اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 8-پارہ نمبر          The Heights-7 سورت الاعراف Ayah No-53 ایت نمبر

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِیْلَهٗ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ تَاْوِیْلُهٗ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ۚ فَهَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَآءَ فَیَشْفَعُوْا لَنَاۤ اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ قَدْ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ
آسان اُردو کیا وہ انتظار کرتے ہیں ماسوائے اس ( سزا کے وعدہ ) کے پورا ہونے کو؟ (اُس) دن جب اس کا انجام آ جائے گا ، تو کہیں گے وہ لوگ جنہوں نے پہلے تو اُس کو بھلایا ہوا ہوگا (کہ) واقعی: ہمارے رب کے رسول سچائی سے آئے!پھر کیا ہمارے لیے کوئی شفاعت (سفارش) کرنے والے ہیں، پس جو ہمارے لیے شفاعت کریں؟ یا ہم واپس (دنیاوی زندگی میں )ہو سکتے ہیں تو پھر ہم (عمل) کریں اُن( اعمال )کے برعکس جوہم (پہلے) کیا کرتے تھے؟ واقعی اُنہوں نے خود اپنی جانوں کا خسارہ کیا اور جاتا رہا اُن سے جو وہ گھڑا (بنایا) کرتے تھے
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی (اب) یہ (کافر) اس آخری انجام کے سوا کس بات کے منتظر ہیں جو اس کتاب میں مذکور ہے ؟ (حالانکہ) جس دن وہ آخری انجام آگیا جو اس کتاب نے بتایا ہے، اس دن یہ لوگ جو اس انجام کو پہلے بھلا چکے تھے، یہ کہیں گے کہ : ہمارے پروردگار کے پیغمبر واقعی سچی خبر لائے تھے، اب کیا ہمیں کچھ سفارشی میسر آسکتے ہیں جو ہماری سفارش کریں، یا کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ ہمیں دوبارہ وہیں (دنیا میں) بھیج دیا جائے، تاکہ ہم جو (برے) کام پہلے کرتے رہے ہیں، ان کے برخلاف دوسرے (نیک) عمل کریں ؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی جانوں کے لیے سخت گھاٹے کا سودا کرچکے ہیں، اور جو (دیوتا) انہوں نے گھڑ رکھے ہیں، انہیں (اس دن) ان کا کہیں سراغ نہیں ملے گا۔
ابو الاعلی مودودی اب کیا یہ لوگ اِس کے سوا کسی اور بات کے منتظر ہیں کہ وہ انجام سامنے آ جائے جس کی یہ کتاب خبر دے رہی ہے؟ جس روز وہ انجام سامنے آ گیا وہی لوگ جنہوں نے اسے نظر انداز کر دیا تھا کہیں گے کہ "واقعی ہمارے رب کے رسول حق لے کر آئے تھے، پھر کیا اب ہمیں کچھ سفارشی ملیں گے جو ہمارے حق میں سفارش کریں؟ یا ہمیں دوبارہ واپس ہی بھیج دیا جائے تاکہ جو کچھ ہم پہلے کرتے تھے اس کے بجائے اب دوسرے طریقے پر کام کر کے دکھائیں" انہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈال دیا اور وہ سارے جھوٹ جو انہوں نے تصنیف کر رکھے تھے آج ان سے گم ہو گئے
احمد رضا خان کاہے کی راہ دیکھتے ہیں مگر اس کی کہ اس کتاب کا کہا ہوا انجام سامنے آئے جس دن اس کا بتایا انجام واقع ہوگا بول اٹھیں گے وہ جو اسے پہلے سے بھلائے بیٹھے تھے کہ بیشک ہمارے رب کے رسول حق لائے تھے تو ہیں کوئی ہمارے سفارشی جو ہماری شفاعت کریں یا ہم واپس بھیجے جائیں کہ پہلے کاموں کے خلاف کام کریں بیشک انہوں نے اپنی جانیں نقصان میں ڈالیں اور ان سے کھوئے گئے جو بہتان اٹھاتے تھے
احمد علی ان لوگو ں کے لیے ےجو ایمان لے آئے ہیں انہیں اور کسی بات کا انتظار نہیں صرف آخری نتیجہ کا انتظار ہے جس دن اس کا آخری نتیجہ سامنے آئے گا اس دن جو اسے پہلے بھولے ہوئے تھے کہیں گے کہ واقعی ہمارے رب کے رسول کی سچی باتیں لائے تھے سو اب کیا کوئی ہمارا سفارشی ہے جو ہماری سفارش کر ےیاکیا ہم پھر واپس بھیجے جا سکتے ہیں تاکہ ہم ان کے اعمال کے خلاف جنہیں کیا کرتے تھے دوسرے اعمال کریں بے شک انہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈا ل دیا اور جو باتیں بناتے تھے وہ سب گم ہو گئیں
فتح جالندھری کیا یہ لوگ اس کے وعدہٴ عذاب کے منتظر ہیں۔ جس دن وہ وعدہ آجائے گا تو جو لوگ اس کو پہلے سے بھولے ہوئے ہوں گے وہ بول اٹھیں گے کہ بےشک ہمارے پروردگار کے رسول حق لے کر آئے تھے۔ بھلا (آج) ہمارا کوئی سفارشی ہیں کہ ہماری سفارش کریں یا ہم (دنیا میں) پھر لوٹا دیئے جائیں کہ جو عمل (بد) ہم (پہلے) کرتے تھے (وہ نہ کریں بلکہ) ان کے سوا اور (نیک) عمل کریں۔ بےشک ان لوگوں نے اپنا نقصان کیا اور جو کچھ یہ افتراء کیا کرتے تھے ان سے سب جاتا رہا
طاہر القادری وہ صرف اس (کہی ہوئی بات) کے انجام کے منتظر ہیں، جس دن اس (بات) کا انجام سامنے آجائے گا وہ لوگ جو اس سے قبل اسے بھلا چکے تھے کہیں گے: بیشک ہمارے رب کے رسول حق (بات) لے کر آئے تھے، سو کیا (آج) ہمارے کوئی سفارشی ہیں جو ہمارے لئے سفارش کر دیں یا ہم (پھر دنیا میں) لوٹا دیئے جائیں تاکہ ہم (اس مرتبہ) ان (اعمال) سے مختلف عمل کریں جو (پہلے) کرتے رہے تھے۔ بیشک انہوں نے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا اور وہ (بہتان و افتراء) ان سے جاتا رہا جو وہ گھڑا کرتے تھے،
