Chapter No 11-پارہ نمبر    ‹       The Repentance-9 سورت التوبۃ ›Ayah No-120 ایت نمبر
| مَا كَانَ لِاَهْلِ الْمَدِیْنَةِ وَ مَنْ حَوْلَهُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ یَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ لَا یُصِیْبُهُمْ ظَمَاٌ وَّ لَا نَصَبٌ وَّ لَا مَخْمَصَةٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَطَئُوْنَ مَوْطِئًا یَّغِیْظُ الْكُفَّارَ وَ لَا یَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّیْلًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَۙ |
| آسان اُردو | مدینہ کے رہنے والوں کے لیے( جائز) نہیں اور(نہ ہی)جو اُن کے ارد گرد خانہ بدوش عربوں سے ہیں کہ وہ اللہ کے رسولؐ سے پیچھے (گھروں میں) رہ جائیں اور نہ ہی کہ وہ اپنی جانوں کو اُس (رسول اکرمؐ) کی جان سے زیادہ عزیز رکھیں یہ اسلیے ہے کہ بے شک نہ اُنہیں پیاس اورنہ مشقت اورنہ بھوک اللہ کی راہ میں لگتی ہے اور نہ ہی کوئی ایک قدم وہ آگے بڑھاتے ہیں جو کفار کو غصہ دلواتا ہے اور نہ ہی وہ دشمن سے کوئی فاہدہ لیتے ہیں، ماسوائے کہ اُن کے لیے اس(یعنی ایسا کرنے) سے ایک صالح (نیک) عمل لکھاجاتاہے بے شک! اللہ محسنین کا اجر ضائع نہیں کرتا ہے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | مدینہ کے باشندوں اور ان کے ارد گرد کے دیہات میں رہنے والوں کے لیے یہ جائز نہیں تھا کہ وہ اللہ کے رسول (کا ساتھ دینے سے) پیچھے رہیں، اور نہ یہ جائز تھا کہ وہ بس اپنی جان پیاری سمجھ کر ان کی (یعنی رسول اللہ ﷺ کی) جان سے بےفکر ہوبیٹھیں۔ یہ اس لیے کہ ان (مجاہدین) کو جب کبھی اللہ کے راستے میں پیاس لگتی ہے، یا تھکن ہوتی ہے، یا بھوک ستاتی ہے، یا وہ کوئی ایسا قدم اٹھاتے ہیں جو کافروں کو گھٹن میں ڈالے، یا دشمن کے مقابلے میں کوئی کامیابی حاصل کرتے ہیں تو ان کے اعمال نامے میں (ہر ایسے کام کے وقت) ایک نیک عمل ضرور لکھا جاتا ہے۔ یقین جانو کہ اللہ نیک لوگوں کے کسی عمل کو بیکار جانے نہیں دیتا۔ |
| ابو الاعلی مودودی | مدینے کے باشندوں اور گرد و نواح کے بدویوں کو یہ ہرگز زبیا نہ تھا کہ اللہ کے رسول کو چھوڑ کر گھر بیٹھ رہتے اور اس کی طرف سے بے پروا ہو کر اپنے اپنے نفس کی فکر میں لگ جاتے اس لیے کہ ایسا کبھی نہ ہوگا کہ اللہ کی راہ میں بھوک پیاس اور جسمانی مشقت کی کوئی تکلیف وہ جھیلیں، اور منکرین حق کو جو راہ ناگوار ہے اُس پر کوئی قدم وہ اٹھائیں، اور کسی دشمن سے (عداوت حق کا) کا کوئی انتقام وہ لیں اور اس کے بدلے ان کے حق میں ایک عمل صالح نہ لکھا جائے یقیناً اللہ کے ہاں محسنوں کا حق الخدمت مارا نہیں جاتا ہے |
| احمد رضا خان | مدینہ والوں اور ان کے گرد دیہات والوں کو لائق نہ تھا کہ رسول اللہ سے پیچھے بیٹھ رہیں اور نہ یہ کہ ان کی جان سے اپنی جان پیاری سمجھیں یہ اس لیے کہ انہیں جو پیاس یا تکلیف یا بھوک اللہ کی راہ میں پہنچتی ہے اور جہاں ایسی جگہ قدم رکھتے ہیں جس سے کافروں کو غیظ آئے اور جو کچھ کسی دشمن کا بگاڑتے ہیں اس سب کے بدلے ان کے لیے نیک عمل لکھا جاتا ہے بیشک اللہ نیکوں کا نیگ (اجر) ضائع نہیں کرتا، |
