Chapter No 10-پارہ نمبر    ‹       The Repentance-9 سورت التوبۃ ›Ayah No-92 ایت نمبر
| وَّ لَا عَلَى الَّذِیْنَ اِذَا مَاۤ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحْمِلُكُمْ عَلَیْهِ١۪ تَوَلَّوْا وَّ اَعْیُنُهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَؕ |
| آسان اُردو | اورنہ ہی اُن (لوگوں) پر (الزام)ہے ،جو آپؐ کے پاس آئے کہ آپؐ اُن کو سوار کرا دیں، تو آپؐ نے کہا: میرے پاس کچھ نہیں ہے کہ میں جس پر تمہیں سوار کروں وہ واپس ہوئے اور ان کی آنکھیں آنسوں سے بھری ہوئی تھیں، غم سے کہ وہ کچھ نہیں پاتے جو کہ وہ خرچ کرتے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | اور نہ ان لوگوں پر (کوئی گناہ ہے) جن کا حال یہ ہے کہ جب وہ تمہارے پاس اس غرض سے آئے کہ تم انہیں کوئی سواری مہیا کردو، اور تم نے کہا کہ : میرے پاس تو کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس پر میں تمہیں سوار کرسکوں۔ تو وہ اس حالت میں واپس گئے کہ ان کی آنکھیں اس غم میں آنسوؤں سے بہہ رہی تھیں کہ ان کے پاس خرچ کرنے کو کچھ نہیں ہے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | اسی طرح اُن لوگوں پر بھی کوئی اعتراض کا موقع نہیں ہے جنہوں نے خود آ کر تم سے درخواست کی تھی کہ ہمارے لیے سواریاں بہم پہنچائی جائیں، اور جب تم نے کہا کہ میں تمہارے لیے سواریوں کا انتظام نہیں کرسکتا تو وہ مجبوراً واپس گئے اور حال یہ تھا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور انہیں اس بات کا بڑا رنج تھا کہ وہ اپنے خرچ پر شریک جہاد ہونے کی مقدرت نہیں رکھتے |
| احمد رضا خان | اور نہ ان پر جو تمہارے حضور حاضر ہوں کہ تم انہیں سواری عطا فرماؤ تم سے یہ جواب پائیں کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں جس پر تمہیں سوار کروں اس پر یوں واپس جائیں کہ ان کی آنکھوں سے آنسو ابلتے ہوں اس غم سے کہ خرچ کا مقدور نہ پایا، |
| احمد علی | اور ان لوگو ں پر بھی کوئی گناہ نہیں کہ جب وہ تیرے پاس آئیں کہ انہیں سواری دے تو نے کہا میرے پاس کوئی چیز نہیں کہ تمہیں اس پر سوار کر دوں تو وہ لوٹ گئے اوراس غم سے کہ ان کے پاس خرچ موجود نہیں تھا ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے |
| فتح جالندھری | اور نہ ان (بےسروسامان) لوگوں پر (الزام) ہے کہ تمہارے پاس آئے کہ ان کو سواری دو اور تم نے کہا کہ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر تم کو سوار کروں تو وہ لوٹ گئے اور اس غم سے کہ ان کے پاس خرچ موجود نہ تھا، ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے |
| طاہر القادری | اور نہ ایسے لوگوں پر (طعنہ و الزام کی راہ ہے) جبکہ وہ آپ کی خدمت میں (اس لئے) حاضر ہوئے کہ آپ انہیں (جہاد کے لئے) سوار کریں (کیونکہ ان کے پاس اپنی کوئی سواری نہ تھی تو) آپ نے فرمایا: میں (بھی) کوئی (زائد سواری) نہیں پاتا ہوں جس پر تمہیں سوار کر سکوں، (تو) وہ (آپ کے اذن سے) اس حالت میں لوٹے کہ ان کی آنکھیں (جہاد سے محرومی کے) غم میں اشکبار تھیں کہ (افسوس) وہ (اس قدر) زادِ راہ نہیں پاتے جسے وہ خرچ کر سکیں (اور شریک جہاد ہو سکیں)، |
| علامہ جوادی | اور ان پر بھی کوئی الزام نہیں ہے جو آپ کے پاس آئے کہ انہیں بھی سواری پر لے لیجئے اور آپ ہی نے کہہ دیا کہ ہمارے پاس سواری کا انتظام نہیں ہے اور وہ آپ کے پاس سے اس عالم میں پلٹے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور انہیں اس بات کا رنج تھا کہ ان کے پاس راہ هخدا میں خرچ کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے |
| ایم جوناگڑھی | ہاں ان پر بھی کوئی حرج نہیں جو آپ کے پاس آتے ہیں کہ آپ انہیں سواری مہیا کر دیں تو آپ جواب دیتے ہیں کہ میں تو تمہاری سواری کے لئے کچھ بھی نہیں پاتا، تو وه رنج وغم سے اپنی آنکھوں سے آنسو بہاتے ہوئے لوٹ جاتے ہیں کہ انہیں خرچ کرنے کے لئے کچھ بھی میسر نہیں |
| حسین نجفی | اور نہ ہی ان لوگوں پر کوئی گناہ ہے جو آپ کے پاس آتے ہیں کہ آپ ان کے لئے سواری کا کوئی انتظام کریں۔ اور آپ نے کہا کہ میرے پاس سواری کے لئے کچھ نہیں ہے۔ تو وہ اس حال میں مجبوراً واپس گئے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اس رنج میں کہ ان کے پاس (راہِ خدا میں) خرچ کرنے کے لیے کچھ میسر نہیں ہے۔ |
| M.Daryabadi: | Nor on those who, when they came unto thee that thou mightest mount them and thou saidst: I find not any animal to mount you on, turned back while their eyes overflowed with tears for grief that they could not find ought to expend. |
| M.M.Pickthall: | Nor unto those whom, when they came to thee (asking) that thou shouldst mount them, thou didst tell: I cannot find whereon to mount you. They turned back with eyes flowing with tears, for sorrow that they could not find the means to spend. |
| Saheeh International: | Nor [is there blame] upon those who, when they came to you that you might give them mounts, you said, "I can find nothing for you to ride upon." They turned back while their eyes overflowed with tears out of grief that they could not find something to spend [for the cause of Allah]. |
| Shakir: | Nor in those who when they came to you that you might carry them, you said: I cannot find that on which to carry you; they went back while their eyes overflowed with tears on account of grief for not finding that which they should spend. |
| Yusuf Ali: | Nor (is there blame) on those who came to thee to be provided with mounts, and when thou saidst, "I can find no mounts for you," they turned back, their eyes streaming with tears of grief that they had no resources wherewith to provide the expenses. |
آیت کے متعلق اہم نقاط
آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے یعنی ایک عنوان یا بات ہے جو کہ تسلسل سے ہو رہی ہے
پچھلی ایت میں جو عذاب الیم کا ذکر کیا گیا اور جن لوگوں کے لیے کیا گیا ہے ان میں سے کون لوگ اس سے بچ سکیں گے
تاریخی ایت: ایک ایسی آیت جس میں گذشتہ دور میں ہونے والے واقعات ہوتے ہیں
اللہ کی راہ میں جہاد اور قتال کرنے کے لیے سواری اور بھی جس طرح کے سازوسامان پر خرچ ہو گا وہ فی سبیل اللہ ہو گا۔