اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 8-پارہ نمبر          The Heights-7 سورت الاعراف Ayah No-24 ایت نمبر

قَالَ اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ
آسان اُردو اُس (اللہ) نے کہا: (یہاں سے ) نیچے چلے جاﺅ، تم سے بعض بعضوں کے لیے دشمن ہیں، اور تمہارے لیے زمین میں ٹھکانا اور سامان ایک مدت تک ہوگا
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی اللہ نے (آدم، ان کی بیوی اور ابلیس سے) فرمایا : اب تم سب یہاں سے اتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے اور تمہارے لیے ایک مدت تک زمین میں ٹھہرنا اور کسی قدر فائدہ اٹھانا (طے کردیا گیا) ہے۔
ابو الاعلی مودودی فرمایا، "اتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو، اور تمہارے لیے ایک خاص مدت تک زمین ہی میں جائے قرار اور سامان زیست ہے"
احمد رضا خان فرمایا اُترو تم میں ایک دوسرے کا دشمن ہے اور تمہیں زمین میں ایک وقت تک ٹھہرنا اور برتنا ہے،
احمد علی فرمایا یہاں سے اترو تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے اور تمہارے لیے زمین میں ٹھکانا ہے اور ایک وقت تک نفع اٹھانا ہے
فتح جالندھری (خدا نے) فرمایا (تم سب بہشت سے) اتر جاؤ (اب سے) تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لیے ایک وقت (خاص) تک زمین پر ٹھکانہ اور (زندگی کا) سامان (کر دیا گیا) ہے
طاہر القادری ارشادِ باری ہوا: تم (سب) نیچے اتر جاؤ تم میں سے بعض بعض کے دشمن ہیں، اور تمہارے لئے زمین میں معیّن مدت تک جائے سکونت اور متاعِ حیات (مقرر کر دیئے گئے ہیں گویا تمہیں زمین میں قیام و معاش کے دو بنیادی حق دے کر اتارا جا رہا ہے، اس پر اپنا نظامِ زندگی استوار کرنا)،
علامہ جوادی ارشاد ہوا کہ تم سب زمین میں اتر جاؤ اور سب ایک دوسرے کے دشمن ہو -زمین میں تمہارے لئے ایک مّدت تک ٹھکانا اور سامان زندگانی ہے
ایم جوناگڑھی حق تعالیٰ نے فرمایا کہ نیچے ایسی حالت میں جاؤ کہ تم باہم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے اور تمہارے واسطے زمین میں رہنے کی جگہ ہے اور نفع حاصل کرنا ہے ایک وقت تک
حسین نجفی ارشاد ہوا! تم دونوں (بہشت سے) نیچے اترو۔ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور ایک وقت معلوم تک تمہارا زمین میں ہی ٹھکانہ اور سامانِ زیست ہے۔
=========================================
M.Daryabadi: Allah said: get ye down, one of you an enemy unto anot her; and for you on the earth there shall be a habitation and provision for a season.
M.M.Pickthall: He said: Go down (from hence), one of you a foe unto the other. There will be for you on earth a habitation and provision for a while.
Saheeh International: [Allah] said, "Descend, being to one another enemies. And for you on the earth is a place of settlement and enjoyment for a time."
Shakir: He said: Get forth, some of you, the enemies of others, and there is for you in the earth an abode and a provision for a time.
Yusuf Ali: (Allah) said: "Get ye down. With enmity between yourselves. On earth will be your dwelling-place and your means of livelihood,- for a time."
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
اللہ باری تعالی کا فیصلہ
جنت سے نکال دینا