| احمد علی | مدینہ والوں اور ان کے آس پاس دیہات کے رہنے والوں کو یہ مناسب نہیں تھا کہ الله کے رسول سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو اس کی جان سے زیادہ عزیز سمجھیں یہ اس لیے ہے کہ انہیں الله کی راہ میں جو تکلیف پہنچتی ہے پیاس کی یا ماندگی کی یا بھوک کی یاہ وہ ایسی جگہ چلتے ہیں جو کافروں کے غصہ کو بھڑکائے اور یا کافروں سے کوئی چیز چھین لیتے ہیں ہر بات پر ان کے لیے عمل صالح لکھا جاتا ہے بے شک الله نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا |
| فتح جالندھری | اہل مدینہ کو اور جو ان کے آس پاس دیہاتی رہتے ہیں ان کو شایاں نہ تھا کہ پیغمبر خدا سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو ان کی جان سے زیادہ عزیز رکھیں۔ یہ اس لیے کہ انہیں خدا کی راہ میں تکلیف پہنچتی ہے پیاس کی، محنت کی یا بھوک کی یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں کہ کافروں کو غصہ آئے یا دشمنوں سے کوئی چیز لیتے ہیں تو ہر بات پر ان کے لیے عمل نیک لکھا جاتا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا |
| طاہر القادری | اہلِ مدینہ اور ان کے گرد و نواح کے (رہنے والے) دیہاتی لوگوں کے لئے مناسب نہ تھا کہ وہ رسول اﷲ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے (الگ ہو کر) پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ ان کی جانِ (مبارک) سے زیادہ اپنی جانوں سے رغبت رکھیں، یہ (حکم) اس لئے ہے کہ انہیں اﷲ کی راہ میں جو پیاس (بھی) لگتی ہے اور جو مشقت (بھی) پہنچتی ہے اور جو بھوک (بھی) لگتی ہے اور جو کسی ایسی جگہ پر چلتے ہیں جہاں کاچلنا کافروں کو غضبناک کرتا ہے اور دشمن سے جو کچھ بھی پاتے ہیں (خواہ قتل اور زخم ہو یا مالِ غنیمت وغیرہ) مگر یہ کہ ہر ایک بات کے بدلہ میں ان کے لئے ایک نیک عمل لکھا جاتا ہے۔ بیشک اللہ نیکوکاروں کا اَجر ضائع نہیں فرماتا، |
| علامہ جوادی | اہل مدینہ یا اس کے اطراف کے دیہاتیوں کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ رسول خدا سے الگ ہوجائیں یا اپنے نفس کو ان کے نفس سے زیادہ عزیز سمجھیں اس لئے کہ انہیں کوئی پیاسً تھکن یا بھوک راہ هخدا میں نہیں لگتی ہے اور نہ وہ کّفار کے دل رَکھانے والا کوئی قدم اٹھاتے ہیں نہ کسی بھی دشمن سے کچھ حاصل کرتے ہیں مگر یہ کہ ان کے عمل نیک کو لکھ لیا جاتا ہے کہ خدا کسی بھی نیک عمل کرنے والے کے اجر و ثواب کو ضائع نہیں کرتا ہے |
| ایم جوناگڑھی | مدینہ کے رہنے والوں کو اور جو دیہاتی ان کے گردوپیش ہیں ان کو یہ زیبا نہ تھا کہ رسول اللہ کو چھوڑ کر پیچھے ره جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جان کو ان کی جان سے عزیز سمجھیں، یہ اس سبب سے کہ ان کو اللہ کی راه میں جو پیاس لگی اور جو تکان پہنچی اور جو بھوک لگی اور جو کسی ایسی جگہ چلے جو کفار کے لیے موجب غیﻆ ہوا ہو اور دشمنوں کی جو کچھ خبر لی، ان سب پر ان کے نام (ایک ایک) نیک کام لکھا گیا۔ یقیناً اللہ تعالیٰ مخلصین کا اجر ضائع نہیں کرتا |
| حسین نجفی | مدینہ کے باشندوں اور صحرائی عربوں کے لیے یہ درست نہیں ہے کہ پیغمبر خدا کا ساتھ چھوڑ کر پیچھے بیٹھیں۔ اور ان کی جان کی پرواہ نہ کرکے اپنی جانوں کی فکر میں لگ جائیں یہ اس لیے ہے کہ ان (مجاہدین) کو راہ خدا میں (جو بھی مصیبت پیش آتی ہے۔ وہ خواہ) پیاس ہو، جسمانی زحمت و مشقت ہو، بھوک ہو۔ یا کسی ایسے راستہ پر چلنا جو کافروں کے غم و غصہ کا باعث ہو یا دشمن کے مقابلہ میں کوئی کامیابی حاصل کرنا مگر یہ کہ ان تمام تکلیفوں کے عوض ان کے لیے ان کے نامۂ اعمال میں نیک عمل لکھا جاتا ہے یقینا اللہ نیکوکاروں کا اجر و ثواب ضائع نہیں کرتا۔ |
