Chapter No 10-پارہ نمبر    ‹       The Repentance-9 سورت التوبۃ ›Ayah No-36 ایت نمبر
| اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙ۬ فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِكِیْنَ كَآفَّةً كَمَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ كَآفَّةً١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ |
| آسان اُردو | بے شک! اللہ کے ہاں مہینوں کی گنتی اللہ کی کتاب میں بارہ مہینے ہے جس دن اُس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان (مہینوں)میں سے چار (مہینے یعنی ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم، رجب) احترام والے ہیں یہی صیح قانون(دین) ہے پس تم ان( مہینوں )میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کیا کرو اور مشرکین سے سب کے سب(اجتماعی طور پر) جنگ کرو جیسے کہ وہ سب کے سب تم سے جنگ کرتے ہیں اور جان لو کہ اللہ متقین کے ساتھ ہے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ مہینے ہے۔ جو اللہ کی کتاب (یعنی لوح محفوظ) کے مطابق اس دن سے نافذ چلی آتی ہے جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا۔ ان (بارہ مہینوں) میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں، یہی دین (کا) سیدھا سادہ (تقاضا) ہے، لہذا ان مہینوں کے معاملے میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو، اور تم سب ملکر مشرکوں سے اسی طرح لڑو جیسے وہ سب تم سے لڑتے ہیں، اور یقین رکھو کہ اللہ متقی لوگوں کے ساتھ ہے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | حقیقت یہ ہے کہ مہینوں کی تعداد جب سے اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اللہ کے نوشتے میں بارہ ہی ہے، اور ان میں سے چار مہینے حرام ہیں یہی ٹھیک ضابطہ ہے لہٰذا ان چار مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو اور مشرکوں سے سب مل کر لڑو جس طرح وہ سب مل کر تم سے لڑتے ہیں اور جان رکھو کہ اللہ متقیوں ہی کے ساتھ ہے |
| احمد رضا خان | بیشک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہے اللہ کی کتاب میں جب سے اس نے آسمان اور زمین بنائے ان میں سے چار حرمت والے ہیں یہ سیدھا دین ہے، تو ان مہینوں میں اپنی جان پر ظلم نہ کرو اور مشرکوں سے ہر وقت لڑو جیسا وہ تم سے ہر وقت لڑتے ہیں، اور جان لو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے |
| احمد علی | بے شک الله کے ہاں مہینوں کی گنتی بارہ مہینے ہیں الله کی کتاب میں جس دن سے الله نے زمین اور آسمان پیدا کیے ان میں سے چار عزت والے ہیں یہی سیدھا دین ہے سو ان میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو اور تم سب مشرکوں سے لڑو جیسے وہ سب تم سے لڑتے ہیں اور جان لو کہ الله پرہیزگاروں کے ساتھ ہے |
| فتح جالندھری | خدا کے نزدیک مہینے گنتی میں (بارہ ہیں یعنی) اس روز (سے) کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ کتاب خدا میں (برس کے) بارہ مہینے (لکھے ہوئے) ہیں۔ ان میں سے چار مہینے ادب کے ہیں۔ یہی دین (کا) سیدھا راستہ ہے۔ تو ان (مہینوں) میں (قتال ناحق سے) اپنے آپ پر ظلم نہ کرنا۔ اور تم سب کے سب مشرکوں سے لڑو جیسے وہ سب کے سب تم سے لڑتے ہیں۔ اور جان رکھو کہ خدا پرہیز گاروں کے ساتھ ہے |
| طاہر القادری | بیشک اللہ کے نزدیک مہینوں کی گنتی اللہ کی کتاب (یعنی نوشتۂ قدرت) میں بارہ مہینے (لکھی) ہے جس دن سے اس نے آسمانوں اور زمین (کے نظام) کو پیدا فرمایا تھا ان میں سے چار مہینے (رجب، ذو القعدہ، ذو الحجہ اور محرم) حرمت والے ہیں۔ یہی سیدھا دین ہے سو تم ان مہینوں میں (ازخود جنگ و قتال میں ملوث ہو کر) اپنی جانوں پر ظلم نہ کرنا اور تم (بھی) تمام مشرکین سے اسی طرح (جوابی) جنگ کیا کرو جس طرح وہ سب کے سب (اکٹھے ہو کر) تم سے جنگ کرتے ہیں، اور جان لو کہ بیشک اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے، |
