Chapter No 9-پارہ نمبر    ‹       The Heights-7 سورت الاعراف ›Ayah No-96 ایت نمبر
| وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ |
| آسان اُردو | اور اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور تقوی کرتے، تو واقعی ہم اُن پر آسمان اور زمین سے برکت کھول دیتے لیکن اُنہوں نے(ہر رسول کو) جھٹلایا پھر ہم نے اُن کو جکڑ لیااُس وجہ سے جو وہ (عمل) کمایا کرتے تھے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | اور اگر یہ بستیوں والے ایمان لے آتے اور تقوی اختیار کرلیتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین دونوں طرف سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔ لیکن انہوں نے (حق کو) جھٹلایا، اس لیے ان کی مسلسل بدعملی کی پاداش میں ہم نے ان کو اپنی پکڑ میں لے لیا۔ |
| ابو الاعلی مودودی | اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھو ل دیتے، مگر اُنہوں نے تو جھٹلایا، لہٰذا ہم نے اُس بری کمائی کے حساب میں انہیں پکڑ لیا جو وہ سمیٹ رہے تھے |
| احمد رضا خان | اور اگر بستیو ں والے ایمان لاتے اور ڈرتے تو ضرور ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتیں کھول دیتے مگر انہوں نے تو جھٹلایا تو ہم نے انہیں ان کے کیے پر گرفتار کیا |
| احمد علی | اور اگر بستیوں والے ایمان لے آتے اور ڈرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے نعمتوں کے دروازے کھول دیتے لیکن انہوں نے جھٹلایا پھر ہم نے ان کے اعمال کے سبب سے گرفت کی |
| فتح جالندھری | اگر ان بستیوں کے لوگ ایمان لے آتے اور پرہیزگار ہوجاتے۔ تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکات (کے دروازے) کھول دیتے مگر انہوں نے تو تکذیب کی۔ سو ان کے اعمال کی سزا میں ہم نے ان کو پکڑ لیا |
| طاہر القادری | اور اگر (ان) بستیوں کے باشندے ایمان لے آتے اور تقوٰی اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتیں کھول دیتے لیکن انہوں نے (حق کو) جھٹلایا، سو ہم نے انہیں ان اَعمالِ (بد) کے باعث جو وہ انجام دیتے تھے (عذاب کی) گرفت میں لے لیا، |
| علامہ جوادی | اور اگر اہل قریہ ایمان لے آتے اور تقوٰی اختیار کرلیتے تو ہم ان کے لئے زمین اور آسمان سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے لیکن انہوں نے تکذیب کی تو ہم نے ان کو ان کے اعمال کی گرفت میں لے لیا |
| ایم جوناگڑھی | اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے لیکن انہوں نے تکذیب کی تو ہم نے ان کے اعمال کی وجہ سے ان کو پکڑ لیا |
| حسین نجفی | اور اگر ان بستیوں کے باشندے ایمان لاتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔ لیکن انہوں نے جھٹلایا۔ لہٰذا ہم نے ان کو ان کے کرتوتوں کی پاداش میں پکڑ لیا۔ |
| M.Daryabadi: | And had the people of those townships believed and feared, We would of a surety have opened up to them blessings from the heavens and the earth; but they belied, wherefore We laid hold of them for that which they had been earning. |
| M.M.Pickthall: | And if the people of the townships had believed and kept from evil, surely We should have opened for them blessings from the sky and from the earth. But (unto every messenger) they gave the lie, and so We seized them on account of what they used to earn. |
| Saheeh International: | And if only the people of the cities had believed and feared Allah, We would have opened upon them blessings from the heaven and the earth; but they denied [the messengers], so We seized them for what they were earning." |
| Shakir: | And if the people of the towns had believed and guarded (against evil) We would certainly have opened up for them blessings from the heaven and the earth, but they rejected, so We overtook them for what they had earned. |
| Yusuf Ali: | If the people of the towns had but believed and feared Allah, We should indeed have opened out to them (All kinds of) blessings from heaven and earth; but they rejected (the truth), and We brought them to book for their misdeeds. |
آیت کے متعلق اہم نقاط
آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے یعنی ایک عنوان یا بات ہے جو کہ تسلسل سے ہو رہی ہے
اللہ باری تعالی کا طریقہ
اللہ باری تعالی کا طریقہ کہ وہ لوگوں کے ساتھ کسطرح کرتا ہے