| M.Daryabadi: | It was not for the people of Madina and those around them of the desert dwellers that they should lay behind the apostle of Allah, nor that they should prefer themselves before him. That is because there afflicteth them not thirst or fatigue or hunger in the way of Allah or they tread a place trodden on enraging the infidels, nor they attain an attainment from the enemy, but a good deed is thereby written down unto them. Verily Allah wasteth not the hire of the well-doers. |
| M.M.Pickthall: | It is not for the townsfolk of Al-Madinah and for those around them of the wandering Arabs so stay behind the messenger of Allah and prefer their lives to his life. That is because neither thirst nor toil nor hunger afflicteth them in the way of Allah, nor step they any step that angereth the disbelievers, nor gain they from the enemy a gain, but a good deed is recorded for them therefor. Lo! Allah loseth not the wages of the good. |
| Saheeh International: | It was not [proper] for the people of Madinah and those surrounding them of the bedouins that they remain behind after [the departure of] the Messenger of Allah or that they prefer themselves over his self. That is because they are not afflicted by thirst or fatigue or hunger in the cause of Allah, nor do they tread on any ground that enrages the disbelievers, nor do they inflict upon an enemy any infliction but that is registered for them as a righteous deed. Indeed, Allah does not allow to be lost the reward of the doers of good. |
| Shakir: | It did not beseem the people of Medina and those round about them of the dwellers of the desert to remain behind the Apostle of Allah, nor should they desire (anything) for themselves in preference to him; this is because there afflicts them not thirst or fatigue or hunger in Allah's way, nor do they tread a path which enrages the unbelievers, nor do they attain from the enemy what they attain, but a good work is written down to them on account of it; surely Allah does not waste the reward of the doers of good; |
| Yusuf Ali: | It was not fitting for the people of Medina and the Bedouin Arabs of the neighbourhood, to refuse to follow Allah's Messenger, nor to prefer their own lives to his: because nothing could they suffer or do, but was reckoned to their credit as a deed of righteousness,- whether they suffered thirst, or fatigue, or hunger, in the cause of Allah, or trod paths to raise the ire of the Unbelievers, or received any injury whatever from an enemy: for Allah suffereth not the reward to be lost of those who do good;- |
آیت کے متعلق اہم نقاط
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
تاریخی ایت ہے
مدینہ کے رہنے والے اور ارد گرد کے خانہ بدوش عربی