Chapter No 10-پارہ نمبر    ‹       The Repentance-9 سورت التوبۃ ›Ayah No-93 ایت نمبر
| اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ وَ هُمْ اَغْنِیَآءُ١ۚ رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ١ۙ وَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ |
| آسان اُردو | الزام صرف ان لوگوں پرہے، جنہوں نے آپؐ سے رخصت مانگی اور وہ مالدار تھے وہ خوش تھے کہ وہ پیچھے(گھروں میں) رہنے والوں کے ساتھ ہوں اور اللہ نے اُن کے دلوں پر مہر لگا دی پھر وہ (کوئی چیز) جان ہی نہیں سکتے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | الزام تو ان لوگوں پر ہے جو مال دار ہونے کے باوجود تم سے اجازت مانگتے ہیں۔ وہ اس بات پر خوش ہیں کہ وہ پیچھے رہنے والی عورتوں میں شامل ہوگئے۔ اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے، اس لیے انہیں حقیقت کا پتہ نہیں ہے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | البتہ اعتراض ان لوگوں پر ہے جو مالدار ہیں اور پھر بھی تم سے درخواستیں کرتے ہیں کہ انہیں شرکت جہاد سے معاف رکھا جائے انہوں نے گھر بیٹھنے والیوں میں شامل ہونا پسند کیا اور اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا، اس لیے اب یہ کچھ نہیں جانتے (کہ اللہ کے ہاں ان کی روش کا کیا نتیجہ نکلنے والا ہے) |
| احمد رضا خان | مؤاخذہ تو ان سے ہے جو تم سے رخصت مانگتے ہیں اور وہ دولت مند ہیں انہیں پسند آیا کہ عورتوں کے ساتھ پیچھے بیٹھ رہیں اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کردی تو وہ کچھ نہیں جانتے |
| احمد علی | الزام ان لوگوں پر ہے جو دولتمند ہیں اورتم سے اجازت طلب کرتے ہیں اس بات سے وہ خوش ہیں کہ پیچھے رہنے والیوں کے ساتھ رہ جائیں اور الله نے ان کے دلوں پر مہر کر دی ہے پس وہ نہیں سمجھتے |
| فتح جالندھری | الزام تو ان لوگوں پر ہے۔ جو دولت مند ہیں اور (پھر) تم سے اجازت طلب کرتے ہیں (یعنی) اس بات سے خوش ہیں کہ عورتوں کے ساتھ جو پیچھے رہ جاتی ہیں (گھروں میں بیٹھ) رہیں۔ خدا نے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے پس وہ سمجھتے ہی نہیں |
| طاہر القادری | (الزام کی) راہ تو فقط ان لوگوں پر ہے جو آپ سے رخصت طلب کرتے ہیں حالانکہ وہ مال دار ہیں، وہ اس بات سے خوش ہیں کہ وہ پیچھے رہ جانے والی عورتوں اور معذوروں کے ساتھ رہیں اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے، سو وہ جانتے ہی نہیں (کہ حقیقی سود و زیاں کیا ہے)، |
| علامہ جوادی | الزام ان لوگوں پرہے جو غنی اور مالدار ہوکر بھی اجازت طلب کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پسماندہ لوگوں میں شامل ہوجائیں اور خدا نے ان کے دلوں پر مہرلگادی ہے اور اب کچھ جاننے والے نہیں ہیں |
| ایم جوناگڑھی | بیشک انہیں لوگوں پر راه الزام ہے جو باوجود دولتمند ہونے کے آپ سے اجازت طلب کرتے ہیں۔ یہ خانہ نشین عورتوں کا ساتھ دینے پر خوش ہیں اور ان کے دلوں پر مہر خداوندی لگ چکی ہے جس سے وه محض بے علم ہو گئے ہیں |
| حسین نجفی | ہاں البتہ الزام (اور اعتراض) ان لوگوں پر ہے کہ باوجود دولت مند ہونے کے آپ سے (بیٹھے رہنے کی) اجازت مانگتے ہیں انہوں نے اس بات کو پسند کیا کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ رہیں اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے اس لئے وہ کچھ جانتے بوجھتے نہیں ہیں۔ |
| M.Daryabadi: | The way is only against those who ask leave of thee while they are rich. They are pleased that they should be with the women sitters-at-home. Allah hath sealed up their hearts, so they know not. |
| M.M.Pickthall: | The road (of blame) is only against those who ask for leave of thee (to stay at home) when they are rich. They are content to be with the useless. Allah hath sealed their hearts so that they know not. |
| Saheeh International: | The cause [for blame] is only upon those who ask permission of you while they are rich. They are satisfied to be with those who stay behind, and Allah has sealed over their hearts, so they do not know. |
| Shakir: | The way (to blame) is only against those who ask permission of you though they are rich; they have chosen to be with those who remained behind, and Allah has set a seal upon their hearts so they do not know. |
| Yusuf Ali: | The ground (of complaint) is against such as claim exemption while they are rich. They prefer to stay with the (women) who remain behind: Allah hath sealed their hearts; so they know not (What they miss). |
آیت کے متعلق اہم نقاط
آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے یعنی ایک عنوان یا بات ہے جو کہ تسلسل سے ہو رہی ہے
پچھلی ایت میں جو عذاب الیم کا ذکر کیا گیا اور جن لوگوں کے لیے کیا گیا ہے ان میں سے کون لوگ اس سے بچ سکیں گے
تاریخی ایت: ایک ایسی آیت جس میں گذشتہ دور میں ہونے والے واقعات ہوتے ہیں
یہ ایت واضح کرتی ہے کہ پکڑ صرف ان لوگوں کی ہوگی جو مالدار تھے اور جہاد کر سکتے تھے مگر نہیں کرنا چاہتے تھے