علامہ جوادی کیا یہ لوگ صرف انجام کار کا انتظار کررہے ہیں تو جس دن انجام سامنے آجائے گا تو جو لوگ پہلے سے اسے بھولے ہوئے تھے وہ کہنے لگیں گے کہ بیشک ہمارے پروردگار کے رسول صحیح ہی پیغام لائے تھے تو کیا ہمارے لئے بھی شفیع ہیں جو ہماری سفارش کریں یا ہمیں واپس کردیا جائے تو ہم جو اعمال کرتے تھے اس کے علاوہ دوسرے قسم کے اعمال کریں -درحقیقت ان لوگوں نے اپنے کو خسارہ میں ڈال دیا ہے اور ان کی ساری افترا پردازیاں غائب ہوگئی ہیں
ایم جوناگڑھی ان لوگوں کو اور کسی بات کا انتظار نہیں صرف اس کے اخیر نتیجہ کا انتظار ہے، جس روز اس کا اخیر نتیجہ پیش آئے گا اور اس روز جو لوگ اس کو پہلے سے بھولے ہوئے تھے یوں کہیں گے کہ واقعی ہمارے رب کے پیغمبر سچی سچی باتیں ﻻئے تھے، سو اب کیا کوئی ہمارا سفارشی ہے کہ وه ہماری سفارش کردے یا کیا ہم پھر واپس بھیجے جاسکتے ہیں تاکہ ہم لوگ ان اعمال کے، جن کو ہم کیا کرتے تھے برخلاف دوسرے اعمال کریں۔ بےشک ان لوگوں نے اپنے آپ کو خساره میں ڈال دیا اور یہ جو جو باتیں تراشتے تھے سب گم ہوگئیں
حسین نجفی کیا یہ لوگ اس (قرآن کی دھمکی) کے انجام کا انتظار کر رہے ہیں؟ (کہ سامنے آئے) حالانکہ جس دن اس کا انجام (سامنے) آئے گا تو وہی لوگ جنہوں نے پہلے اس کو بھلایا ہوگا کہیں گے بے شک ہمارے پروردگار کے رسول ہمارے پاس سچائی کے ساتھ آئے تھے تو کیا آج ہمارے لئے کچھ سفارشی ہیں؟ جو ہماری سفارش کریں یا (یہ ممکن ہے کہ) ہمیں دوبارہ واپس بھیج دیا جائے تاکہ جو کچھ ہم (پہلے) کیا کرتے تھے اس کے خلاف کچھ اور (نیک عمل) کریں؟ یقینا انہوں نے اپنے آپ کو خسارہ میں ڈال دیا اور وہ افترا پردازیاں جو وہ کیا کرتے تھے آج ان سے گم ہوگئیں۔
=========================================
M.Daryabadi: They await only its fulfilment. The Day whereon the fulfilment thereof arriveth, those who were negligent thereof afore shall say: surely the apostles of our Lord brought the truths; are there for us any intercessors that they might intercede for us? or could we be sent back that we may work otherwise than we were wont to work? Surely they have lost themselves, and there hath strayed from them that which they were wont to fabricate.
M.M.Pickthall: Await they aught save the fulfilment thereof? On the day when the fulfilment thereof cometh, those who were before forgetful thereof will say: The messengers of our Lord did bring the Truth! Have we any intercessors, that they may intercede for us? Or can we be returned (to life on earth), that we may act otherwise than we used to act? They have lost their souls, and that which they devised hath failed them.
Saheeh International: Do they await except its result? The Day its result comes those who had ignored it before will say, "The messengers of our Lord had come with the truth, so are there [now] any intercessors to intercede for us or could we be sent back to do other than we used to do?" They will have lost themselves, and lost from them is what they used to invent.
Shakir: Do they wait for aught but its final sequel? On the day when its final sequel comes about, those who neglected it before will say: Indeed the apostles of our Lord brought the truth; are there for us then any intercessors so that they should intercede on our behalf? Or could we be sent back so that we should do (deeds) other than those which we did? Indeed they have lost their souls and that which they forged has gone away from them.
Yusuf Ali: Do they just wait for the final fulfilment of the event? On the day the event is finally fulfilled, those who disregarded it before will say: "The messengers of our Lord did indeed bring true (tidings). Have we no intercessors now to intercede on our behalf? Or could we be sent back? then should we behave differently from our behaviour in the past." In fact they will have lost their souls, and the things they invented will leave them in the lurch.
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
کافرین کے بارے میں
ایت کو غور سے پڑھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ ہَ کی ضمیر جزا و سزا کے دن کی طرف ہے کیوں کہ لوگوں کی بے بسی کا عالم بیان کیا گیا جن میں کوئی واپسی ممکن نہیں