اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 8-پارہ نمبر          The Heights-7 سورت الاعراف Ayah No-46 ایت نمبر

وَ بَیْنَهُمَا حِجَابٌ١ۚ وَ عَلَى الْاَعْرَافِ رِجَالٌ یَّعْرِفُوْنَ كُلًّۢا بِسِیْمٰهُمْ١ۚ وَ نَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١۫ لَمْ یَدْخُلُوْهَا وَ هُمْ یَطْمَعُوْنَ
آسان اُردو اور اُن کے درمیان ایک پردہ ہو گا اور اونچائی پر (بیٹھے)آدمی ہیں وہ ہر کسی (جنت اور دوزخ والوں) کو ان کے نشانات سے پہچانتے ہیں اور وہ جنت کے ساتھیوں کو پکارتے ہیں:کہ تم پر سلام ہو! وہ ابھی اس (جنت) میں داخل نہیں ہوئے مگر وہ اُمید رکھتے ہیں
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی اور ان دونوں گروہوں (یعنی جنتیوں اور دوزخیوں) کے درمیان ایک آڑ ہوگی اور اعراف پر (یعنی اس آڑ کی بلندیوں پر) کچھ لوگ ہوں گے جو ہر گروہ کے لوگوں کو ان کی علامتوں سے پہچانتے ہوں گے۔ اور وہ جنت والوں کو آواز دے کر کہیں گے کہ : سلام ہو تم پر۔ وہ (اعراف والے) خود تو اس میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے، البتہ اشتیاق کے ساتھ امید لگائے ہوئے ہوں گے۔
ابو الاعلی مودودی ان دونوں گروہوں کے درمیان ایک اوٹ حائل ہوگی جس کی بلندیوں (اعراف) پر کچھ اور لوگ ہوں گے یہ ہر ایک کو اس کے قیافہ سے پہچانیں گے اور جنت والوں سے پکار کر کہیں گے کہ "سلامتی ہو تم پر" یہ لوگ جنت میں داخل تو نہیں ہوئے مگر اس کے امیدوار ہونگے
احمد رضا خان اور جنت و دوزخ کے بیچ میں ایک پردہ ہے اور اعراف پر کچھ مرد ہوں گے کہ دونوں فریق کو ان کی پیشانیوں سے پہچانیں گے اور وہ جنتیوں کو پکاریں گے کہ سلام تم پر یہ جنت میں نہ گئے اور اس کی طمع رکھتے ہیں،
احمد علی اور ان دونوں کے درمیان ایک دیوار ہو گی اور اعراف کے اوپر ایسے مرد ہوں گے کہ ہر ایک کو اس کی نشانی سے پہچان لیں گے اور جنت والوں کو پکار کر کہیں گے کہ تم پر سلام ہو وہ ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے اور امیدوار ہیں
فتح جالندھری ان دونوں (یعنی بہشت اور دوزخ) کے درمیان (اعراف نام) ایک دیوار ہو گی اور اعراف پر کچھ آدمی ہوں گے جو سب کو ان کی صورتوں سے پہچان لیں گے۔ تو وہ اہل بہشت کو پکار کر کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہ لوگ بھی بہشت میں داخل تو نہیں ہوں گے مگر امید رکھتے ہوں گے
طاہر القادری اور (ان) دونوں (یعنی جنتیوں اور دوزخیوں) کے درمیان ایک حجاب (یعنی فصیل) ہے، اور اَعراف (یعنی اسی فصیل) پر کچھ مرد ہوں گے جو سب کو ان کی نشانیوں سے پہچان لیں گے۔ اور وہ اہلِ جنت کو پکار کر کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ وہ (اہلِ اَعراف خود ابھی) جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے حالانکہ وہ (اس کے) امیدوار ہوں گے،
علامہ جوادی اور ان کے درمیان پردہ ڈال دیا جائے گا اور اعراف پر کچھ لوگ ہوں گے جو سب کو ان کی نشانیوں سے پہچان لیں گے اور اصحابِ جنّت کو آواز دیں گے کہ تم پر ہمارا سلام -وہ جنّت میں داخل نہ ہوئے ہوں گے لیکن اس کی خواہش رکھتے ہوں گے
ایم جوناگڑھی اور ان دونوں کے درمیان ایک آڑ ہوگی اور اعراف کے اوپر بہت سے آدمی ہوں گے وه لوگ، ہر ایک کو ان کے قیافہ سے پہچانیں گے اور اہل جنت کو پکار کر کہیں گے، السلام علیکم! ابھی یہ اہل اعراف جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے اور اس کے امیدوار ہوں گے
حسین نجفی اور ان دونوں (بہشت و دوزخ) کے درمیان پردہ ہے (حدِ فاصل ہے) اور اعراف پر کچھ لوگ ہوں گے جو ہر ایک کو اس کی علامت سے پہچان لیں گے۔ اور وہ بہشت والوں کو پکار کر کہیں گے کہ تم پر سلام ہو اور یہ لوگ (ابھی) اس میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے۔ حالانکہ وہ اس کی خواہش رکھتے ہوں گے۔
=========================================
M.Daryabadi: And betwixt the twain there will be a veil, and, on the heights will be men recognising them all by their mark, and they will cry unto the fellows of the Garden; peace be unto you! They will not have entered it yet, while they shall be longing.
M.M.Pickthall: Between them is a veil. And on the Heights are men who know them all by their marks. And they call unto the dwellers of the Garden: Peace be unto you! They enter it not although they hope (to enter).
Saheeh International: And between them will be a partition, and on [its] elevations are men who recognize all by their mark. And they call out to the companions of Paradise, "Peace be upon you." They have not [yet] entered it, but they long intensely.
Shakir: And between the two there shall be a veil, and on the most elevated places there shall be men who know all by their marks, and they shall call out to the dwellers of the garden: Peace be on you; they shall not have yet entered it, though they hope.
Yusuf Ali: Between them shall be a veil, and on the heights will be men who would know every one by his marks: they will call out to the Companions of the Garden, "peace on you": they will not have entered, but they will have an assurance (thereof).
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
اہل جنت کے بارے میں ہے جو وہ وہاں باتیں کریں گے
مستقبل کی بات یعنی مرنے کے بعد دوسری زندگی کے بارے میں بتایا گیا ہے