| علامہ جوادی | بیشک مہینوں کی تعداد اللہ کے نزدیک کتابِ خدا میں اس دن سے بارہ ہے جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے -ان میں سے چار مہینے محترم ہیں اور یہی سیدھا اور مستحکم دین ہے لہٰذا خبردار ان مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرنا اور تمام مشرکین سے اسی طرح جہاد کرنا جس طرح وہ تم سے جنگ کرتے ہیں اور یہ یاد رکھنا کہ خدا صرف متقی اور پرہیزگار لوگوں کے ساتھ ہے |
| ایم جوناگڑھی | مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک کتاب اللہ میں باره کی ہے، اسی دن سے جب سے آسمان وزمین کو اس نے پیدا کیا ہے اس میں سے چار حرمت وادب کے ہیں۔ یہی درست دین ہے، تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ﻇلم نہ کرو اور تم تمام مشرکوں سے جہاد کرو جیسے کہ وه تم سب سے لڑتے ہیں اور جان رکھو کہ اللہ تعالی متقیوں کے ساتھ ہے |
| حسین نجفی | بے شک اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد نوشتہ خداوندی میں جب سے اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے بارہ ہے، جن میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں۔ یہی دینِ مستقیم ہے۔ پس ان میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو اور تمام مشرکین سے اسی طرح جنگ کرو جس طرح کہ وہ تم سب سے کرتے ہیں اور جان لو کہ بے شک اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔ |
| M.Daryabadi: | Verily the number of months with Allah is twelve months ordained in the writ of Allah on the day whereon He created the heavens and the earth; of these four sacred: that is the right religion. Wherefore wrong not yourselves in respect thereof. And fight the associators, all of them even as they fight all of you; and knew that Allah is with the God-fearing |
| M.M.Pickthall: | Lo! the number of the months with Allah is twelve months by Allah's ordinance in the day that He created the heavens and the earth. Four of them are sacred: that is the right religion. So wrong not yourselves in them. And wage war on all of the idolaters as they are waging war on all of you. And know that Allah is with those who keep their duty (unto Him). |
| Saheeh International: | Indeed, the number of months with Allah is twelve [lunar] months in the register of Allah [from] the day He created the heavens and the earth; of these, four are sacred. That is the correct religion, so do not wrong yourselves during them. And fight against the disbelievers collectively as they fight against you collectively. And know that Allah is with the righteous [who fear Him]. |
| Shakir: | Surely the number of months with Allah is twelve months in Allah's ordinance since the day when He created the heavens and the earth, of these four being sacred; that is the right reckoning; therefore be not unjust to yourselves regarding them, and fight the polytheists all together as they fight you all together; and know that Allah is with those who guard (against evil). |
| Yusuf Ali: | The number of months in the sight of Allah is twelve (in a year)- so ordained by Him the day He created the heavens and the earth; of them four are sacred: that is the straight usage. So wrong not yourselves therein, and fight the Pagans all together as they fight you all together. But know that Allah is with those who restrain themselves. |
آیت کے متعلق اہم نقاط
منفرد یا الگ آیت: ایک الگ بات یا موضوع کے بارے میں ہے
محکم: ایک ایسی ایت جس میں کوئی چیز کرنے یہ نہ کرنے کا حکم ہوتا ہے.کوئی ایت پوری کی پوری محکم ہو سکتی ہے یا مذکورہ ایت کا کوئی حصہ محکم ہو سکتا ہے
مشرکین سے جنگ کرنے کا اصول