اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 10-پارہ نمبر          The Repentance-9 سورت التوبۃ Ayah No-37 ایت نمبر

اِنَّمَا النَّسِیْٓءُ زِیَادَةٌ فِی الْكُفْرِ یُضَلُّ بِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُحِلُّوْنَهٗ عَامًا وَّ یُحَرِّمُوْنَهٗ عَامًا لِّیُوَاطِئُوْا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ فَیُحِلُّوْا مَا حَرَّمَ اللّٰهُ١ؕ زُیِّنَ لَهُمْ سُوْٓءُ اَعْمَالِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ
آسان اُردو (ایک حرمت والے مہینے کا) ملتوی کرنا صرف کفر میں ایک اضافہ ہے جس سے وہ لوگ گمراہ کئے جاتے ہیں جو کفر کرتے ہیں، وہ (کافرین) ایک سال میں تو اس (حرمت والے مہینہ) کو جائز اور( دوسرے) ایک سال اس کو ناجائز (حرام) قرار دیتے ہیں، تاکہ وہ (کافرین، مشرکین) گنتی پوری کریں جو اللہ نے حرام کیا ہے ،پھر وہ حلال کر لیں جو اللہ نے حرام کیاہے اُن کے اعمال کی برائی اُن کے لیے خوشنما بنا دی گئی ہے اوراللہ کافرین کی قوم کو ہدایت نہیں دیتا ہے
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی اور یہ نسیئ (یعنی مہینوں کو آگے پیچھے کردینا) تو کفر میں ایک مزید اضافہ ہے جس کے ذریعے کافروں کو گمراہ کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ اس عمل کو ایک سال حلال کرلیتے ہیں، اور ایک سال حرام قرار دے دیتے ہیں، تاکہ اللہ نے جو مہینے حرام کیے ہیں ان کی بس گنتی پوری کرلیں، اور (اس طرح) جو بات اللہ نے حرام قرار دی تھی اسے حلال سمجھ لیں۔ ان کی بدعملی ان کی نگاہ میں خوشنما بنادی گئی ہے، اور اللہ ایسے کافر لوگوں کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا۔
ابو الاعلی مودودی نسی تو کفر میں ایک مزید کافرانہ حرکت ہے جس سے یہ کافر لوگ گمراہی میں مبتلا کیے جاتے ہیں کسی سال ایک مہینے کو حلال کر لیتے ہیں اور کسی سال اُس کو حرام کر دیتے ہیں، تاکہ اللہ کے حرام کیے ہوئے مہینوں کی تعداد پوری بھی کر دیں اور اللہ کا حرام کیا ہوا حلال بھی کر لیں ان کے برے اعمال ان کے لیے خوشنما بنا دیے گئے ہیں اور اللہ منکرین حق کو ہدایت نہیں دیا کرتا
احمد رضا خان ان کا مہینے پیچھے ہٹانا نہیں مگر اور کفر میں بڑھنا اس سے کافر بہکائے جاتے ہیں ایک برس اسے حلال ٹھہراتے ہیں اور دوسرے برس اسے حرام مانتے ہیں کہ اس گنتی کے برابر ہوجائیں جو اللہ نے حرام فرمائی اور اللہ کے حرام کیے ہوئے حلال کرلیں، ان کے برے کا م ان کی آنکھوں میں بھلے لگتے ہیں، اور اللہ کافروں کو راہ نہیں دیتا،
احمد علی یہ مہینوں کا ہٹا دینا کفر میں اور ترقی ہے اس سے کا فر گمراہی میں پڑتے ہیں اس مہینے کو ایک برس تو حلال کر لیتے ہیں اور دوسرے برس اسے حرام رکھتے ہیں تاکہ ان بارہ مہینوں کی گنتی پوری کر لیں جنہیں الله نے عزت دی ہے پھر حلا ل کر لیتے ہیں جو الله نے حرام کیا ہے ان کے برے اعمال انھیں بھلے دکھائی دیتے ہیں اور الله کافروں کو ہدایت نہیں کرتا
فتح جالندھری امن کے کس مہینے کو ہٹا کر آگے پیچھے کر دینا کفر میں اضافہ کرتا ہے اس سے کافر گمراہی میں پڑے رہتے ہیں۔ ایک سال تو اس کو حلال سمجھ لیتے ہیں اور دوسرے سال حرام۔ تاکہ ادب کے مہینوں کو جو خدا نے مقرر کئے ہیں گنتی پوری کر لیں۔ اور جو خدا نے منع کیا ہے اس کو جائز کر لیں۔ ان کے برے اعمال ان کے بھلے دکھائی دیتے ہیں۔ اور خدا کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا
طاہر القادری (حرمت والے مہینوں کو) آگے پیچھے ہٹا دینا محض کفر میں زیادتی ہے اس سے وہ کافر لوگ بہکائے جاتے ہیں جو اسے ایک سال حلال گردانتے ہیں اور دوسرے سال اسے حرام ٹھہرا لیتے ہیں تاکہ ان (مہینوں) کا شمار پورا کر دیں جنہیں اللہ نے حرمت بخشی ہے اور اس (مہینے) کو حلال (بھی) کر دیں جسے اللہ نے حرام فرمایا ہے۔ ان کے لئے ان کے برے اعمال خوش نما بنا دیئے گئے ہیں اور اللہ کافروں کے گروہ کو ہدایت نہیں فرماتا،
