ میں الله کی طرف سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے |
| فتح جالندھری | جب خوشخبری دینے والا آ پہنچا تو کرتہ یعقوب کے منہ پر ڈال دیا اور وہ بینا ہو گئے (اور بیٹوں سے) کہنے لگے کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے |
| طاہر القادری | > پھر جب خوشخبری سنانے والا آپہنچا اس نے وہ قمیض یعقوب (علیہ السلام) کے چہرے پر ڈال دیا تو اسی وقت ان کی بینائی لوٹ آئی، یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا: کیا میں تم سے نہیں کہتا تھا کہ بیشک میں اﷲ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے، |
| علامہ جوادی | اس کے بعد جب بشیر نے آکر قمیض کو یعقوب کے چہرہ پر ڈال دیا تو دوبارہ صاحب هبصارت ہوگئے اور انہوں نے کہا کہ میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ میں خدا کی طرف سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ہو |
| ایم جوناگڑھی | جب خوشخبری دینے والے نے پہنچ کر ان کے منھ پر وه کرتا ڈاﻻ اسی وقت وه پھر سے بینا ہوگئے۔ کہا! کیا میں تم سے نہ کہا کرتا تھا کہ میں اللہ کی طرف سے وه باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے |
| حسین نجفی | پھر جب خوشخبری دینے والا آیا (اور) وہ قمیص ان کے چہرہ پر ڈالی تو وہ فوراً بینا ہوگئے اور کہا کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ |
| M.Daryabadi: | Then, when the bringer of the glad tidings came, he cast it upon his face and he became clear-sighted. He said: said I not unto you, verily I know from Allah that which ye know not. |
| M.M.Pickthall: | Then, when the bearer of glad tidings came, he laid it on his face and he became a seer once more. He said: Said I not unto you that I know from Allah that which ye know not? |
| Saheeh International: | And when the bearer of good tidings arrived, he cast it over his face, and he returned [once again] seeing. He said, "Did I not tell you that I know from Allah that which you do not know?" |
| Shakir: | So when the bearer of good news came he cast it on his face, so forthwith he regained his sight. He said: Did I not say to you that I know from Allah what you do not know? |
| Yusuf Ali: | Then when the bearer of the good news came, He cast (the shirt) over his face, and he forthwith regained clear sight. He said: "Did I not say to you, 'I know from Allah that which ye know not?'" |
آیت کے متعلق اہم نقاط
آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے یعنی ایک عنوان یا بات ہے جو کہ تسلسل سے ہو رہی ہے
یوسف ؑ کا قصہ
تاریخی ایت