علامہ جوادی محترم مہینوں میں تقدیم و تاخیر کفر میں ایک قسم کی زیادتی ہے جس کے ذریعہ کفاّر کو گمراہ کیا جاتا ہے کہ وہ ایک سال اسے حلال بنالیتے ہیں اور دوسرے سال حرام کردیتے ہیں تاکہ اتنی تعداد برابر ہوجائے جتنی خدا نے حرام کی ہے اور حرام هخدا حلال بھی ہوجائے -ان کے بدترین اعمال کو ان کی نگاہ میں آراستہ کردیا گیا ہے اور اللہ کافر قوم کی ہدایت نہیں کرتا ہے
ایم جوناگڑھی مہینوں کا آگے پیچھے کر دینا کفر کی زیادتی ہے اس سے وه لوگ گمراہی میں ڈالے جاتے ہیں جو کافر ہیں۔ ایک سال تو اسے حلال کر لیتے ہیں اور ایک سال اسی کو حرمت واﻻ کر لیتے ہیں، کہ اللہ نے جو حرمت رکھی ہے اس کے شمار میں تو موافقت کر لیں پھر اسے حلال بنا لیں جسے اللہ نے حرام کیا ہے انہیں ان کے برے کام بھلے دکھادیئے گئے ہیں اور قوم کفار کی اللہ رہنمائی نہیں فرماتا
حسین نجفی سوا اس کے نہیں ہے کہ نسیئی (حرمت والے مہینوں کو مؤخر کرنا) کفر میں زیادتی کا موجب ہے۔ اس سے وہ لوگ گمراہ کئے جاتے ہیں جو کافر ہیں۔ وہ اسے ایک سال حلال قرار دیتے ہیں اور اسی کو دوسرے سال حرام قرار دیتے ہیں تاکہ ان مہینوں کی گنتی پوری کریں جنہیں اللہ نے حرام کیا ہے تاکہ اس (حیلے) سے اللہ کی حرام کردہ کو اپنے لئے حلال قرار دیں۔ ان کے برے اعمال ان کے لئے آراستہ کر دیے گئے ہیں اور اللہ کافروں کو منزلِ مقصود تک نہیں پہنچاتا۔
=========================================
M.Daryabadi: The postponement is but an addition unto infidelity, whereby the infidels are led astray, allowing it one year and forbidding it anot her year, that they may make up the number which Allah hath sanctified; and then they allow that which Allah hath forbidden. Made fair-seeming unto them is the vileness of their works; and Allah guideth not an infidel people.
M.M.Pickthall: Postponement (of a sacred month) is only an excess of disbelief whereby those who disbelieve are misled; they allow it one year and forbid it (another) year, that they may make up the number of the months which Allah hath hallowed, so that they allow that which Allah hath forbidden. The evil of their deeds is made fairseeming unto them. Allah guideth not the disbelieving folk.
Saheeh International: Indeed, the postponing [of restriction within sacred months] is an increase in disbelief by which those who have disbelieved are led [further] astray. They make it lawful one year and unlawful another year to correspond to the number made unlawful by Allah and [thus] make lawful what Allah has made unlawful. Made pleasing to them is the evil of their deeds; and Allah does not guide the disbelieving people.
Shakir: Postponing (of the sacred month) is only an addition in unbelief, wherewith those who disbelieve are led astray, violating it one year and keeping it sacred another, that they may agree in the number (of months) that Allah has made sacred, and thus violate what Allah has made sacred; the evil of their doings is made fairseeming to them; and Allah does not guide the unbelieving people.
Yusuf Ali: Verily the transposing (of a prohibited month) is an addition to Unbelief: the Unbelievers are led to wrong thereby: for they make it lawful one year, and forbidden another year, in order to adjust the number of months forbidden by Allah and make such forbidden ones lawful. The evil of their course seems pleasing to them. But Allah guideth not those who reject Faith.
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
کافرین کی فطرت بیان کی گی ہے کہ وہ کسطرح اللہ کے بنائے ہوے قانون کا مذاق کرتے ہیں اور اُس قانون کو اپنی مرضی سے ادھر ادھر کر لیتے ہیں